فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران کے پہلے میچ کے دوران لاس اینجلس کے سوفی اسٹیڈیم میں ایرانی قومی ترانے کے وقت بعض تماشائیوں کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد ایرانی کھلاڑی رامین رضائیان کا ردعمل توجہ کا مرکز بن گیا۔
ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے میچ سے قبل جب ایرانی قومی ترانہ بجایا گیا تو اسٹیڈیم میں موجود کچھ شائقین نے سیٹیاں بجا کر احتجاج کیا۔
اس دوران بعض افراد نے ایسے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی فٹبال ٹیم ایرانی عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔
Deafening mix of boos and cheers for the Iran national anthem. pic.twitter.com/7jjBNYhazf
— Ben Jacobs (@JacobsBen) June 16, 2026
میچ کے دوران اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں ترانے کے وقت احتجاجی آوازیں واضح طور پر سنی جا سکتی ہیں۔
اسٹیڈیم اور اس کے اطراف میں بعض افراد 1979 کے انقلاب سے قبل کے ایرانی پرچم بھی لہراتے دکھائی دیے۔
ایرانی قومی ٹیم کی ورلڈ کپ مہم ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب ملک حالیہ مہینوں میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور جنگی حالات کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسی پس منظر میں لاس اینجلس میں مقیم بعض ایرانی نژاد افراد نے حکومت مخالف مظاہرے بھی کیے۔
میچ کے بعد جب رامین رضائیان سے قومی ترانے کے دوران ہونے والے احتجاج کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے نہایت مختصر مگر سخت لہجے میں جواب دیا۔
رضائیان نے کہا کہ اگر ہمارے درمیان کوئی مسئلہ ہے تو وہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے، اس کا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کا احترام کرتا ہوں، لیکن یہ مسئلہ ہم خود حل کریں گے، آپ فکر نہ کریں۔
@fifaworldcup The equaliser from Mohebi 🇮🇷 Watch the #FIFAWorldCup ♬ NO FEAR! - ANDROMEDA & KVRXD
دلچسپ امر یہ ہے کہ احتجاج کے باوجود اسٹیڈیم میں موجود ایرانی شائقین کی بڑی تعداد نے اپنی قومی ٹیم کی بھرپور حمایت کی اور کھلاڑیوں کے حق میں زوردار نعرے بھی لگائے۔
فٹبال کے لحاظ سے ایران نے اپنے پہلے میچ میں دو مرتبہ خسارے میں جانے کے باوجود نیوزی لینڈ کے خلاف 2-2 سے ڈرا کیا۔
رامین رضائیان نے ایک گول کرنے اور ایک گول میں معاونت فراہم کرنے کے بعد میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