براہ راست نشریات

دہشت گردی یا۔۔۔

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے بعد کی صورتحال
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

پاکستانی سیاست میں گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ، دہشت گردی کے الزامات اور معدنی وسائل پر مفادات کی کشمکش نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ محمد مبشر انوار اپنے کالم میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی ناکامی، مولانا فضل الرحمن کی ثالثی، آئینی پیچیدگیوں اور خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔

تحریک انصاف کا لانگ مارچ،گورنر راج اور ایمرجنسی کے جھٹکے میں ختم ہو گیا گو کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمن نے اپنی کوششیں کی اور عوام کو یہ خوش خبری بھی سنائی کہ معاملات جلد طے ہو جائیں گے مگر افسوس کہ یہ ہو نہ سکا اور لانگ مارچ کی قیادت کو جھانسے سے گرفتار کر لیاگیا۔

مزید پڑھیں

مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے اس اقدام پر نہ صرف غم و غصہ کا اظہار کیا بلکہ اس اقدام کی سخت مخالفت کی ہے۔ 

اپنی پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ حکومت کے ساتھ معاملات طے ہو چکے تھے اور فریقین اصولی طور پر متفق ہو چکے تھے کہ ایک طرف لانگ مارچ ختم ہو گا اور دوسری طرف حکومت تحریک انصاف کے رہنماؤں کی نہ صرف ملاقات عمران خان سے کروائی جائیگی بلکہ عمران 

خان کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا جائے گا جبکہ پہلے آپ، پہلے آپ کا فیصلہ مولانا فضل الرحمن کریں گے۔

🛑 لانگ مارچ کے خاتمے کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟
+
مذاکراتی ڈیڈلاک اور اچانک ریاستی کارروائی کا تضاد

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے کے بجائے پسِ پردہ رابطوں کے تعطل، مبینہ یقین دہانیوں کے ٹوٹنے اور صوبائی حکومت کے اچانک خاتمے کے پیچیدہ تانے بانے پر ختم ہوا۔

پہلو 1
مولانا فضل الرحمان کی ثالثی اور شکوہ

جے یو آئی سربراہ کے مطابق فریقین میں بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی اور ملاقاتوں پر اصولی مفاہمت ہو چکی تھی، مگر طریقۂ کار طے ہونے سے قبل ہی اچانک آپریشن نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔

پہلو 2
حکومتی مؤقف: غیر مشروط دستبرداری کی شرط

حکومتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ تین روزہ مذاکرات میں کوئی حتمی یقین دہانی نہیں ہوئی تھی اور وفاق کا پہلا اور بنیادی تقاضا اسلام آباد کی جانب مارچ کی فوری اور غیر مشروط منسوخی تھا۔

پہلو 3
قیادت کی پشاور روانگی اور تنظیمی جھٹکا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مذاکراتی مشورے کے لیے مارچ سے پشاور گئے جہاں گورنر راج اور گرفتاریوں کی بجلی گرائی گئی، جس سے مظاہرین قائدین کے بغیر منتشر ہو گئے۔

پہلو 4
عوامی ردعمل اور رکاوٹوں کا ہٹنا

قیادت کے غائب ہونے کے بعد سڑکوں پر تصادم کے بجائے خاموشی چھا گئی اور انتظامیہ نے راستے کھولنے کے لیے کنٹینرز ہٹا کر شہروں میں معمولاتِ زندگی بحال کر دیے۔

مطلب یہ تھا کہ معاملات کو کس طریقہ سے معمول کے مطابق لایا جائیگا، اس کا فیصلہ مولانا کریں گے۔

یعنی پہلے لانگ مارچ منسوخ ہو گا یاحکومت عمران خان سے ملاقات کروائے گی اور انہیں ہسپتال منتقل کرے گی،طریقہ کار طے کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی اورحکومت نے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی۔ 

طریقہ کار طے کرنے کے حوالے سے ہی مولانا نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ وزیر اعلی کے پی سے بھی ملاقات کریں گے اور اسی سلسلے میں وہ پشاور جا کر وزیر اعلی کے پی سے بالمشافہ ملاقات کریں گے۔

اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی وزیر اعلی کے پی،لانگ مارچ چھوڑ کر،پشاور گئے اور جب حکومت کو یہ یقین ہو گیا کہ وزیر اعلی لانگ مارچ چھوڑ کر پشاور میں موجود ہیں،ان کے ساتھ عوام نہیں ہے تو فوری عمل کرتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرکے،وزیر اعلی اور دیگر اکابرین کو گرفتار کر کے،لانگ مارچ کو غیر مؤثر کر دیا گیا،جسے مولانا اپنے ساتھ دھوکہ یا بے ایمانی سے تعبیر کر رہے ہیں اور حکومت کی اس بدعہدی کے خلاف دکھائی دیتے ہیں۔ 

دوسری طرف حکومت کی جانب سے رانا ثناء اللہ نے مولانا کے اس مؤقف کو ان کی غلط فہمی سے منسوب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ان امور پر گفتگو تو حکومت اور اپوزیشن میں تین روز تک چلتی رہی اور حکومت کا مؤقف شروع سے ہی یہی تھا کہ تحریک انصاف پہلے اپنا لانگ مارچ غیر مشروط طریقے سے ختم کرے،جبکہ باقی معاملات پر گفتگو بعد ہو گی پھر کس طرح وزیر اعظم ایسی کوئی یقین دہانی مولانا کو کروا سکتے ہیں۔ 

📜 گورنر راج اور ایمرجنسی: آئین کیا کہتا ہے؟
◀
🏛️
آرٹیکل 234: گورنر راج کی آئینی مدت

آئین کے تحت گورنر راج کا نفاذ صوبائی مشینری کی ناکامی پر کیا جاتا ہے۔ اس اقدام کی زیادہ سے زیادہ حد 6 ماہ تک محدود ہے، جس کے بعد منتخب ایوان کا وجود یا تازہ انتخابات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔

⚡
آرٹیکل 232: ایمرجنسی اور پارلیمانی توثیق

داخلی انتشار یا سلامتی کے خطرات پر ایمرجنسی کو طوالت دی جا سکتی ہے، مگر اس کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ہر دو ماہ بعد سادہ اکثریت کے ذریعے توسیع کی باقاعدہ منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔

یہی وہ وجہ تھی کہ حکومت کو انتہائی اقدام اٹھانا پڑا۔ایک منتخب حکومت کو،اختلاف رائے کی وجہ سے،حق حکومت چھین لیا گیاجبکہ اس انتہائی اقدام سے قبل ہی حکومتی وزراء کی دوسری ٹیم نے زور وشور سے تحریک انصاف کا تعلق دہشت گردوں سے جوڑنا شروع کر دیا۔ 

وفاقی وزیر داخلہ،وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت برائے داخلہ کی جانب سے زور وشور کے ساتھ یہ باتیں دہرائی جارہی ہیں کہ تحریک انصاف کا تحریک طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ موجود ہے،تحریک انصاف طالبان کی سہولت کار ہے اور ان کی مدد کرتی ہے۔

وزیر مملکت اس سے ایک قدم اور آگے گئے اور کہا کہ کے پی میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں مگر تحریک انصاف پر دہشت گرد حملہ نہیں کرتے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں پر دہشت گردانہ حملے کئے جاتے ہیں،اس بیان سے نجانے کیا وزیر مملکت کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کہ جہاں دیگر سیاسی جماعتوں پر حملے ہوئے،وہیں تحریک انصاف بھی اس سے متاثر ہوئی ہے اور وزیر مملکت کو ایسا بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ 

یا وہ یہ چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف پر بھی ایسے دہشت گردانہ حملے ہوں؟کیا وہ اس طرح تحریک انصاف کی قیادت و کارکنان کو بھی اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں؟

⚔️ تحریک انصاف اور طالبان کا مبینہ گٹھ جوڑ، حقیقت کیا ہے؟
+
1
وفاقی وزرا کے سنگین الزامات کی مہم

حکومتی وزرا نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا میں عسکریت پسند پی ٹی آئی کے بجائے دیگر جماعتوں کو نشانہ بناتے ہیں اور صوبائی قیادت شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ بنتی رہی ہے۔

2
دہشت گردی کا مشترکہ شکار ہونے کی حقیقت

سیاسی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی، بلدیاتی نمائندے اور کارکنان بھی ماضی میں دہشت گردی کے متعدد جان لیوا حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

