محمد مبشر انوار
سینئر تجزیہ نگار
پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی، تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور معاشی مشکلات کے پس منظر میں مصنف نے سیاسی قیادت کے رویوں پر سوالات اٹھائے ہیں اور معاملات کو تصادم کے بجائے مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
بحرانوں کی زرخیز سرزمین پاکستان اس وقت ایک اور شدید بحران سے گزر رہی ہے اور توقع تھی کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے مذاکرات کے دوران اس کا کوئی مثبت حل تلاش کرکے اس بحران کو ٹال لیں گے، مگر افسوس کہ مذاکرات کی یہ نشست گفتند، نشستند، برخاستند سے زیادہ کچھ نہیں نکلی۔
دو دن جاری رہنے والے مذاکرات حسبِ توقع ناکامی کا شکار ہوگئے، جس کے متعلق راقم نے اپنی گزشتہ تحریر ’مائی وے یا ہائی وے‘ میں لکھا تھا کہ حکومت ہر صورت اپوزیشن سے اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے اور اگر اپوزیشن کی جانب سے اتفاق نہ کیا گیا تو انتہائی اقدام بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
01 — 1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی
مصنف کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے دو روزہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے۔
اختلاف کی اہم وجوہات میں ممکنہ صوبائی آپریشن کی وضاحت اور عمران خان سے ملاقات کا معاملہ شامل تھا۔
لانگ مارچ اور حکومتی ردعمل کے باعث مصنف نے سیاسی تصادم کے خطرات پر تشویش ظاہر کی۔
کالم کا مرکزی مطالبہ ہے کہ دونوں جانب سے سیاسی حل اور مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔
مذاکرات کی ناکامی کی وجوہ منظرِ عام پر آچکی ہیں، جن میں حکومتی اور اپوزیشن کا مؤقف حسبِ توقع ہی رہا، لیکن اگر غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جائے تو اپوزیشن، جو نسبتاً کمزور ہوتی ہے، نے بہرحال اپنے مؤقف میں لچک دکھائی اور حکومت سے آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے ہی اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں
اپوزیشن کے مطالبات درحقیقت وہ حقوق ہی تھے جن کی ضمانت کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی قیدی کو آئین و قانون فراہم کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی دیکھیں کہ حکومت ان آئینی و قانونی حقوق کو بھی یقینی نہ بنا سکی۔
اس کی وجہ واضح ہے کہ حکومت کے پاس اس کا اختیار ہی نہیں کہ فارم 47 کی حکومت کو ہر قدم اٹھانے سے پہلے اور ہر فیصلہ کرنے سے پہلے مقتدرہ کی اجازت درکار ہے۔
اس کے بغیر یہ حکومت ایک قدم نہیں چل سکتی، وگرنہ یہ ممکن نہ تھا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوتے۔
دوسری اہم وجہ بھی انتہائی واضح ہے کہ موجودہ حکومت کی سیاسی
بلوغت بھی آشکار ہو چکی۔
اگر واقعی سیاسی ذہن ہوتے تو ایسی صورتحال کو زیادہ بہتر اور سیاسی انداز سے طے کیا جا سکتا تھا، مگر حکومت کا موجودہ رویہ بہرطور پسِ پردہ آمریت کو ظاہر کرتا دکھائی دیتا ہے۔
02 — مذاکرات کہاں آکر رکے؟
کالم کے مطابق اپوزیشن صوبے میں ممکنہ فوجی آپریشن یا آئینی اقدام کی نوعیت جاننا چاہتی تھی۔
مصنف لکھتے ہیں کہ حکومتی وفد نے غیر مشروط حمایت چاہی، مگر اس اقدام کی مطلوبہ وضاحت نہیں دی۔
