براہ راست نشریات

طبلِ جنگ پھر بجنے کو تیار، ایران کے خلاف نئی کارروائی کا خدشہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکہ اور اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی اور ایران کے ممکنہ ردعمل کے درمیان نئی جنگ کے خدشات زیرِ بحث ہیں۔
محمد مبشر انوار اپنے کالم میں انتخابی سیاست، امریکی پالیسی اور خطے میں ممکنہ تصادم کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے حالات سنبھلتے دکھائی نہیں دیتے کہ ایک طرف حوثیوں نے اودھم مچا رکھا ہے تو دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ میں ہونے والے انتخابات نے معاملات کو دبیز تہہ میں لپیٹ رکھا ہے۔ 

گو کہ تہہ دبیز ہے مگر اب معاملات کھلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے مذاکرات کا لبادہ اتار دیا ہے تو دوسری طرف اسرائیلی جنگی طیارے شام اور عراق کی فضائی حدود سے گزر کر ایرانی سرحدوں تک مشق کر چکے ہیں۔

📅 اہم تاریخیں — انتخابی کیلنڈر

27 اکتوبر 2026: اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے انتخابات کی مقررہ تاریخ۔

3 نومبر 2026: امریکہ میں وسط مدتی وفاقی انتخابات کی تاریخ۔

کالم نگار انتخابی دباؤ اور علاقائی جنگی فیصلوں کے درمیان ممکنہ تعلق پر بحث کرتے ہیں۔ تاہم محض انتخابات کی قربت سے نئی فوجی کارروائی کا فیصلہ یا وقت ثابت نہیں ہوتا۔

یہ دونوں تاریخیں متعلقہ پارلیمانی اور امریکی انتخابی ذرائع سے مطابقت رکھتی ہیں۔

معاملہ صرف ان جنگی طیاروں کی مشق تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھی اس مشق میں ساتھ موجود رہے ہیں، جس سے ماہرین کچھ اور ہی نتائج اخذ کر رہے ہیں۔ 

گو کہ امریکہ نے جنگ کا جو منصوبہ بنا رکھا تھا، اس میں امریکہ قطعاً کامیاب نہیں ہوا۔ ماسوائے ابتدائی کارروائی میں ایرانیوں کی صفِ اول کی قیادت کو قتل کرنے کے، امریکہ نے کوئی بھی ٹھوس کامیابی ایران کے خلاف حاصل نہیں کی۔

مزید پڑھیں

اس کے برعکس حالات یہ رہے ہیں کہ امریکہ نے جب بھی اور جہاں بھی جارحیت کرنے کی کوشش کی، ایران نے اس کا سود سمیت منہ توڑ جواب دیا ہے۔ 

امریکہ، جسے اپنی فضائی برتری کا شدید زعم تھا، ایران جنگ میں اپنے بہترین جنگی جہازوں کو اس قبرستان کی نذر کر چکا ہے کہ جن کو امریکی فضائیہ کا مان سمجھا جاتا تھا۔ سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جہاز تواتر کے ساتھ ایران کی فضا میں تباہ ہوتے رہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ کے وہ ڈرونز، جن پر امریکہ کو بڑا ناز تھا، ان کا قبرستان بھی ایرانی فضائیں بن چکی ہیں۔ 

یہ اب تاریخ کا حصہ اور فضائیں اس کی شاہد بن چکی ہیں۔

رہی بات سمندروں کے سینے پر تیرتے وسیع و عریض بحری بیڑوں کی، جن کی ہیبت سے امریکہ دنیا بھر کو ڈرا کر رکھتا تھا، جنگ کی ابتدا ہی میں ان بیڑوں کی حالت خستہ کرکے رکھ دی گئی اور ان بحری بیڑوں اور ان پر موجود جنگی جہازوں کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہو سکیں۔ 

✈️ اسرائیلی طیاروں کی سرگرمیاں — دعویٰ کیا ہے؟

کالم میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام اور عراق کی فضائی حدود سے ایرانی سرحدوں کی سمت مشق کی اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھی ان کے ساتھ تھے۔

مصنف اس مبینہ سرگرمی کو طویل فاصلے تک فوجی کارروائی کی تیاری کے ممکنہ اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اہم فرق: یہ کالم میں پیش کردہ دعویٰ ہے؛ اس کی مخصوص پروازوں، راستوں اور مقصد کی الگ تصدیق اس پیکج میں دستیاب نہیں۔