3
امن جرگے کی تجاویز بمقابلہ یکطرفہ آپریشن

صوبائی حکومت نے 100 دن میں امن کی بحالی کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل صوبے کے عوام، پارلیمان اور امن جرگے کی تجاویز کو پالیسی میں شامل کیا جائے۔

دوسری طرف کے پی کے وزیراعلی نے لانگ مارچ کے دوران واضح طور پر کہا کہ اگر ان کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو وہ سو دنوں میں امن قائم کر سکتے ہیں،کے پی وزیر اعلی ایسی کسی بھی پالیسی کو نافذ کرنے سے گریزاں تھے،جو یکطرفہ اور بغیر مشاورت کے نافذ کی جاتی،جس میں صوبے کے مفادات و تحفظات کو مد نظر نہ رکھا جاتا۔ 

اگر وفاقی حکومت واقعی صوبے میں امن و امان کے حوالے سے سنجیدہ تھی اور ہے تو اس ایک مطالبے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی،جس کو تسلیم نہ کیا جاتا اور صوبائی حکومت سے مل بیٹھ کر معاملات طے نہ کئے جاتے۔ 

البتہ وزیر اعلی کے پی کی جانب سے ایسی کسی پالیسی کو وفاق کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا تاہم یہ ضرور کہا گیا کہ جو امن جرگے کی تجاویز ہیں،دہشت گردی کے خلاف پالیسی بناتے وقت یا ایکشن کرتے وقت ان کو ملحوظ رکھا جائے،جس کو وفاقی حکومت کی جانب ے تسلیم نہیں کیا گیا۔

⚖️ خیبرپختونخوا یا بلوچستان، امن و امان کی اصل صورتحال کہاں بدتر ہے؟
تقابلی جائزہ
🏔️
خیبرپختونخوا: سیاسی اقدام بمقابلہ حقیقت

• سکیورٹی اور سیاحت: حکومتی قائدین سمیت اہم شخصیات بغیر سیکیورٹی خطرات کے تفریحی مقامات کا دورہ کرتی رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامی رٹ ہر جگہ اتنی معدوم نہیں تھی۔

• وسائل کا تنازع: صوبائی پولیس کے لیے بکتر بند گاڑیوں کے فنڈز دیے جانے کے باوجود گاڑیاں حکومت ختم ہونے کے اگلے روز وفاق نے خود مہیا کیں۔

🏜️
بلوچستان: بدترین عسکریت پسندی پر چشم پوشی

• شاہراہوں پر شدید بدامنی: صوبے میں مسافروں اور فورسز پر مسلسل جان لیوا حملوں کے باوجود وفاق نے وہاں سیاسی تبدیلی یا گورنر راج جیسا انتہائی قدم نہیں اٹھایا۔

• دہرا معیار: حکومتی بیانیے پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ حقیقی خطرات کے شکار خطے کو نظرانداز کر کے صرف اپوزیشن کی حکومت والے صوبے کو ہی نشانہ بنایا گیا۔

بہرحال لانگ مارچ میں شرکاء کی وہ بڑی تعداد،جو دکھائی دیتی تھی اور توقع تھی کہ شرکاء کسی بھی ایسے اقدام کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اور شدید احتجاج کرتے دکھائی دیں گے،وہ نہیں ہو سکا کہ قیادت غائب ہونے کے بعد،عوام کی رہنمائی ممکن نہیں رہی یا یوں سمجھ لیں کہ عوام اپنی جان و مال کو ترجیح دیتے ہوئے گھروں میں بیٹھ گئی ہے۔ 

اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ حکومت نے جہاں جہاں بھی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے کنٹینرز کھڑے کررکھے تھے،ان کے متعلق شنید ہے کہ وہ کنٹینرز بتدریج ہٹائے جارہے ہیں اور معمولات زندگی معمول پر لائے جار ہے ہیں۔ 

اس کے باوجود یہ کہنایا سمجھنا کہ معاملات مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں آ چکے ہیں،قبل از وقت ہو گا کہ کے پی میں تحریک انصاف کے زور کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور کون جانے کہ یہ لاوا کس وقت پھوٹ پڑے۔ 

وفاقی وزیر قانون کی جانب سے بھی یہ کہا گیا ہے کہ کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کسی سیاسی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومت کی دہشت گردی سے نپٹنے میں ناکامی کے باعث یہ قدم اٹھایا گیا ہے لیکن بلوچستان میں صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی سے صرف نظر سوائے تعصب کے۔

