براہ راست نشریات

ملک دشمنی کی پرانی کہانی، لانگ مارچ اور سیاسی تصادم کا خطرہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Pakistan Political Crisis
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

پاکستانی سیاست میں ملک دشمنی کے الزامات، سیاسی مخالفین پر دباؤ اور قومی بحرانوں کی کہانی نئی نہیں۔ محمد مبشر انوار اپنے کالم میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ، حکومتی حکمت عملی، مولانا فضل الرحمن کی ثالثی اور سیاسی مفاہمت کے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں۔

ایک فقرہ ’ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، قوم کو قربانی دینا ہوگی‘ سنتے سنتے بوڑھے ہو چکے، مگر وہ فقرہ ابھی تک کانوں میں گونجتا ہے اور دکھ ہوتا ہے، افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار کی اہلیت و قابلیت کس قدر کم ہے کہ ہم آج تک اس گرداب سے نہیں نکل سکے۔ 

البتہ اس دوران یہ ضرور دیکھا کہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والوں کی تقدیر اور نصیب ضرور بدل گئے۔ 

وہ خواہ کوئی بھی نعرہ لگا کر یا کسی بھی منشور کے تحت اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ہوں۔

🏛️ ’ملک نازک دور سے گزر رہا ہے‘ — مستقل نعرہ

مصنف ایک پرانے سیاسی فقرے سے اپنی گفتگو شروع کرتے ہیں: ’ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، قوم کو قربانی دینا ہوگی۔‘

ان کے مطابق دہائیاں گزرنے کے باوجود عام شہریوں کو معاشی استحکام اور سیاسی اطمینان میسر نہیں آیا۔

کالم نگار کا سوال ہے کہ بار بار قربانی کا مطالبہ کرنے والی قیادت نے قومی مسائل کے مستقل حل کے لیے کیا کیا؟

سب سے پہلا نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان کا لگا۔ 

گو کہ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ان خرافات کا حصہ نہیں بنے، مگر بدقسمتی سے ان کی دختر بے نظیر کے شوہر اس سے نہیں بچ پائے اور ساتھ ساتھ بے نظیر کو بھی اس میں ملوث کر لیا۔

بعدازاں کراچی کی سیاسی جماعت، جسے مکمل طور پر آمر کی پشت پناہی حاصل رہی، تعلیم یافتہ اور ہجرت کرنے والے طبقے سے تعلق رکھنے والی اس جماعت کے ابتدائی اراکین کی مالی حیثیت کیا تھی، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، لیکن آج ان کے مالی حالات کیا ہیں، ساری دنیا بخوبی جانتی ہے۔

مزید پڑھیں

سندھ کے وڈیروں کو چھوڑ کر سیدھا پنجاب کے جاگیرداروں کے گریبانوں تک پہنچنے والی اس جماعت کی آج جو حالت ہے، اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان کیوں آج تک نازک دور سے گزر رہا ہے اور کیوں قوم کو قربانی دینا پڑ رہی ہے۔

پھر لسانیت کا نعرہ لگوا کر ایک تاجر کے سر پر اقتدار کا تاج رکھا گیا، جس نے صنعت کے لیے پالیسیاں دیں کہ ملک میں صنعتی ترقی ہو 

تو دوسری طرف ’قرض اتارو، ملک سنوارو‘ کا نعرہ لگایا۔ 

لیکن بدقسمتی سے قوم نے اپنی اور ملک کی تقدیر سنوارنے کے لیے اس پر اعتبار کرتے ہوئے رقوم تو دیں، مگر ان رقوم کا فائدہ کس نے اٹھایا، وہ رقوم کہاں گئیں؟ کسی کو نہیں معلوم۔

💼 اقتدار، دولت اور اشرافیہ پر تنقید

کالم میں پیپلز پارٹی، کراچی کی ایک سیاسی جماعت اور پنجاب کی سیاسی قیادت کی تاریخ کو مثال بنا کر اشرافیہ پر تنقید کی گئی ہے۔

مصنف کا مؤقف ہے کہ سیاسی نعروں اور عام شہریوں کی امیدوں کے برعکس اقتدار تک پہنچنے والوں کی معاشی حالت میں تبدیلی زیادہ نمایاں رہی۔

یہ سیاسی اور مالی کردار سے متعلق مصنف کی تنقیدی رائے ہے، کسی مخصوص شخص کے خلاف بدعنوانی کا ثابت شدہ فیصلہ نہیں۔

ملک آج پہلے سے کہیں زیادہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے اور مسلسل قرض لیا جا رہا ہے۔ 