البتہ انتہائی بلندی سے کچھ جہازوں نے ایرانی ساحلی علاقوں پر بمباری ضرور کی مگر ایران نے نہ صرف اس کا بھرپور جواب دیا بلکہ ان جنگی جہازوں میں سے بیشتر کو نشانہ بھی بنایا۔

تاہم جنگ میں ہمہ وقت کامیابی ممکن نہیں ہوتی۔ 

جنگی داؤ پیچ میں فریقین کا نقصان بھی یقینی ہوتا ہے اور ایسا ہی اس جنگ میں بھی ہوا لیکن دنیا کو یہ علم ضرور ہو گیا کہ امریکہ ناقابلِ شکست نہیں ہے۔

ایران، جس پر دہائیوں سے امریکی پابندیاں عائد تھیں، اس کے باوجود اپنے دفاع سے کبھی غافل نہیں رہا۔ حالانکہ شہید سپریم لیڈر نے واضح طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف فتویٰ جاری کر رکھا تھا لیکن اس فتوے نے ایران کو اپنے دفاع سے کبھی غافل نہیں رہنے دیا اور نہ ہی اس نے کبھی عالمی شطرنج سے نظریں ہٹائیں، مبادا اس کی قیمت ایران کو چکانی پڑے، کیونکہ وہ امریکی مقاصد سے بخوبی واقف رہا ہے۔

ان حقائق کے باوجود ایران نے کبھی بھی جارحیت میں پہل نہیں کی اور نہ ہی کبھی جنگ کو پہلی ترجیح پر رکھا۔ 

یہی وجہ تھی کہ گزشتہ برس بھی امریکہ کے جنگ چھیڑنے کے بعد مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہوئے معاملات کو سمیٹ لیا گیا اور کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کیا گیا۔

🕊️ مذاکرات سے تصادم تک — سفارت کاری کا امتحان

مصنف کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں۔ وہ امریکی پالیسی میں پابندیوں اور فوجی دباؤ کے بیک وقت استعمال کو نمایاں کرتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں، سکیورٹی ضمانتوں اور علاقائی کارروائیوں پر اختلافات موجود ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ آیا سفارتی رابطے فوجی کارروائی روک پائیں گے یا فریقین مزید سخت شرائط کی طرف جائیں گے۔

موجودہ جنگ کی ابتدا بھی امریکہ کی جانب سے دورانِ مذاکرات ہی کی گئی اور بعد ازاں جنگ بندی کے معاہدے کو توڑنے کی ذمہ داری بھی امریکہ پر ہی رہی۔ 

حتیٰ کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کرنے کا الزام بھی فریقین ایک دوسرے پر رکھتے ہیں لیکن ابتدا امریکہ کی جانب سے ہی ہوتی رہی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ نئی
فوجی کارروائی
اور ایران کے
سخت ردعمل
کا خدشہ

اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اس اعصابی جنگ میں بھی شکست کھاتا نظر آ رہا ہے اور امریکی صدر اب کھلے عام یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ ایران اپنا رویہ درست نہیں کر رہا، لہٰذا اس کے خلاف مزید کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
امریکی میڈیا میں بھی یہ رپورٹس تواتر کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں کہ امریکہ درونِ خانہ ایران کے خلاف نئی منصوبہ بندیاں کر چکا ہے، البتہ ان پر عمل درآمد کے متعلق امریکی ذرائع ابلاغ خاموش ہیں۔
بہرحال ان منصوبوں پر عمل درآمد کے وقت کا تعین اب کوئی راکٹ سائنس نہیں رہی کہ اس وقت 27 اکتوبر کو اسرائیل میں انتخابات ہونے کو ہیں تو دوسری طرف 3 نومبر کو امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کا ڈول ڈلنے والا ہے اور دونوں انتخابات میں قدرِ مشترک ایران جنگ میں ملوث دونوں رہنماؤں کی تاریخی غیر مقبولیت ہے۔
اس امر کو سامنے رکھتے ہوئے اگر اسرائیلی جنگی طیاروں کی فضائی مشق کو اس صورتحال سے جوڑا جائے تو حقیقت بہرحال کچھ کچھ واضح ہوتی نظر آتی ہے۔
گو کہ حتمی طور پر ابھی بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن آثار و شواہد اس جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

⚔️ امریکی فوجی طاقت — مصنف کا مؤقف

کالم نگار کی رائے ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کا کم اندازہ لگانے سے امریکہ کو توقع سے زیادہ مشکلات پیش آئی ہیں۔

