اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ایرانی جارحیت ناقابلِ قبول، خطے کے ممالک کا متحدہ سخت مؤقف

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوٹو: واس

ریاض میں منعقد ہونے والے مشاورتی وزارتی اجلاس کے بیان میں ایرانی حملوں کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران کی جانب سے ملیشیاؤں کی حمایت اور علاقائی امن کو غیر مستحکم کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ 

اجلاس میں شریک ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اپنی غلط پالیسیوں پر نظرثانی کرے کیونکہ حسنِ ہمسائیگی اور ریاستوں کی خودمختاری کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، جو سب سے پہلے خود ایران اور پھر پورے خطے کے امن پر اثر انداز ہوں گے اور اس کی قیمت بھی بھاری ہوگی جو خطے کے ممالک اور عوام کے ساتھ اس کے تعلقات پر گہرے اثرات ڈالے گی۔ 

ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں

انہوں نے واضح کیا کہ خطے کے ممالک اپنی صلاحیتوں کو لاحق خطرات پر خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دار الحکومت ریاض میں علاقائی وزارتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان، آذربائیجان، اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، ترکی، شام، قطر، کویت، لبنان اور مصر کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں نے شرکت کی۔ 

یہ اجلاس سعودی دعوت پر خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال اور خلیجی ممالک پر بڑھتے حملوں کے پیش نظر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے لیے منعقد کیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء نے ایران پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 (2026) پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، تمام حملے فوری طور پر بند کرے اور ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی بھی اشتعال انگیزی یا دھمکی سے گریز کرے۔ 

مزید برآں، ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عرب ممالک میں اپنی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی مالی، عسکری اور لاجسٹک مدد بند کرے جو ان ممالک کے مفادات کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

اس دوران شرکاء نے خلیجی تعاون کونسل کے ممالک، اردن، آذربائیجان اور ترکی پر ایرانی حملوں کا جائزہ لیا اور ان کی شدید مذمت کی۔ 

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے رہائشی علاقوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن میں تیل کی تنصیبات، پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس، ہوائی اڈے، رہائشی عمارتیں اور سفارتی مراکز شامل ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایسے حملوں کو کسی بھی جواز کے تحت قبول نہیں کیا جا سکتا، اور تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