پوری کی پوری معیشت قرضوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے، جس کا انجام نوشتۂ دیوار ہے۔ 

لیکن اگر کسی کو اس کا علم نہیں تو صرف اور صرف اشرافیہ ہی اس سے لاعلم ہے اور ملک و قوم پر مسلسل قرضوں کا بوجھ لادے جا رہی ہے، البتہ ذاتی تجوریاں مسلسل بھرتی جا رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی پامالی ہو یا قانون کی بالادستی، یہ سب ایک خواب بنتا جا رہا ہے کہ اس ملک کے شہریوں کو کوئی علم نہیں کہ کب کوئی نادیدہ ہاتھ، کسی حق کے مطالبے کی پاداش میں، کہاں سے نکلے اور کسی بھی شہری کو کہیں سے بھی اٹھا لے۔ 

عام شہری کی تو بات ہی کیا، یہاں تو صورتِ حال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ اگر کوئی مخالف یا ناپسندیدہ ہے تو خواہ وہ قومی اسمبلی کا رکن ہو، صوبائی اسمبلی کا رکن ہو یا صوبائی وزیر، نادیدہ ہاتھ اور نقاب پوش اسے سرِعام اور دن دہاڑے اٹھانے سے گریز نہیں کرتے۔

💰 ’قرض اتارو، ملک سنوارو‘ سے آج کے قرضوں تک

مصنف ’قرض اتارو، ملک سنوارو‘ مہم کو یاد کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ اس وقت جمع ہونے والی رقوم کے نتائج عوام کو کیوں واضح نہیں ہوئے۔

کالم کا بنیادی معاشی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت مسلسل قرضوں اور مالی دباؤ سے باہر نہیں نکل سکی۔

مصنف قرضوں کے بوجھ کو سیاسی فیصلوں اور حکمران طبقے کی ترجیحات سے جوڑتے ہیں؛ کسی بھی رقم یا مالی بے ضابطگی کی مخصوص مقدار اس کالم میں مستند دستاویز کے ساتھ نہیں دی گئی۔

ان ناانصافیوں کے خلاف تحریک انصاف نے گزشتہ چند دنوں سے خیبرپختونخوا میں ایک لانگ مارچ ترتیب دے رکھا ہے، جس کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ عمران خان کو نہ صرف بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں بلکہ ان کے ساتھ، بقول تحریک انصاف، ناحق قید دیگر قیدیوں کے حقوق بھی یقینی بنائے جائیں۔

سہیل آفریدی اس لانگ مارچ کے روحِ رواں کے طور پر سامنے نظر آ رہے ہیں، جبکہ ان کے رفقا میں صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین شامل ہیں اور خیبرپختونخوا کے عوام کا جمِ غفیر سہیل آفریدی کے ساتھ ہے۔ 

البتہ لانگ مارچ کی رفتار ایسی ہے کہ اسے اسلام آباد پہنچنے میں ابھی بھی کئی دن درکار ہیں۔

ایک طرف لانگ مارچ میں شدت ہے اور عوام کا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد ڈی چوک پہنچا جائے، جبکہ دوسری طرف سہیل آفریدی نے دانستہ اس لانگ مارچ کی رفتار سست رکھی ہے۔ 

اس طرح ایک طرف عوام کا جوش و خروش بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس میں شامل کرنے کی کوشش ہے تو دوسری طرف پسِ پردہ یہ خواہش بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کسی طرح معاملات تصادم کے بغیر حل ہو جائیں اور تحریک انصاف کے مطالبات تسلیم کر لئے جائیں۔

⚖️ قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کا سوال

کالم میں جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر روا رکھے جانے والے مبینہ رویّوں پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

مصنف کے مطابق قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ عام شہری ہو یا منتخب نمائندہ، ہر فرد کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں۔

یہ حصہ مصنف کے خدشات اور الزامات پیش کرتا ہے؛ ہر انفرادی واقعے کی آزادانہ تصدیق اس متن میں فراہم نہیں کی گئی۔

لانگ مارچ کی
رفتار ایسی ہے کہ
اسے اسلام آباد
پہنچنے میں
ابھی بھی کئی
دن درکار ہیں