مضمون میں امریکی جنگی طیاروں، ڈرونز اور بحری قوت کے بھاری نقصانات سے متعلق سخت دعوے کئے گئے ہیں۔

اشاعتی احتیاط: ان مخصوص نقصانات کی تعداد، نوعیت اور واقعات کی غیرجانبدار تصدیق اس پیکج میں نہیں کی گئی۔ انہیں مصنف کے تجزیے کے طور پر ہی پڑھا جائے۔

امریکہ و اسرائیل دونوں مل کر بھی ایران جنگ سے کچھ ایسا حاصل نہیں کر پائے کہ عوام میں ان کی مقبولیت بڑھ سکتی۔ 

گو کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن بدقسمتی سے سیاستدانوں کے دل بھی پتھر ہو چکے ہیں اور اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کے سامنے انسانی جانوں کی کوئی حیثیت نظر نہیں آتی۔

اس جنگ میں پس پردہ یہی سب سے زیادہ قوی وجہ دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف ہوسِ اقتدار، توسیع پسندی اور کروسیڈ جنگ کے امکان کو بھی بہرطور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بہرحال صورتحال اس وقت ایسی بن چکی ہے کہ امریکہ نہ اس کو اگل پا رہا ہے اور نہ ہی نگل پا رہا ہے۔ ٹرمپ، خواہ جتنا بھی دھڑلے والا صدر ہو، اسرائیل کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا دکھائی دیتا ہے، جس کی ایک وجہ تو اس کا صیہونی نواز ہونا ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایپسٹین فائلز کا وہ مکروہ مواد ہے جس نے ٹرمپ کو چاروں شانے چت کر رکھا ہے۔ 

لہٰذا وہ اس ٹریپ سے باہر نکلنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے اور اسرائیلی خواہشات کی تکمیل میں امریکہ اپنی ساکھ داؤ پر لگا چکا ہے۔

🇮🇷 ایران کا ممکنہ جواب — حکمتِ عملی

ایران نے مزید بڑے امریکی حملوں کی صورت میں سخت اور وسیع تر جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ایرانی منصوبہ ساز جوابی کارروائی کا دائرہ امریکی تنصیبات سے آگے بڑھانے کے امکانات بھی دیکھ رہے ہیں۔

مصنف کا خیال ہے کہ آئندہ کسی تصادم میں ایران کے اہداف پہلے سے مختلف ہوسکتے ہیں۔

ابھی غیر یقینی: مخصوص اہداف، حملے کا وقت اور عسکری منصوبے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

بیشتر ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ کے ٹوٹنے کے بھرپور امکانات موجود ہیں۔ 

اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جس طرح کی سیاست اس وقت ٹرمپ امریکہ میں کر رہے ہیں، ایسی سیاست کا رواج امریکہ میں کبھی بھی نہیں رہا اور ممکنہ طور پر اس طرزِ سیاست سے ریاستوں کا اعتماد ٹوٹنے کا احتمال موجود ہے، جو ریاستوں کو الگ ہونے پر مجبور کر سکتا ہے۔

لیکن جب تک عدالتی نظام فعال ہے اور انصاف کی فراہمی یقینی ہے، صرف یہ امر ریاستوں کو الگ کرنے کے لئے کافی نہیں ہوگا۔ بہرحال دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے؟

✒
محمد مبشر انوار
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
←

صدر ٹرمپ جس طرح کے بیانات اس وقت دے رہے ہیں، ان سے لگتا ہے جیسے وہ بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہیں، اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہوں اور معاملات ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہوں۔ وگرنہ وہ کبھی یاسیت کے عالم میں اس امر کا اظہار نہ کرتے کہ سابق صدور کو بہت پہلے ایران کے خلاف یہ کارروائی کر دینی چاہئے تھی۔

🌊 آبنائے ہرمز — علاقائی جنگ کا عالمی راستہ

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم سمندری راستہ ہے۔ اس کے گرد کشیدگی تیل کی قیمتوں، انشورنس، شپنگ لاگت اور عالمی سپلائی پر اثر ڈال سکتی ہے۔

مصنف امریکی بحری بیڑوں کی سرگرمیوں اور ایران کی ساحلی دفاعی صلاحیت کا ذکر کرتے ہیں۔

کسی نئے تصادم میں سمندری تجارت کی حفاظت اور خطے سے تیل و گیس کی محفوظ ترسیل بنیادی بین الاقوامی تشویش ہوگی۔

