محمد مبشر انوار
سينئر تجزيہ نگار
محمد مبشر انوار اپنے کالم میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، امریکہ و ایران کی کشیدگی، سعودی عرب پر حملوں کے دعووں اور حرمین شریفین کے تقدس سے متعلق خدشات کا جائزہ لیتے ہیں۔
مصنف مسلم ممالک کے درمیان محاذ آرائی ختم کرنے اور مذاکرات کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ جنگوں کا اختتام بہرحال مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگوں کے دوران کچھ عناصر فائدے میں رہتے ہیں، جن کے بارود کے کارخانے چلتے ہیں اور جن کا اسلحہ متحارب فریقوں کو فروخت ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امن، جنگوں کے درمیان وقفے کا نام ہے۔
گزشتہ صدی میں دو عالمی جنگیں ہوئیں، اس کے باوجود کرۂ ارض پر امن نام کی چیز دیکھنے کو نہیں ملی۔
کہیں نہ کہیں جنگ کے شعلے بھڑکتے رہے، لیکن یہ شعلے کسی نئی عالمی جنگ میں تبدیل نہ ہوئے۔
عالمی طاقتوں نے بہرحال اتنی عقل مندی ضرور دکھائی کہ پوری دنیا کو جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں نہیں آنے دیا۔
🕊️ جنگ کا انجام مذاکرات کیوں؟
کالم کی ابتدا اس تصور سے ہوتی ہے کہ جنگ کے بعد فریقین کو آخرکار بات چیت کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔
مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر تصفیہ مذاکرات ہی سے ہونا ہے تو انسانی جانوں اور وسائل کے بڑے نقصان سے پہلے یہ راستہ کیوں نہ اپنایا جائے؟
تلخ پہلو: جنگ میں عوام نقصان اٹھاتے ہیں، لیکن ہتھیار تیار کرنے اور فروخت کرنے والے بعض حلقے مالی فائدے میں رہ سکتے ہیں۔
گوکہ علاقائی جنگوں میں ایک سابق عالمی طاقت نہ صرف بری طرح شکست سے دوچار ہوئی بلکہ اس کے حصے بخرے بھی ہوگئے، جبکہ دوسری عالمی طاقت دنیا کے مختلف حصوں میں میدانِ جنگ میں اتری، لیکن افغانستان میں وہ بھی کامیاب نہ ہوسکی۔
اسے بھی شدید نقصان اٹھا کر یہاں سے نکلنا پڑا اور افغانستان نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ عالمی طاقتوں کا قبرستان ہے۔
مزید پڑھیں
اس وقت مشرقِ وسطیٰ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے اور امریکہ ایران کے ساتھ سینگ پھنسائے ہوئے ہے۔
گوکہ یہاں بھی بظاہر اب تک کی جنگ میں امریکہ کی دال گلتی دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ ایران دندان شکن جواب دے رہا ہے اور کسی بھی صورت ہتھیار ڈالنے یا پسپا ہونے کو تیار نہیں۔
بلکہ اس کے برعکس ایران جنگ میں جیتی ہوئی بازی مذاکرات کی
میز پر ہارنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
ایران کے مطالبات میدانِ جنگ میں ایک فاتح فریق کے مطالبات دکھائی دیتے ہیں۔
وہ امریکہ سے اپنی شرائط پر جنگ بندی چاہتا ہے، جس میں اس پر دہائیوں سے عائد پابندیوں کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی، اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر تجارت کی بحالی بھی شامل ہے۔
🌍 عالمی جنگوں سے افغانستان تک
مصنف گزشتہ صدی کی عالمی جنگوں اور اس کے بعد جاری علاقائی تنازعات کا حوالہ دے کر استدلال کرتے ہیں کہ دنیا مکمل اور مستقل امن سے محروم رہی۔
افغانستان میں سابق سوویت یونین اور امریکہ کے تجربات کو مثال بناتے ہوئے وہ بڑی عسکری طاقت کی محدودیت اور طویل جنگ کی قیمت پر زور دیتے ہیں۔
سبق: فوجی برتری لازماً پائیدار سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔
دوسری طرف امریکہ ان معاملات پر کسی حد تک رضامند دکھائی تو دیتا ہے، لیکن اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
فی الوقت امریکہ اپنے وسط مدتی انتخابات میں الجھا ہوا ہے اور میدانِ جنگ میں اپنی واضح شکست کو وقتی طور پر فراموش کئے ہوئے ہے۔
تاہم اس کے باوجود امریکی قیادت اپنی عسکری قیادت کے ساتھ مختلف آپشنز پر غور و فکر جاری رکھے ہوئے ہے کہ ایران کو کس طرح شکست دی جاسکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکہ نے متعدد مرتبہ ایران کے ساتھ دہری اور منافقانہ پالیسی اختیار کرکے اسے اچانک زیر کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایک طرف مذاکرات کی میز سجا رکھی ہوتی ہے تو دوسری طرف انہی مذاکرات کی آڑ میں ایران پر حملہ آور بھی ہوجاتا ہے۔
لہٰذا ایران اس حوالے سے انتہائی محتاط ہے۔
⚖️ امریکہ اور ایران: جنگ یا سمجھوتا؟
کالم نگار کی رائے ہے کہ ایران میدانِ جنگ اور مذاکرات میں اپنی شرائط پر قائم رہنے کی کوشش کررہا ہے۔
ان کے بیان کردہ ایرانی مطالبات میں پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، آزاد تجارت اور دفاعی صلاحیت پر سمجھوتا نہ کرنا شامل ہیں۔
اہم امتیاز: جنگ میں کامیابی یا شکست سے متعلق یہ تجزیہ مصنف کا نقطۂ نظر ہے، آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
گوکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس اعلان پر مکمل یقین کرنا درست نہیں ہوگا۔
عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جس اقدام کا انکار کیا جاتا ہے، بعض اوقات وہی قدم اٹھا لیا جاتا ہے۔
اس پس منظر میں صدر ٹرمپ کے اس اعلان کو بین السطور دیکھا جائے تو عین ممکن ہے کہ اس واضح اعلان کا مقصد ایران کو یہی یقین دلانا ہو کہ اس کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں ہوں گے، لیکن جیسے ہی ایران اس اعلان پر یقین کرے، اچانک اور بے خبری میں اس پر جوہری ہتھیار استعمال کردیئے جائیں۔
مکہ مکرمہ اور
مدینہ منورہ کے
اطراف مبینہ
حملوں نے
مقدس مقامات کے
تحفظ پر سنگین
سوالات اٹھا دیئے
البتہ دیگر ریاستوں کی مجبوری یہ رہی کہ ان کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور ان کے استعمال کے باعث ایرانی جوابی کارروائیاں مسلسل ان اڈوں پر ہوتی رہیں، جن سے امریکہ کو نقصان اٹھانا پڑا۔انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنے کے باوجود، امریکہ، اسرائیل یا پھر حالات، بہرحال سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کو آمنے سامنے لانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔
اس وقت یمنی حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، بھرپور شدت کے ساتھ سعودی عرب پر حملہ آور ہیں اور ہر روز سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔
حوثیوں کے اہداف میں اس وقت ہوائی اڈے اور تیل کی تنصیبات بالخصوص شامل ہیں، جبکہ دیگر اہداف وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں یا غیر متوقع طور پر حملوں کی زد میں آجاتے ہیں۔
اس حوالے سے سعودی عرب کا ایک اہم اور مصروف ترین ہوائی اڈہ، ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، حوثیوں کے نشانے پر ہے۔
اکتوبر کے مہینے میں ہوائی اڈوں پر تقریباً 20 حملوں کی اطلاعات ہیں، جن میں 19 شہریوں کے جاں بحق اور تقریباً چونسٹھ کے زخمی ہونے کا ذکر کیا جارہا ہے۔
☢️ جوہری ہتھیاروں کا خدشہ
مصنف صدر ٹرمپ کے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے سے متعلق بیان پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہیں اور کسی غیر متوقع فوجی اقدام کا خدشہ پیش کرتے ہیں۔