گو کہ تحریک تحفظِ آئین اور تحریک انصاف کے حکومت سے مذاکرات کا دور ختم ہو چکا، جس کی ناکامی کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جا چکا، مگر ابھی بھی پسِ پردہ روابط موجود ہیں اور تحریک انصاف کی قیادت معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ تحریک انصاف کے آئینی و قانونی مطالبات تسلیم کر لئے جائیں۔
ممکنہ طور پر تحریک انصاف کے ذہن میں ماضی کی تلخ یادیں ہیں تو اس وقت وفاقی حکومت کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے انتظامات اور بیانات بھی مدنظر ہیں۔
وفاقی وزرا، بالخصوص محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، طلال چوہدری اور عطا تارڑ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اس مرتبہ ’مستقل علاج‘ کیا جائے گا اور روز روز کے اس احتجاج کو ختم کیا جائے گا۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف کے پاس ممکنہ طور پر براہِ راست حکومت سے رابطہ کرنے کی اخلاقی ساکھ بھی نہیں رہی تو دوسری طرف وہ اپنی کمزوری ظاہر کرنے سے بھی گریزاں دکھائی دیتی ہے۔
حکومت خواہ سخت ارادے ظاہر کر رہی ہے، لیکن عوام پر تشدد کرنے کا داغ بھی اپنے ماتھے پر سجانے سے گریزاں ہے۔
لہٰذا اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی ثالث کے ذریعے گفت و شنید ہی ممکن ہے۔

🚶 تحریک انصاف کا لانگ مارچ — مطالبہ کیا ہے؟

کالم کے مطابق تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے لانگ مارچ اس مطالبے کے ساتھ شروع کیا کہ عمران خان اور دیگر زیرِ حراست افراد کے قانونی و بنیادی حقوق یقینی بنائے جائیں۔

مصنف سہیل آفریدی کو اس احتجاج کی اہم قیادی شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور قومی و صوبائی اراکین کی شرکت کا ذکر کرتے ہیں۔

یہ مارچ اور اس کی قیادت سے متعلق کالم میں بیان کردہ صورتِ حال ہے، نہ کہ اس فائل میں الگ سے تصدیق شدہ تازہ خبر۔

ثالثی کے لیے قرعہ مولانا فضل الرحمن کے نام نکلا ہے اور مولانا کے فریقین کے ساتھ رابطے ہو چکے ہیں۔ 

شہباز شریف کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد میں برداشت نہیں کریں گے کہ بقول شہباز شریف، معیشت کی بحالی کے لیے سرتوڑ محنت کی گئی ہے۔ 

معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

الگ بات کہ معیشت کی بحالی یا ترقی کا جو دعویٰ شہباز شریف کی جانب سے کیا جا رہا ہے، زمینی حقائق چیخ چیخ کر اس دعوے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس کا اظہار اسلام آباد کے تاجروں نے پریس کانفرنس کے ذریعے بھی کیا ہے اور تحریک انصاف کے اس لانگ مارچ میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے۔

⏳ لانگ مارچ کی رفتار سست کیوں؟

مصنف کی تعبیر میں نسبتاً سست پیش قدمی کے دو ممکنہ مقاصد ہو سکتے ہیں: زیادہ کارکنوں کو مارچ میں شامل کرنا اور بات چیت کا موقع باقی رکھنا۔

کالم میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مظاہرین میں جلد اسلام آباد پہنچنے کی خواہش اور قیادت میں تصادم سے بچنے کی کوشش ایک ساتھ چل رہی ہیں۔

قیادت کی نیت کے متعلق یہ تجزیہ ہے، مصنف نے اسے باضابطہ اعلان کی صورت میں پیش نہیں کیا۔

رہی بات معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی تو یہ دعویٰ بھی مضحکہ خیز ہی دکھائی دیتا ہے کہ ایک طرف سیاسی انداز کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اسلام آباد کو کنٹینروں کا شہر بنایا جا چکا ہے۔

مذاکرات کے دوران مخالفین کو اتنی رعایت بھی نہیں دی جاتی کہ وہ اپنے قائد سے مشاورت کر لیں، جبکہ حکومتی وفد کی حالت یہ ہے کہ ڈرافٹ میں نہ اپنی مرضی سے ایک لفظ شامل کر سکتا ہے اور نہ ہی تبدیل کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔ 

الفاظ کی تبدیلی یا شمولیت کے لیے بھی ’فردِ واحد‘ کی منظوری حاصل کرنے کی غرض سے مذاکرات کے دوران ہی اٹھ جاتے ہیں۔

اپوزیشن کے بنیادی مطالبے کہ عمران خان سے ملاقات کروائی جائے، کو بھی پذیرائی نہیں بخشی گئی، البتہ اسے ایک شرط کے ساتھ مشروط کر دیا گیا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت آپریشن کی ذمہ داری قبول کر لے تو پھر عمران خان سے ملاقات کروائی جا سکتی ہے۔ 

