براہ راست نشریات

سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ میں شدت، آگے کیا ہوگا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
Saudi Houthi Conflict

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر دئے ہیں۔
محمد مبشر انوار اپنے کالم میں فضائی حملوں، یمنی فورسز کی کارروائیوں، حوثیوں کی مزاحمت اور سعودی عرب کو درپیش ممکنہ خطرات کا تجزیہ کرتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگی صورتحال میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور حوثی مسلسل سعودی عرب کے لیے ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ 

تقریباً ہر دوسرے روز ہی سعودی عرب کے کسی نہ کسی علاقے میں حوثیوں کے حملے جاری ہیں اور سعودی عرب اپنے پورے وسائل ان حملوں کو روکنے کے لیے بروئے کار لا رہا ہے تاکہ شہریوں اور اپنے اثاثوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

چند دن پہلے سعودی شہر نجران میں ایک سعودی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا تھا، جس کے متعلق حوثیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے حوثیوں نے اپنے ڈیفنس سسٹم سے تباہ کیا ہے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے کہا گیا کہ مذکورہ ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا ہے۔

🚨 سعودی عرب پر حملوں کی شدت

کالم کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو بار بار نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے سکیورٹی خدشات کو بڑھایا ہے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ سعودی عرب دفاعی وسائل استعمال کرکے شہریوں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اہم نکتہ: کسی حملے، نقصان یا دفاعی کارروائی کے بارے میں جنگی فریقوں کے دعووں اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حقائق میں فرق ضروری ہے۔

جنگ میں سب سے پہلا قتل ہی چونکہ سچ کا ہوتا ہے اور دوسری بات یہ کہ فریقین کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنا نقصان کم سے کم تسلیم کیا جائے، جبکہ فریقِ مخالف کے نقصان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔ 

اس واقعے میں بھی ایسی ہی صورتحال دکھائی دیتی ہے کہ حوثیوں کو بطور باغی گروہ دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا کہ ان کے پاس کوئی ایئر ڈیفنس سسٹم یا ریڈارز ہو سکتے ہیں، بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا، لیکن حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

یوں نظر آتا ہے کہ حوثی باغیوں کو ایسے وسائل میسر ہیں کہ وہ فضائی حملوں کو روک سکیں، گو کہ ان کا معیار ایک باقاعدہ فوج کی نسبت بہت کم ہو سکتا ہے، مگر اس امکان کو بہرحال رد نہیں کیا جا سکتا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب کی فضائی حدود، ماسوائے مکہ و مدینہ، بقول حوثیوں کے، ان کے لیے میدانِ جنگ ہیں۔ 

ان کی توجہ کا ایک بڑا مرکز دارالحکومت ریاض کا ایئرپورٹ ہے، جہاں یومیہ ساڑھے 7 سو کے قریب پروازیں آتی اور جاتی ہیں۔ 

اس ایئرپورٹ کو حوثیوں نے خصوصی طور پر نشانے پر رکھا ہوا ہے اور مسلسل اس پر حملے کئے جا رہے ہیں۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازوں کو فی الوقت معطل کر رکھا ہے، جبکہ جو پروازیں اس ایئرپورٹ پر اس صورتحال میں بھی چلائی جا رہی ہیں، ان میں نشستوں کا حصول اور کرایہ ایک الگ دردِ سر ہے۔ 

یہ بھی یقینی نہیں کہ جس دن کی ٹکٹ مسافر کے پاس ہے، اس دن پرواز اڑان بھی بھرے گی یا نہیں۔

🚁 نجران کا ہیلی کاپٹر — دو متضاد مؤقف

مصنف نے نجران میں سعودی ہیلی کاپٹر گرنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے دو مختلف مؤقف پیش کئے ہیں۔

حوثیوں کا دعویٰ: ہیلی کاپٹر کو ان کے دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔

سعودی مؤقف، کالم کے مطابق: حادثہ فنی خرابی کے باعث پیش آیا۔

کالم اس واقعے کو مثال بنا کر بتاتا ہے کہ جنگ کے دوران دونوں فریق عموماً اپنے نقصان کی نوعیت اور مخالف کے نقصان کے بارے میں الگ بیانیے دیتے ہیں۔ ان دعووں کی اس کارڈ میں آزاد تصدیق پیش نہیں کی جا رہی۔

یوں سعودی عرب نہ صرف اپنی فضائی حدود کے معمول کے استعمال میں مشکلات کا شکار ہے بلکہ اس سے ہونے والی آمدن بھی متاثر ہو رہی ہے۔ 

یقینی طور پر یہ صورتحال ہمیشہ کے لیے نہیں ہے، لیکن جب تک یہ صورتحال برقرار ہے، سعودی عرب کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

ایک پُرامن ملک، جس نے امریکا و ایران جنگ کے دوران فالس فلیگ آپریشنز پر بھی انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور کسی جلدبازی کا شکار ہو کر جنگ کا حصہ بننے سے خود کو بچائے رکھا، اس وقت حوثیوں کے نہ صرف نشانے پر ہے بلکہ اپنے دفاع کے لیے بتدریج جنگ کا حصہ بھی بن رہا ہے۔

دوسری طرف حوثیوں کی حیثیت عالمی سطح پر ایک باغی گروپ کے طور پر مسلمہ ہے اور ان کی یمن پر حکومت کرنے کی تمام تر کوششیں اس وقت ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ 

ان کے مدِمقابل اس وقت یمنی فورسز، اتحادی افواج کے ساتھ بھرپور طریقے سے حوثیوں کے خلاف بروئے کار آ رہی ہیں۔

✈️ ریاض ایئرپورٹ اور فضائی سفر

کالم میں ریاض کے ہوائی اڈے کو حوثیوں کی توجہ کا اہم مرکز قرار دیا گیا ہے اور فضائی سفر کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

مصنف کے مطابق پروازوں میں ممکنہ تعطل، ٹکٹوں کی دستیابی اور کرایوں میں اضافہ مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

مسافروں کے لیے رہنمائی: کسی بھی سفر سے پہلے متعلقہ ایئرلائن اور ہوائی اڈے کی تازہ سرکاری اطلاع دیکھیں؛ کالم میں درج صورتحال کو موجودہ فلائٹ اسٹیٹس نہ سمجھیں۔

گو کہ ماضی میں حوثیوں نے یمنی فورسز کو پیچھے بھی دھکیلا ہے اور سابق یمنی دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرکے یمنی فورسز کو پسپا اور دارالحکومت عدن منتقل کرنے پر مجبور کیا تھا، لیکن اس وقت یمنی فورسز ایک نئے عزم کے ساتھ میدان میں ہیں اور مسلسل حوثیوں کو پسپا کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔

اس کے باوجود صورتحال ایسی ہے کہ حوثی تمام تر پسپائی کے باوجود مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں اور جوابی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اتحادی افواج کے حملوں کو دیکھا جائے تو واضح نظر آ رہا ہے کہ ان کے حملوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے، مگر اس سے حاصل ہونے والے مقاصد کی شرح وہ نہیں جو ایسے حملوں کے بعد ملنی چاہئے۔

🛡️ حوثیوں کے فضائی دفاع کی صلاحیت؟

ہیلی کاپٹر کے واقعے کے حوالے سے مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا حوثیوں کے پاس ایسے وسائل ہیں جو فضائی اہداف کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

کالم کے مطابق کسی غیرریاستی مسلح گروہ کی دفاعی صلاحیت ایک منظم فوج سے کم ہوسکتی ہے، مگر اسے مکمل طور پر نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔

تجزیاتی نکتہ: ایک جنگی دعوے کی بنیاد پر مخصوص میزائل، ریڈار یا ایئر ڈیفنس سسٹم کی موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔

اس کی بنیادی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ ایک طرف ممکنہ طور پر اتحادی افواج کے پاس مصدقہ معلومات نہیں ہیں اور انہیں حوثیوں کے ٹھکانوں کے متعلق درست علم نہیں ہو رہا، یا حوثیوں نے خود کو اس طرح چھپا رکھا ہے کہ اتحادی افواج ان کی کیموفلاج کو توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔

فضائی سلامتی،
بین الاقوامی
پروازوں اور
اہم تنصیبات کو
بڑھتے خطرات
کے باعث جنگ
میں مزید
شدت کا خدشہ

تیسری صورت یہ بھی ہے کہ حوثی ایسی گنجان آباد جگہوں پر سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں جہاں کارروائی کرنے سے بے گناہ شہریوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگ سکتی ہیں، جس کے لیے اتحادی افواج تیار نہیں ہیں۔
حوثی چونکہ قبائلی پس منظر رکھتے ہیں اور ان کے زیادہ تر ٹھکانے پہاڑوں پر ہیں، اس لیے شنید ہے کہ جن پہاڑوں پر ان کی سکونت ہے، ان کی غاروں میں وہ خود کو اس طرح چھپا کر رکھتے ہیں کہ غاروں کے دہانوں پر بھی پہاڑوں جیسا رنگ کرکے انہیں نظروں سے اوجھل کر دیتے ہیں۔اس صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ ایسے ٹھکانوں کی درست نشاندہی ہو تاکہ ہدف کو صحیح نشانہ بنایا جا سکے۔
اتحادی افواج مسلسل پیش قدمی تو کر رہی ہیں، لیکن ان کی رفتار نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔
تاہم گزشتہ چند دنوں میں اتحادی افواج کی پیش قدمی میں واضح تیزی دکھائی دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حوثیوں کے اہم ترین ٹھکانوں اور اہداف کو نشانہ بنانے میں بھی بہتری نظر آ رہی ہے۔
ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد اتحادی افواج نے تقریباً 48 گھنٹوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر تین سو سے زائد فضائی حملے کئے، جن میں بڑی تعداد میں حوثی باغیوں کی ہلاکتوں اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
لیکن اس کارروائی کے باوجود حوثیوں کے حوصلے پست دکھائی نہیں دیتے۔

⚔️ یمنی فورسز کی پیش قدمی اور حوثیوں کی مزاحمت

مصنف یمن میں حکومتی فورسز اور اتحادی افواج کی کارروائیوں کے ساتھ حوثیوں کی جاری مزاحمت کا ذکر کرتے ہیں۔

کالم میں صنعاء پر حوثیوں کے سابقہ قبضے اور عدن کی جانب حکومتی ڈھانچے کی منتقلی کے پس منظر میں موجودہ لڑائی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

مرکزی سوال: اگر ایک فریق علاقوں میں پیش قدمی بھی کرے تو کیا مخالف کی جوابی کارروائیوں کی صلاحیت فوری طور پر ختم ہو جاتی ہے؟ مصنف کے مطابق ایسا ضروری نہیں۔

اس کا جواب دیتے ہوئے حوثیوں نے ایک طرف یمن کے علاقے شبوہ کی فوجی چھاؤنی میں نئے بھرتی ہونے والے زیرِ تربیت فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے 3 بیلسٹک میزائل داغے تو دوسری طرف سعودی عرب میں بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔

فوجی چھاؤنی پر گرنے والے بیلسٹک میزائلوں نے اپنے ہدف کو بھرپور طریقے سے نشانہ بنایا اور یہاں موجود زیرِ تربیت فوجیوں میں سے تقریباً 60 کو جاں بحق کیا، جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمیوں کی تصدیق بھی یمنی فورسز کے ایک عہدیدار نے کی ہے۔ اسلحے اور گولہ بارود کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔

حوثیوں کی اس کارروائی کو اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے اور اتحادی افواج کے لیے اسے سب سے بڑی اور کاری ضرب سمجھا جا رہا ہے، جس کا سامنا انہیں اس سے قبل نہیں کرنا پڑا تھا۔

بہرحال، حوثیوں کی اس کارروائی نے اتحادی افواج اور ان کی اہلیت پر ایک سوالیہ نشان ضرور کھڑا کیا، جس کا فوری اور بھرپور جواب بھی اتحادی افواج نے حوثیوں کو دیا ہے۔