اسی اختلاف نے مفاہمت کی گنجائش کو محدود کردیا۔
مذاکرات کی ناکامی میں ایک نکتہ، جس پر اپوزیشن کا وضاحت مانگنا اس کا حق تھا، سے انکار ناکامی کا سبب بنا۔
وہ نکتہ صوبے میں کسی بھی فوجی آپریشن یا آئینی اقدام کی وضاحت تھا کہ وفاقی حکومت کس قسم کا آپریشن یا آئینی اقدام کرنا چاہتی ہے۔
لیکن حکومت اس کی وضاحت نہ دینے پر بضد رہی اور مطالبہ کرتی رہی کہ وفاقی حکومت جو بھی اقدام کرے، صوبائی حکومت غیر مشروط طور پر اس کی تائید و حمایت کرے۔
دوسری طرف صوبائی حکومت، جو عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر آئی ہے اور اپنے صوبے اور عوام کے حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے، وہ نہیں چاہتی کہ صوبے میں ایسا کوئی بھی آپریشن یا اقدام ہو جو اس کی مشاورت کے بغیر ہو۔
لہٰذا معاملات معلق ہوگئے اور سیاسی مذاکرات کاروں کی ایک نہ چلی۔
03 — اپوزیشن کے بنیادی مطالبات
ممکنہ فوجی آپریشن یا آئینی اقدام کی پیشگی وضاحت کی جائے۔
صوبائی حکومت کی مشاورت اور آئینی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
اپوزیشن نمائندوں کو عمران خان سے ملاقات کی سہولت دی جائے۔
سیاسی معاملات کے حل کے لیے برابر مواقع پر مذاکرات ہوں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان اور تحریک انصاف کے وفد کی بے بسی دیکھنے لائق تھی کہ ایک طرف حکومتی وفد اور محسن نقوی اپنے قائدین کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور ان کی ہدایات لے رہے تھے، مگر اپوزیشن کے اس مطالبے پر کسی بھی طور حامی بھرنے کے لیے تیار نہیں تھے، بلکہ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ہی ملاقات کی یقین دہانی کروا رہے تھے۔
اگر واقعی
سیاسی ذہن ہوتے
تو ایسی صورتحال
کو زیادہ بہتر
اور سیاسی انداز
سے طے کیا
جا سکتا تھا
مراد اپنی شرائط زبردستی منوا کر ہی عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی کروا رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر صورت لانگ مارچ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
کیا مذاکرات اس طرح غیر مساوی مواقع پر ہوتے ہیں؟
حکومت کو اس کا خیال رکھنا چاہئے تھا، بشرطیکہ حکومت واقعی ان مذاکرات میں سنجیدہ اور نیک نیت ہوتی تو اس طرح غیر مساویانہ طرزِ عمل اختیار نہ کرتی۔
اڈیالہ جیل کے دروازے اگر نصف شب یا علی الصبح اپنی سہولت کے مطابق کھولے جا سکتے ہیں تو ملک و قوم کی خاطر اپوزیشن وفد سے مذاکرات کے دوران کھلنے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے تھی، لیکن آمرانہ ذہنیت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ بلاشبہ تحریک انصاف کی جانب سے کیا گیا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان 27 ستمبر کو کیا گیا تھا، مگر پسِ پردہ روابط کو مدنظر رکھتے ہوئے سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے مومنٹم کو داؤ پر لگاتے ہوئے اسے ایک ہفتے تک ملتوی کیا کہ ممکنہ طور پر مذاکرات کے راستے کوئی بہتر نتیجہ نکل آئے۔
مگر یہاں بھی حکومتی بدنیتی کے آثار ہی دکھائی دئیے کہ لانگ مارچ کا مومنٹم توڑنے کے لیے اس کو مؤخر کروایا گیا، لیکن حقیقی عوامی حمایت بہرحال تحریک انصاف اور سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہے اور لانگ مارچ تا دمِ تحریر پشاور پہنچ رہا ہے اور عوام کی بڑی تعداد اس میں شریک ہے۔
