ویب سائٹ دی ہل کے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ رکنے کے بعد بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ناکامی کا ملبہ ڈالنے کے لیے کسی ’قربانی کے بکرے‘ کی تلاش میں ہیں۔
مضمون کے مصنف گس جوزف کے مطابق، جس جنگ کو ابتدا میں ’تیز اور فیصلہ کن‘ قرار دے کر پیش کیا گیا تھا، وہ اب عسکری اور سیاسی دونوں سطحوں پر ایک پیچیدہ صورت اختیار کر چکی ہے۔
مزید پڑھیں
مصنف نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں، خاص طور پر جب ان پر تنقید اور احتساب کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے بحرانوں میں ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں پر ذمہ داری ڈال کر دباؤ سے نکلتے رہے ہیں۔
اسی تناظر میں گس جوزف نے امکان ظاہر کیا کہ وزیرِ جنگ پیٹ
ہیگسیتھ اس ناکامی کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے نمایاں امیدوار ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ امریکی انتظامیہ میں جنگ کے حامیوں میں سرفہرست تھے، جبکہ دیگر بعض عہدیدار نسبتاً محتاط موقف رکھتے تھے۔
مضمون میں مزید بتایا گیا کہ ہیگسیتھ نے فوجی کارروائیوں کے بارے میں ایک خوش کن تصویر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جہاں کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر اور ایران کی صلاحیتوں کو کم تر دکھایا گیا، جس سے امریکی انتظامیہ کے اندازوں پر اثر پڑا۔
مصنف کے مطابق مسئلہ صرف فوجی کامیابیوں کی مبالغہ آمیزی تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ اندازے براہِ راست صدر تک اسی انداز میں پہنچائے گئے، جہاں بریفنگز زمینی حقائق کے بجائے زیادہ تر وہی باتیں بیان کرتی تھیں جو ٹرمپ سننا چاہتے تھے۔
گس جوزف نے کہا کہ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ جنگ کے دوران ٹرمپ کے بیانات میں تضاد نظر آیا، جہاں انہوں نے کئی بار ایران کی صلاحیتوں کو مکمل تباہ کرنے یا مختصر مدت میں جنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ امریکی وزیرِ جنگ نے ابتدا ہی سے صدر کی سوچ کے مطابق ’فوری فتح‘ کے بیانیے کو اپنایا اور بعض ایسے فیصلے کیے جن پر پینٹاگون میں تنازع پیدا ہوا۔
مضمون کے مطابق اس حکمت عملی نے امریکی فوج کے اندر کشیدگی کو جنم دیا، جہاں پیشہ ورانہ قیادت کی جانب سے ان اندازوں پر اعتراضات سامنے آئے جو میدان کی حقیقی پیچیدگیوں کی عکاسی نہیں کرتے تھے۔
امریکی میرین کور کے سابق فوجی مصنف نے کہا کہ اگرچہ جنگوں میں کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا عام بات ہے، مگر خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی بیانیہ سیاسی قیادت کے یقین کا حصہ بن جائے، جس کے نتیجے میں غلط معلومات پر مبنی فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پینٹاگون کو محتاط اندازوں پر مبنی ادارے کے بجائے ’فوری فتح‘ کے بیانیے کو فروغ دینے والا ذریعہ بنا دیا گیا۔
مضمون کے اختتام پر مصنف نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اس وقت ایک پیچیدہ صورت حال سے دوچار ہے، کیونکہ وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جن کی تشہیر کی گئی تھی، جس کے باعث اسے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ جنگ کے اثرات بدستور جاری ہیں۔