کویت کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ریاستی سلامتی کے ادارے نے سیکیورٹی آپریشن انجام دیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور دہشت گرد تنظیموں و اداروں کی مالی معاونت کے منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا۔
کویتی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت نے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران 24 شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جس کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے۔
بيان (21) من وزارة الداخلية
— وزارة الداخلية (@Moi_kuw) April 11, 2026
قالَ اللّهِ تعالى:
(إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا) صدق الله العظيم
في عملية أمنية أسفرت عن إحباط مخطط يستهدف المساس بأمن الوطن وتمويل جهات وكيانات إرهابية، تمكن جهاز أمن الدولة من ضبط (24) مواطناً أحدهم ممن… pic.twitter.com/UP0qwHIKw3
ان کے قبضے سے غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق رقوم برآمد ہوئیں۔
اس کے علاوہ بیرونِ ملک فرار 8 شہریوں کی نشاندہی اور ان کا سراغ لگایا گیا، جن میں ایک کی شہریت بھی منسوخ ہو چکی ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ یہ سرگرمیاں ایک منظم نیٹ ورک کے تحت انجام دی جا رہی تھیں، جس میں مذہبی عنوانات کے تحت چندہ جمع کیا جاتا، اسے وصول کر کے محفوظ رکھا جاتا اور بعد ازاں بیرونِ ملک سے موصول ہونے والی ہدایات کے مطابق منتقل کرنے کی تیاری کی جاتی تھی۔
بیان کے مطابق یہ رقوم عوام کے اعتماد کی بنیاد پر جمع کی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ انہیں اعلان کردہ فلاحی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس کے باعث عطیہ دینے والوں نے نیک نیتی اور جائز مقاصد کے تحت یہ رقوم فراہم کیں۔
تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان رقوم کا اصل استعمال اعلان کردہ مقاصد سے ہٹ کر تھا اور انہیں غیر قانونی و مشتبہ اداروں کی طرف منتقل کیا گیا۔
اس طرح ذمہ دار افراد نے عوام کے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے رقوم کو ان کے اصل مقصد کے برعکس استعمال کیا۔
مزید یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے مالی رقوم کی ترسیل کے لیے تجارتی اور پیشہ ورانہ اداروں کو بطور پردہ استعمال کیا اور انہیں مختلف افراد میں تقسیم کر کے فضائی اور زمینی راستوں سے منتقل کیا جاتا تھا تاکہ شک و شبہ سے بچا جا سکے۔
وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے اور انہیں متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ دیگر ملوث افراد کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔
وزارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کی سلامتی کے خلاف کسی بھی سازش کو ناکام بنانے اور دہشت گرد عناصر کی ہر قسم کی معاونت روکنے کے لیے پوری سختی سے اقدامات جاری رکھے گی، اور قانون کی عملداری، قومی سلامتی اور استحکام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