04 — حکومت کا مؤقف — کالم کے مطابق
وفاقی اقدام کی صوبائی سطح پر غیر مشروط حمایت مطلوب تھی۔
لانگ مارچ کی منسوخی کو مذاکرات میں پیش رفت سے جوڑا گیا۔
مصنف کے بیان کے مطابق عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دی جا رہی تھی۔
آج شام تک یہ لانگ مارچ صوابی یا خیرآباد پل تک پہنچے گا، جہاں سہیل آفریدی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
البتہ ابھی بھی امیدیں برقرار ہیں کہ عوام کا جمِ غفیر دیکھتے ہوئے یا حالات کا تقاضا سمجھتے ہوئے مذاکرات کا ڈول دوبارہ ڈالا جائے۔
اس امید کی وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں کشمیر انڈر پاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اگر اپوزیشن لانگ مارچ ’منسوخ‘ کردے تو مذاکرات دوبارہ ہو سکتے ہیں۔
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ لانگ مارچ اور دھرنوں کا پہلا نشانہ معیشت بنتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معاشی حالات پہلے ہی انتہائی دگرگوں ہیں، وہاں لانگ مارچ اور دھرنوں کا اثر معیشت پر ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کون سی معیشت اور کہاں کی معیشت؟
کیا پاکستان میں معیشت پہلے ہی زبوں حالی کا شکار نہیں ہے؟
05 — لانگ مارچ کا پس منظر
مصنف کے مطابق سہیل آفریدی نے ابتدا میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
مذاکرات کے امکان کے باعث مارچ ایک ہفتے کے لیے ملتوی کیا گیا۔
بعد میں مذاکرات ناکام ہونے پر مارچ آگے بڑھا؛ کالم میں اس کے پشاور اور صوابی کی سمت سفر کا ذکر ہے۔
یہ تمام تفصیل کالم کے وقت کی صورتحال بیان کرتی ہے، موجودہ مقام کی لائیو تصدیق نہیں۔
پاکستان تاریخ کی بدترین معاشی بدحالی سے گزر رہا ہے کہ اتنی خراب معیشت کبھی بھی پاکستان نے نہیں دیکھی تھی۔
اس وقت حالت یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ کار اور صنعت کار پاکستان سے اپنا سرمایہ اور صنعت دوسرے ممالک منتقل کر رہے ہیں۔
پاکستان میں ایک طرف امن و امان کی خراب صورتحال ہے، دوسری طرف غیر مستقل کاروباری پالیسیاں ہیں، تیسری طرف مقامی صنعت کاروں کے لیے مہنگی بجلی ہے، جو دورِ جدید میں ایک بنیادی ضرورت ہے، کوئی آسائش نہیں، اور اس کی فراہمی ہی صنعتی ترقی اور صنعتی پہیے کے چلنے کی ضامن ہے۔
یہ بجلی تسلسل کے ساتھ میسر بھی نہیں۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ چین کی مصنوعات مقامی منڈی میں مقامی صنعت کار کی پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر میسر ہیں۔
06 — ملاقات کا سوال اتنا اہم کیوں؟
مصنف کے نزدیک عمران خان سے ملاقات اپوزیشن وفد کے لیے مشاورت کا اہم ذریعہ تھی۔
وہ حکومتی وفد اور اپوزیشن وفد کو دستیاب رابطوں میں فرق کو مذاکرات کی غیر مساوی صورتحال قرار دیتے ہیں۔
یہ مصنف کا تجزیہ ہے؛ اسے کسی سرکاری تحقیق کا نتیجہ نہیں سمجھنا چاہئے۔
اس صورتحال میں یہ کیسے ممکن ہے کہ مقامی صنعت کار عالمی منڈی کا مقابلہ کر سکے؟
یہ عناصر تو مقامی صنعت کو زندہ درگور کر رہے ہیں اور مقامی مصنوعات میں عالمی منڈی کا مقابلہ کرنے کی سکت ہی باقی نہیں رہی۔
مزید پڑھیں