⚖️ کیا تحریک انصاف کو عدالتوں سے انصاف مل سکے گا؟
◀
عدالتی تاریخ کا داغ اور قانونی چارہ جوئی کی مجبوری

پی ٹی آئی کے لیے عدالت سے رجوع کرنا کسی فوری ریلیف کی توقع سے زیادہ آئینی ریکارڈ پر اپنا مؤقف درج کرانے کی کوشش ہے۔ ماضی میں بھٹو کیس جیسے واقعات گواہ ہیں کہ انصاف کے اعتراف میں اکثر دہائیاں بیت جاتی ہیں۔

تحریک انصاف کے عدالتی تحفظات

جماعت کو شکوہ ہے کہ سیاسی عتاب کے ادوار میں اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بروقت اور شفاف ریلیف نہیں مل سکا، جس کی وجہ سے عدالتی نظام پر عوامی و سیاسی اعتماد شدید مجروح ہوا ہے۔

آئینی پٹیشن کا امکانی راستہ

گورنر راج کے نفاذ کے ٹھوس شواہد اور مبینہ بدنیتی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے سے وفاق پر اخلاقی و آئینی دباؤ بڑھے گا، خواہ عدالتی جنگ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو جائے۔

اور کیا ہو سکتا؟ بلوچستان آج بھی اس ایس ایچ او کے انتظار میں ہے،جس کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ نے کیا تھا۔ 

بدقسمتی یہ ہے کہ بلوچستان میں ہونیوالی دہشت گردی کی صورتحال انتہائی بدترین ہے اور وزیر اعلی بلوچستان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ کوئٹہ سے باہر اکیلے نہیں جا سکتے جبکہ اس کا موازنہ اگر کے پی سے کیا جائے تو حال ہی میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ہفتہ کے پی کے سیاحتی مقامات پر بغیر کسی سیکورٹی رسک کے گذار کر آئے ہیں،تو عقلمندوں سے سوال بنتا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کہاں زیادہ خراب ہے اور گورنر راج و ایمرجنسی کی زیادہ ضرورت کس صوبے میں ہے؟

رہی بات گورنر راج یا ایمرجنسی کی تو آئینی طور پر گورنر راج کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ تک ہے جبکہ ایمرجنسی کو طوالت دی جا سکتی ہے بشرطیکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس کی منظوری ہر دو ماہ کے بعد سادہ اکثریت سے حاصل کی جائے۔

💎 چھ ٹریلین ڈالر کے معدنی ذخائر، گورنر راج کے پیچھے کیا ہے؟
◀
⛏️
نایاب معدنیات اور بین الاقوامی دلچسپی

• عالمی معاہدوں کے دعوے: مقامی قیادت کا دعویٰ ہے کہ خطے میں موجود نایاب زمینی معدنیات کے لیے وفاق نے بیرونی طاقتوں سے وعدے کیے ہیں، جس کے لیے بااختیار صوبائی حکومت کو ہٹانا مقصود تھا۔

• وسائل کا مرکزیت پسندانہ کنٹرول: منتخب نمائندوں کی مخالفت ختم کر کے معدنی ذخائر کی لیز اور استخراج کا مکمل اختیار مرکز کے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

☢️
ماحولیاتی و تابکاری مضمرات کا خطرہ

• تابکاری اور ماحولیاتی خطرات: ان نایاب معدنیات کو تیزی سے نکالنے کے عمل میں زہریلے فضلے اور ممکنہ تابکاری کے اخراج سے مقامی انسانی آبادی کی صحت پر تباہ کن اثرات پڑ سکتے ہیں۔

• مقامی حقوق اور وسائل کی ملکیت: عوام کو اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ کان کنی سے صوبے میں احساسِ محرومی اور مزاحمت کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ کب تک رہتا ہے؟تحریک انصاف اپنی حکومت کے غیر مؤثرہونے پر یقینا خاموش نہیں رہے گی اور شنید ہے کہ عدالت سے رجوع کرے گی،تادم تحریر صرف رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے عدالت میں گئی نہیں،گو کہ تحریک انصاف عدالتی کارروائیوں سے نہ صرف مطمئن نہیں بلکہ عدالتوں پر اعتماد بھی نہیں کرتی کہ تحریک انصاف کے مطابق،اسے عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا لیکن اس کے باوجود،معاملات کو ریکارڈ پر رکھنے کے لئے عدالتوں سے رجوع کیا جانا ضروری ہے۔ 

