سعودی عرب کی آرامکو کی مشرق، مغرب پائپ لائن جسے پٹرولائن کہا جاتا ہے اب روزانہ 70 لاکھ بیرل کی مکمل صلاحیت سے کام کر رہی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے ہرمز کا راستہ بند ہونے کے بعد سعودی عرب نے بحیرہ احمر کی طرف اپنی تیل کی برآمدات بڑھانے کے لیے ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے۔
اس کے تحت تیل بردار جہازوں کے راستے دوبارہ ینبع بندرگاہ کی طرف موڑ دیے گئے تاکہ عالمی مارکیٹ کے لیے اہم سپلائی لائن قائم رہے۔
ماہرین کے مطابق ینبع کے ذریعے خام تیل کی برآمدات روزانہ تقریباً 5 لاکھ بیرل ہیں جبکہ سعودی عرب 70 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل روزانہ تیل کی مصنوعات بھی برآمد کر رہا ہے۔
پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 70 لاکھ بیرل میں سے تقریباً 20 لاکھ بیرل سعودی ریفائنریز کو جا رہے ہیں۔
یہ متبادل راستہ ہرمز کے بند ہونے سے پیدا ہونے والے خام تیل کی سپلائی میں کمی کا حصہ پورا کرتا ہے، جو جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 1.5 ملین بیرل خام تیل لے کر گزرتا تھا۔
یہ متبادل راستہ ایک اہم وجہ ہے کہ اس نے پچھلے سپلائی شاکس کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو بحران کے درجے تک بڑھنے سے روکا ہے۔