اسے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور معاملات سیاسی انداز سے حل نہیں ہو سکے۔

تحریک انصاف کی جانب سے مولانا کے سامنے دو مطالبات رکھے گئے کہ اولاً ایمرجنسی کے نفاذ کو رکوایا جائے اور دوسرا یہ کہ معاملات کو لانگ مارچ کے اٹک پل پر پہنچنے سے پہلے حل کیا جائے۔

🤝 مذاکرات ناکام — بنیادی رکاوٹیں

کالم کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہوئے، تاہم غیر علانیہ رابطوں کے لیے کچھ گنجائش باقی تھی۔

مصنف کے بیان کے مطابق عمران خان سے ملاقات اور بعض سکیورٹی کارروائیوں سے متعلق ذمہ داری کے معاملے پر اختلاف سامنے آیا۔

کالم نگار کے نزدیک مذاکراتی ٹیموں کا بااختیار ہونا اور قائدین سے مشاورت کے مواقع دینا کسی سیاسی حل کی بنیادی شرط ہیں۔

ایمرجنسی تادمِ تحریر نافذ نہیں ہوئی اور مولانا کے مطابق حکومت نے ان کا یہ مشورہ فی الوقت تسلیم کر لیا ہے، البتہ معاملات کو اٹک پل تک پہنچنے سے قبل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس پس منظر میں لانگ مارچ کی سست رفتاری سمجھ میں آتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے دوسرا ہتھکنڈہ بھی زور و شور سے استعمال ہونا شروع ہو چکا ہے اور خواجہ آصف نے ببانگِ دہل 

یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ تحریک انصاف کے کالعدم جماعت تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ نہ صرف روابط ہیں بلکہ اس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔

حیرت اور افسوس ہے کہ ملک دشمنی اور سکیورٹی رسک کے الزامات لگانے کا یہ وطیرہ بہت پرانا ہے۔ مسلم لیگ ن یہ کارڈ کبھی پیپلز پارٹی کے خلاف بھی کھیل چکی ہے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی یہ کارڈ مسلم لیگ ن کے خلاف کھیلا جا چکا ہے، لیکن آج دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں۔

🚧 حکومت کا مؤقف اور اسلام آباد کی تیاریاں

مصنف نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا یہ مؤقف نقل کیا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاجی پیش قدمی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچانا ضروری ہے۔

کالم میں حکومتی شخصیات کے سخت بیانات، کنٹینروں اور سکیورٹی انتظامات کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی گفتگو اور انتظامی سختی کے درمیان تضاد کی نشاندہی کی گئی ہے۔

حکومت کے مؤقف کا یہ خلاصہ صرف فراہم کردہ کالم پر مبنی ہے؛ اصل سرکاری بیان الگ سے منسلک نہیں۔

جہاں تک ٹھوس ثبوتوں کا تعلق ہے تو پاناما کیسز کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ کسی زمانے میں مسلم لیگ ن کے خلاف پاناما سے متعلق پیش کئے جانے والے ثبوتوں کو مسلم لیگ ن مسترد کرتی رہی ہے۔

بہرحال حقیقت یہی ہے کہ مسلم لیگ ن ہی نہیں بلکہ ماضی میں بھی مقتدرہ کے ایما پر ناپسندیدہ شخصیات اور جماعتوں کو ملک دشمن قرار دیا جاتا رہا ہے۔ 

حتیٰ کہ بنگالیوں کو بھی ایک زمانے میں غدار قرار دیا گیا تھا اور حال ہی میں کشمیریوں کو بھی ملک دشمنوں کا آلۂ کار ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی تھی۔

خواجہ آصف جیسے سیاستدان، جو صرف اپنی ایک نشست کے لیے ایسے بیانات دینے سے نہیں کتراتے، ایسے بیانات سے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں، لیکن اس کا خمیازہ پاکستانیوں کے ذہنوں میں نفرت پیدا ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

✒
محمد مبشر انوار
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
←

بنیادی انسانی حقوق، آئین و قانون کے مطابق حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو کسی کے ایما پر ملک دشمن قرار دے کر یا ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے، موجودہ حالات میں آپ اس نظام کو ہی لپیٹنے میں اپنا نام لکھوائیں گے، جو کسی بھی طور جمہوریت یا پاکستان کی خدمت نہیں ہو سکتی۔

ملک دشمنی کی یہ پرانی کہانی اب قوم کو ازبر ہو چکی ہے اور بہتر ہے کہ اس کو بار بار نہ ہی دہرایا جائے تو اچھا ہے۔

ادارتی نوٹ
▼
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