اس میں کوئی ابہام نہیں کہ عدالتی تاریخ کا ایک بدنما داغ ہمیشہ رہا ہے کہ معتوبین کے لئے،ان کا طریقہ کار ایک آزاد و باوقار عدلیہ کا نہیں رہا بلکہ ان کے لئے طریقہ کار ہمیشہ مختلف اور منفی رہا ہے،جس میں انصاف کا قتل ہوتا رہا ہے۔

ثبوت کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کیس کی مثال دی جاسکتی ہے،جس کے ریفرنس پر عدالت نے چالیس سال بعد اقرار کیا کہ بھٹو کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں ملاتھا۔

🌋 لانگ مارچ ختم، مگر کیا خیبرپختونخوا میں سیاسی لاوا پھر پھوٹے گا؟
◀
عارضی سکوت اور اندرونی دباؤ کے امکانات

گرفتاریوں اور کنٹینرز کے خاتمے سے سڑکوں پر بظاہر سکون آ گیا ہے، مگر خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی گہری عوامی جڑیں اس بات کی عکاس ہیں کہ بحران کا سیاسی حل تلاش کیے بغیر معاملات کو زیادہ دیر تک طاقت سے دبا کر رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

امکان 1: عدم استحکام اور عوامی احتجاج کی نئی لہر

صوبائی خودمختاری سلب ہونے اور منتخب حکومت کو زبردستی ختم کیے جانے کا بیانیہ اگر عوامی غصے میں بدلا تو گلی کوچوں میں مزاحمت اور ہڑتالوں کی نئی شکلیں جنم لے سکتی ہیں۔

امکان 2: سنجیدہ قومی مکالمے کی ناگزیریت

مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی قوتوں کے تحفظات دور کرنے اور گورنر راج کی آئینی مدت ختم ہونے سے قبل وفاق کو پائیدار امن کے لیے سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ کھولنا پڑے گا۔

بعینہ آج کے معاملات پر بھی چالیس سال بعد کوئی عدالت اس حقیقت کا اعتراف کرتی دکھائی دے گی کہ تحریک انصاف کو شفاف ٹرائل اور انصاف نہیں ملا تھا۔ 

بہرحال اگر وفاقی وزیر قانون کی اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا اقدام سیاسی نہیں ہے تو یہ تسلیم کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے کہ اس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف مؤثر پالیسی اور بروئے کار آنے میں ناکامی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بکتر بند گاڑیوں کے حصول میں مسلسل مطالبات کے باوجود،ادائیگی کرنے کے باوجود،یہ گاڑیاں فراہم نہیں کی گئی جبکہ حکومت گرانے کے اگلے ہی دن دس گاڑیاں،خود وفاقی ویزر داخلہ نے،صوبے کو فراہم کر دی  لہذا صرف یہ کہنا کہ دہشت گردی قابو کرنے میں ناکامی پر اقدام اٹھایا گیا ہے،قابل ہضم نہیں۔ 

✒
محمد مبشر انوار
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
←

پھر سوال پیدا ہوتاہے کہ اس اقدام کی وجہ کیا ہے؟مقامی آبادی و قیادت ببانگ دہل یہ کہہ رہی ہے کہ اس اقدام کا مقصد اس خطے میں موجود نایاب معدنیات ہیں،جس کا وعدہ امریکہ بہادر سے کیا گیا،جس کی مالیت محتاط اندازے کے مطابق چھ ٹریلین ڈالر بتائی جاتی ہے،اور ان معدنیات کو نکالنے میں،جو مضمرات ہیں،ان سے اعراض برتا جارہا ہے کہ شنید ہے ان معدنیات کو نکالنے سے تابکاری نکلنے کا امکان بھی ہے،جو مقامی آبادی کے لئے انتہائی مضر ثابت ہو سکتی ہے مگر ارباب اختیار کو اس کوئی پرواہ نہیں،دہشت گردی کی آڑ میں کنٹرول اور معدنیات کا حصول ہی مقصد دکھائی دیتا ہے۔

ادارتی نوٹ
▼
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