البتہ اس وقت پاکستان کی واحد پراڈکٹ جو عالمی منڈیوں میں میسر ہے، وہ افرادی قوت ہے، جبکہ وہ بھی متاثر ہونے کے قریب قریب ہے، گو کہ حکومت پاکستان کی جانب سے کچھ اقدامات ایسے کئے گئے ہیں جن سے افرادی قوت کی مانگ میں کمی نہ ہو سکے۔
بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، جہاں پاکستان کی زیادہ تر افرادی قوت کی مانگ رہی ہے، وہاں اب محنت کشوں کے حوالے سے بھی
پالیسیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور فقط جسمانی محنت ہی کافی نہیں رہی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دورِ جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت درکار ہے۔
اس کے لیے پاکستان میں تربیت کے مراکز قائم کئے گئے ہیں، مگر ان کی تعداد اتنی نہیں کہ وہ طلب کے مطابق بروئے کار آسکیں۔
بہرحال اس پس منظر میں شہباز شریف کا یہ کہنا کہ پاکستانی معیشت لانگ مارچ اور دھرنوں کی متحمل نہیں ہو سکتی، کسی حد تک قابلِ فہم ہے، لیکن ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود اگر یہ خاندان پاکستانی صنعت کو فروغ نہیں دے پایا تو اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ ان کی نظریں فقط اپنے ذاتی کاروبار کی ترقی پر مرکوز رہی ہیں۔
جبکہ پیشہ ور افراد کے بیرونِ ملک جانے کو فیلڈ مارشل نے ایک وقت میں برین ڈرین کی بجائے برین گین کا نام دیا تھا، مگر اس برین گین سے صرف ترسیلاتِ زر ہی حاصل ہوتی ہیں، جبکہ وہ پیشہ ورانہ مہارت جس کا فائدہ ریاستِ پاکستان کو اٹھانا ہے، وہ دوسرے ممالک اٹھا رہے ہیں۔
بہرحال سہیل آفریدی نے پہلے جس طرح 27 ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کرکے حکومت کو مذاکرات کا وقت دیا تھا، اب بھی لانگ مارچ کو بتدریج اسلام آباد کی طرف لاتے ہوئے مسلسل حکومت کو وقت دے رہے ہیں کہ کسی طرح حکومت حالات کا ادراک کرے اور معاملات کو منصفانہ طریقے سے ملک و قوم کی خاطر حل کرنے کا سوچے، جس سے ملک کشیدگی و تصادم سے بچے۔
08 — سیاسی کشیدگی اور معیشت
لانگ مارچ اور دھرنے کاروباری سرگرمیوں، نقل و حرکت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
مصنف کا استدلال ہے کہ ملک کی معاشی مشکلات پہلے سے موجود ہیں؛ انہیں صرف احتجاج سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
کالم مذاکرات اور تصادم کے معاشی نتائج کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
لیکن صد افسوس کہ حکومت کی جانب سے ابھی بھی لانگ مارچ سے طاقت کے ذریعے نمٹنے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مسلم لیگ ن کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اس کی قیادت اور اس کے سپورٹرز ہمیشہ سے اپنے مخالفین کو پاکستان مخالف ہی سمجھتے رہے ہیں اور حب الوطنی کا تمام کریڈٹ اپنی ذات و جماعت تک محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ اس وقت حقیقت اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے کہ پاکستان کی اسی، نوے فیصد عوام کی حمایت تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔
لیکن آج بھی مسلم لیگ ن خود کو اور نہ جانے کس کس کو یہ باور کروانے میں مصروف ہے کہ تحریک انصاف پاکستان دشمن جماعت ہے، لہٰذا اس کے لانگ مارچ سے سختی اور طاقت سے نمٹا جائے گا۔
خدارا اس سوچ سے نکلیں اور ہوش کے ناخن لیں، وگرنہ بھاگنے کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