کالم میں محدود نوعیت کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو ایک انتہائی خطرناک منظرنامے کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
وضاحت: یہ مصنف کا خدشہ اور مفروضہ ہے؛ اس سے کسی جوہری حملے کے فیصلے یا منصوبے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
دوسری جانب سعودی عرب کے مغربی اور جنوبی علاقوں، بالخصوص خمیس مشیط، ابہا اور جازان پر بھی حوثیوں کے حملے مسلسل جاری ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سعودی عرب کے معروف طائف ایئر بیس پر بھی حملے کئے گئے ہیں، جو مکہ مکرمہ سے تقریباً نوے کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
دمام ایئرپورٹ کو بھی چند گھنٹوں کے لیے بند کرکے دوبارہ کھول دیا گیا، مگر اس پر حملوں کے خطرات تاحال کم نہیں ہوئے۔
حوثیوں کی جانب سے کچھ بھی بعید نہیں، کیونکہ وہ واضح طور پر اعلان کئے بیٹھے ہیں کہ سعودی عرب کی فضائی حدود ہی ان کا میدانِ جنگ ہیں اور وہ اپنے حملے جاری رکھیں گے۔ البتہ حوثیوں کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حملے نہیں کریں گے۔
🔍 دوسرے ممالک کو جنگ میں لانے کا الزام
کالم میں امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک کو جنگ کا براہِ راست فریق بنانے کے خواہاں تھے۔
مصنف مبینہ 'فالس فلیگ' کارروائیوں کی بات بھی کرتے ہیں اور سعودی عرب کے محتاط رویے کو تنازع کے پھیلاؤ سے بچنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
تصدیقی حیثیت: ان الزامات کے ثبوت یا آزاد ذرائع اصل کالم میں فراہم نہیں کئے گئے؛ انہیں ثابت شدہ واقعات نہ سمجھا جائے۔
سوال یہ ہے کہ پھر مدینہ منورہ کو بجلی فراہم کرنے والے اس پاور پلانٹ پر، جو شہر سے تقریباً سو کلومیٹر دور واقع ہے، حملہ کس نے کیا؟
گزشتہ شب مدینہ منورہ کی جانب کروز میزائل کے مبینہ حملے کے پیچھے کون تھا؟
گوکہ گزشتہ شب ہونے والا حملہ سعودی اتحادی فوج نے ناکام بناتے ہوئے میزائل کو فضا ہی میں تباہ کردیا، لیکن حوثیوں کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ان کی صفوں میں ایسے کون سے عناصر موجود ہیں جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقدس کو پامال کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟
مزید پڑھیں
دنیا کے تقریباً پونے دو ارب مسلمانوں کے لیے یہ انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے کہ دونوں فریق مسلمان ہیں۔ ایک طرف وہ حکومت ہے جو دہائیوں سے حج و عمرہ کے زائرین کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے، زائرین کو سہولیات فراہم کررہی ہے اور حرمین شریفین کی خدمت میں مصروفِ عمل ہے۔
دوسری طرف سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر
حملے نہ کرنے کے اعلان کے باوجود ان مقدس شہروں کے اطراف حملے کیوں ہورہے ہیں؟
بیت اللہ کی حفاظت کا ذمہ بلاشبہ ربِ کعبہ نے خود اٹھا رکھا ہے اور قرآن مجید میں اصحابِ فیل کا واقعہ اس کی قدرت کی واضح نشانی ہے کہ کس طرح ابابیلوں کے ذریعے ہاتھیوں کے لشکرِ جرار کو کھائے ہوئے بھوسے کی مانند کردیا گیا۔
🇸🇦 سعودی عرب کا محتاط مؤقف
مصنف کے نزدیک سعودی عرب نے خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود خود کو وسیع تر براہِ راست تصادم سے دور رکھنے کی کوشش کی۔
وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ مختلف ممالک میں امریکی اڈوں کی موجودگی نے جنگ کے دائرے اور جوابی کارروائیوں کے خطرات کو پیچیدہ بنا دیا۔
بنیادی نکتہ: سعودی سلامتی، شہری تحفظ اور خطے میں مزید جنگ کو روکنا فوری ترجیحات ہونی چاہئیں۔
آج بھی یہ کامل یقین ہے کہ اللہ رب العزت قادرِ مطلق ہے اور اپنے مقدس گھر کی حفاظت کرسکتا ہے۔
اسی طرح روضۂ رسولﷺ کی حفاظت اور اس کے خلاف یہودی گستاخوں کی تاریخی سازش کو ناکام بنائے جانے کا واقعہ بھی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔
میری ذاتی رائے میں آج بھی ان دونوں مقدس مقامات کی حفاظت اللہ کریم ہی فرمائے گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کلمۂ حق اور توحید کے ماننے والے مسلمانوں کا اپنا فرض کیا ہے؟
کیا انہیں باہم دست و گریباں ہوکر ان مقدس مقامات کے تقدس کا خیال نہیں رکھنا؟
کیا ان کی حفاظت کے بجائے، خدانخواستہ، نعوذ باللہ، خاکم بدہن، ان کی پامالی میں غیر مسلموں کا آلۂ کار بننا ہے؟
یا اپنی انا، ضد اور ذاتی مفادات کے باعث ایسے عناصر کو اپنی صفوں میں جگہ دینی ہے جو ان مقدس مقامات کی حرمت پامال کرنے کی جسارت کرسکیں؟
✈️ ہوائی اڈے اور تنصیبات: کیا دعوے ہیں؟
کالم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور جنوبی و مغربی علاقوں کو حملوں کا سامنا ہے۔
ریاض، دمام، ابہا، جازان، خمیس مشیط اور طائف کا ذکر آتا ہے؛ اکتوبر کے حملوں اور جانی نقصان سے متعلق مخصوص اعداد بھی پیش کئے گئے ہیں۔
اہم احتیاط: اصل متن میں ان واقعات کی تاریخ وار دستاویزات یا مصدقہ حوالہ جات موجود نہیں، اس لیے اعداد اور ذمہ داری کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
گوکہ حوثیوں کی جانب سے واضح اعلان موجود ہے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حملوں میں ملوث نہیں، لیکن اس کے باوجود کیا ان کی غیرت و حمیت یہ گوارا کرتی ہے کہ ان کا نام ان مقدس مقامات پر حملوں کے لیے استعمال ہو؟
دنیا جانتی ہے کہ حوثیوں پر ایران کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اس وقت خواہ ایران خود کو ان سے دور رکھ رہا ہو، تاہم حالات کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے سابقہ اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے حوثیوں کو سعودی عرب کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے باز رکھے۔
یا کم از کم چین سمیت دیگر بااثر ممالک کو آگے بڑھ کر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ کروانے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے اس جنگ کو روکا جاسکے۔
آخر جب جنگوں کے خاتمے کے بعد بھی معاملات مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتے ہیں تو ابھی ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟
قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے اور حوثیوں کی صفوں میں چھپے ایسے عناصر، جو مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کو نشانہ بنانے کے قبیح فعل میں ملوث ہیں، خدانخواستہ، خدانخواستہ، رتی برابر بھی کامیاب ہوجائیں، اس جنگ کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوششیں ہونی چاہئیں۔
اگرچہ ایسی کسی کارروائی کی کامیابی کا امکان انتہائی کم دکھائی دیتا ہے، تاہم موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے، یا مسلمانوں کو احساس دلانے اور انہیں جھنجھوڑنے کے لیے ہی سہی، اگر ایسی کوئی کارروائی ہوتی ہے تو اس بے ادبی و گستاخی کا سارا الزام حوثیوں کے سر ہی آئے گا۔