⛰️ پہاڑی ٹھکانے کارروائیوں میں رکاوٹ کیوں؟

کالم میں حوثیوں کے ممکنہ پہاڑی ٹھکانوں، غاروں اور خفیہ پناہ گاہوں کو جنگی کارروائیوں کے لیے ایک مشکل عنصر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مصنف تین ممکنہ وجوہات بیان کرتے ہیں: نامکمل انٹیلی جنس، ٹھکانوں کی پردہ پوشی اور شہری آبادی کے نقصان کا خدشہ۔

ان وجوہات کو مصنف کے تجزیے کے طور پر سمجھنا چاہئے، کسی مخصوص ٹھکانے یا عسکری حکمت عملی کی تصدیق کے طور پر نہیں۔

خبریں یہ ہیں کہ اتحادی افواج کی جوابی کارروائی میں حوثیوں کے ایک اہم ترین ٹھکانے پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قبضہ کر لیا گیا ہے اور حوثیوں کو یہاں سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

اس ٹھکانے کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ وہی اہم ترین مقام ہے جہاں سے حوثی نہ صرف یمن بلکہ سعودی عرب پر بھی حملے کر رہے تھے۔

تعز صوبے میں جبل حبشی نامی پہاڑ کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حوثیوں کی زیادہ تر کارروائیاں اس پہاڑ پر موجود بیس سے کی جاتی رہی ہیں، جسے انتہائی کامیابی سے کیموفلاج رکھا گیا تھا۔

تاہم اتحادی افواج کی تازہ کارروائی میں ایک طرف ڈرونز استعمال کرتے ہوئے اس پہاڑی پر موجود حوثی باغیوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں توپ خانے کی مدد سے یہاں موجود افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

حملوں کی شدت کا اندازہ کرتے ہوئے اور انہیں روکنے میں ناکامی پر کئی باغی فرار بھی ہوئے ہیں، جس کے بعد اتحادی افواج نے یہاں پر اپنا پرچم لہرا کر جبل حبشی پر قبضہ کر لیا اور اسے حوثی باغیوں سے چھڑوا لیا ہے۔

علاوہ ازیں، ایک اور پہاڑی جبل بان کے متعلق بھی ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ پہاڑی بھی حوثیوں کے زیرِ تسلط رہی ہے اور اتحادی افواج نے 

کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اس پہاڑی کو بھی حوثیوں کے قبضے سے چھڑوا لیا ہے۔

ان اطلاعات کے بعد توقع یہی ہے کہ اتحادی افواج کے مؤقف کے مطابق حوثیوں کی کمر ٹوٹ چکی ہو گی اور اب وہ اتحادی افواج اور سعودی عرب کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے سے قاصر ہوں گے۔

✒
محمد مبشر انوار
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
←

اس کا اندازہ اگلے چند گھنٹوں میں ہی ہو جائے گا کہ کیا واقعی حوثیوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے یا ان کے پاس ایسے مزید ٹھکانے موجود ہیں جہاں سے وہ اپنی جوابی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

البتہ جبل حبشی اور جبل بان پر اتحادی افواج کے قبضے سے کم از کم یہ بات سامنے آتی ہے کہ اب اتحادی افواج کے پاس بھی حوثیوں کے حوالے سے بہتر اور درست معلومات پہنچ رہی ہیں اور وہ اپنی کارروائیوں میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔

اگر ان ٹھکانوں کے بعد حوثیوں کی جانب سے مزید مزاحمت نہیں ہوتی تو کہا جا سکتا ہے کہ حوثیوں کی کمر واقعی ٹوٹ چکی ہے، بصورتِ دیگر اس جنگ میں شدت کا امکان انتہائی واضح ہے، کیونکہ حوثی انتقام میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

تاہم اس جنگ کا سب سے زیادہ نقصان سعودی عرب کو ہو رہا ہے۔

ادارتی نوٹ
▼
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