یعنی ان کے خیال میں ماضی کی جو پالیسی امریکہ نے ایران کے خلاف اپنا رکھی تھی، اس سے کہیں بہتر تھا کہ ایران کے خلاف سابق صدور جارحیت کر دیتے اور ایران کو گوشمالی ماضی میں ہی کر دی جاتی تو ٹرمپ کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

بہرحال اب تو ٹرمپ سابق صدور کی پالیسی کے خلاف جا چکے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس وقت ٹرمپ سابق صدور یا امریکہ کی پرانی پالیسی کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسی بھی نافذ کر رہے ہیں۔ 

ایک طرف تو ایران کے خلاف نئی پابندیاں بھی عائد کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف ایران کے خلاف جارحیت بھی جاری ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امریکہ نے جنگ میں اترنے سے قبل ایران کی دفاعی صلاحیت و اہلیت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں لگایا اور اپنے دشمن کو انتہائی کمزور سمجھ کر اس پر حملہ آور ہوا ہے، جس پر امریکہ کو لینے کے دینے پڑ چکے ہیں۔

🏭 توانائی، ڈیٹا سینٹرز اور انفراسٹرکچر کا خطرہ

کالم میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وسیع جنگ کی صورت میں توانائی کی تنصیبات، زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور دیگر حساس انفراسٹرکچر بھی خطرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔

اس نوعیت کی تنصیبات کو نقصان صرف فوجی اثرات تک محدود نہیں رہتا بلکہ شہری خدمات، بینکنگ، انٹرنیٹ، صنعت اور تجارت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

کالم میں مذکور مخصوص اہداف ممکنات کے طور پر پیش ہوئے ہیں، تصدیق شدہ حملہ منصوبے کے طور پر نہیں۔

ماسوائے ایک کارروائی کے، جس کی طرف صدر ٹرمپ کبھی کرنے کا اشارہ دیتے ہیں تو کبھی اس سے انکار کرتے ہیں، جبکہ میری رائے یہی ہے کہ صدر ٹرمپ اس جنگ کو جیتنے کے لئے ہر حد تک جا سکتے ہیں۔

انتہائی اقدام اٹھانے کے حوالے سے ایسی متضاد باتوں کا مقصد بھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ اگر انتہائی قدم اٹھایا جائے تو اس حوالے سے گفتگو ریکارڈ پر ہو، باقی واللہ اعلم۔

دوسری طرف ایران کی جانب سے ان تمام تر دھمکیوں کے جواب میں واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ اس مرتبہ بھی اپنی خواہش پوری کر لیں لیکن اس مرتبہ بھی جواب ماضی سے ہٹ کر نہیں ہوگا بلکہ ایران اس مرتبہ کچھ نیا جواب دے گا۔ 

ایران کے اہداف بھی مختلف اور نئے ہوں گے۔

🗳️ داخلی سیاست اور خارجہ فیصلے

مصنف کا استدلال ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی داخلی سیاست، عوامی دباؤ اور انتخابی ماحول خطے سے متعلق فیصلوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

کالم میں ٹرمپ اور اسرائیلی قیادت کی سیاسی مشکلات پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ ایپسٹین فائلز کے ذریعے کسی بیرونی سیاسی کنٹرول سے متعلق دعوے کی یہاں تصدیق نہیں کی گئی۔

انتخابی مہم کے بیانات اور حقیقی فوجی فیصلوں میں فرق رکھنا ضروری ہے؛ فوجی اقدام کی وجوہات کو کسی ایک سیاسی عامل سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

اگر ایران کے بنیادی انفراسٹرکچر، توانائی، ایٹمی سائٹس یا ایسے اثاثوں کو ہدف بنایا گیا تو جواب میں ایران نہ صرف مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو نشانہ بنائے گا جو ایران کے دشمن کی معاشی لائن ہیں بلکہ اس مرتبہ ممکنہ طور پر امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ زیرِ سمندر کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی سینٹرز وغیرہ بھی ایران کے نشانے پر ہوں گے۔ 

سب سے بڑھ کر اسرائیل کا ایٹمی پلانٹ دیمونا بھی ایران کا جائز ہدف ہوگا۔

ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر یہ سمجھا جائے کہ امریکہ و اسرائیل اپنی داخلی صورتحال سے مجبور ہو کر ایران پر حملہ کریں تو ممکنہ طور پر 27 اکتوبر سے قبل جنگ کے اس ’طبل کو بج جانا‘ چاہئے۔

ادارتی نوٹ
▼
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