🎵
فیکٹ باکس: نوکیا ٹیون کے 5 حیران کن حقائق
+
ایک صدی پرانی دھن
یہ مشہور رنگ ٹون موبائل فون کی ایجاد سے کئی دہائیاں قبل 1902 میں ہسپانوی موسیقار فرانسسکو تاریگا نے گٹار کے لیے تخلیق کی تھی۔
موبাইল میں شمولیت
نوکیا نے 1994 میں اپنے ماڈل نوکیا 2110 میں اس دھن کو بطور رنگ ٹون متعارف کرایا، جہاں صارفین اسے اپنی مرضی سے منتخب کر سکتے تھے۔
عالمی شہرت اور روزانہ سماعت
2009 کے تخمینے کے مطابق یہ دھن دنیا بھر میں روزانہ تقریباً ایک ارب 80 کروڑ مرتبہ یعنی ہر سیکنڈ میں لگ بھگ 20 ہزار بار سنائی دیتی تھی۔
نام کی تبدیلی
شروع میں اسے 'گرینڈ والس' کہا جاتا تھا، لیکن 1998 کے آس پاس یہ باضابطہ طور پر کمپنی کی منفرد پہچان بنتے ہوئے 'نوکیا ٹیون' کے نام سے مشہور ہوئی۔
اسمارٹ فونز کا دور اور زوال
اسمارٹ فونز اور کسٹم گانوں کے رجحان نے موبائل مارکیٹ میں نوکیا کا غلبہ کم کیا، جس کے بعد یہ گونجتی ہوئی آواز روزمرہ زندگی سے بتدریج کم ہونے لگی۔
کبھی کسی دفتر، بازار، بس یا شادی کی تقریب میں اچانک نوکیا کے فون کی مخصوص گھنٹی بجتی تو کئی لوگ بے اختیار اپنی جیبیں ٹٹولنے لگتے تھے۔
مزید پڑھیں
چند سیکنڈ کی یہ دھن اتنی مقبول ہوئی کہ دنیا بھر میں موبائل فون کی پہچان بن گئی۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس موسیقی کی کہانی موبائل فون کی ایجاد سے بھی کئی دہائیاں پہلے شروع ہو چکی تھی۔
ایک صدی پرانی موسیقی
نوکیا کی مشہور رنگ ٹون دراصل ہسپانوی موسیقار اور کلاسیکی گٹار
کے ماہر فرانسسکو تاریگا کی تخلیق کردہ موسیقی کا مختصر حصہ ہے۔
روزانہ ایک ارب 80 کروڑ بار بجنے والی نوکیا رنگ ٹون کا راز
ایک صدی پرانی کلاسیکی گٹار دھن کس طرح دنیا بھر کے موبائل فونز کی مشہور ترین پہچان بن گئی۔
فرانسیسکو تاریگا کی 1902 کی دھن ’گران والس‘ کو نوکیا نے 1993 میں منتخب کیا، جو عروج پر روزانہ تقریباً ایک ارب 80 کروڑ بار سنی جاتی تھی۔
🎸 ایک صدی پرانی گٹار دھن
1902یہ مشہور رنگ ٹون ہسپانوی موسیقار فرانسیسکو تاریگا کی تخلیق کردہ کلاسیکی دھن ’گران والس‘ کا حصہ ہے، جسے 1902 میں تیار کیا گیا تھا۔
📱 نوکیا فونز میں شمولیت
1994سنہ 1993 میں نوکیا کے عہدیداروں نے اسے منتخب کیا اور 1994 میں متعارف ہونے والے نوکیا 2110 کا حصہ بنایا۔
🌍 عالمی مقبولیت اور ریکارڈ
1.8Bعروج کے دور میں 2009 کے اندازے کے مطابق یہ دھن روزانہ تقریباً ایک ارب 80 کروڑ مرتبہ یعنی ہر سیکنڈ میں بیس ہزار بار سنائی دیتی تھی۔
📉 اسمارٹ فونز کا دور
اسمارٹ فونز اور کسٹم رنگ ٹونز کے آنے سے یہ آواز کم ضرور ہوئی، لیکن یہ ٹیکنالوجی کی تاریخ کی سب سے یادگار برانڈ پہچان بن گئی۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
انہوں نے 1902 میں ’’گران والس‘ (Gran Vals) نامی دھن ترتیب دی تھی، جس کے 13ویں موسیقی کے فقرے کے بعد آنے والے 4 فقروں نے آگے چل کر دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔
اس موسیقی کے پیچھے ایک اور دلچسپ حوالہ بھی موجود ہے۔ بعض موسیقی ماہرین کے مطابق تاریگا کی تخلیق پر معروف موسیقار فریڈرک شوپن کی پیانو کمپوزیشن ’گرینڈ والس برلیانٹے‘ کا اثر تھا۔
یوں نوکیا کی پہچان بننے والی دھن کی جڑیں کلاسیکی یورپی موسیقی کی روایت سے جڑی ہوئی ہیں۔
📊
یک دھن، اربوں بار: نوکیا رنگ ٹون کے ناقابلِ یقین اعداد
+
عروج کا سال (2009)
سنہ 2009 کے شحصیت و ثقافت کے جائزوں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے زیادہ پہچانی جانے والی آواز بن چکی تھی۔
روزانہ سماعت (1.8 ارب)
یہ دھن دنیا بھر میں ہر روز تقریباً ایک ارب 80 کروڑ مرتبہ سنی جاتی تھی، جو اس دور میں کسی بھی برانڈ کی بے مثال رسائی تھی۔
فی سیکنڈ رفتار (20 ہزار)
حساب لگایا جائے تو دنیا کے مختلف کونوں میں یہ مخصوص گھنٹی ہر ایک سیکنڈ میں لگ بھگ 20 ہزار بار گونجتی تھی۔
اشتہار سے موبائل فون تک سفر
1990 کی دہائی کے آغاز میں نوکیا کو اپنے موبائل فون کی تشہیر کے لیے موسیقی درکار تھی۔
کمپنی نے نئی دھن بنوانے کے بجائے ’گران والس‘ کی ریکارڈنگ کا ایک مختصر حصہ اشتہار میں استعمال کیا۔ 1993 میں نوکیا کے عہدیداروں انسی وانیوکی اور لوری کیوینن نے اسی دھن کے ایک حصے کو فون کی رنگ ٹون بنانے کے لیے منتخب کیا۔
Waldemar Malicki’s Nokia Ringtone Improvisation #piano #classicalmusic https://t.co/R6t8dvhX6s
— 𝗖𝗹𝗮𝘀𝘀𝗶𝗰𝗮𝗹 𝗠𝗲𝗹𝗼𝗱𝗶𝗲𝘀 (@Old_But_Gold50s) April 14, 2026
یہ دھن 1994 میں متعارف ہونے والے نوکیا 2110 میں شامل کی گئی۔
اس وقت یہ کوئی الگ مشہور برانڈ نہیں تھی بلکہ فون میں موجود دیگر رنگ ٹونز کی طرح ایک انتخاب تھا۔ صارفین اسے بدل بھی سکتے تھے، جو اس دور میں ایک قابلِ ذکر سہولت سمجھی جاتی تھی۔
⏳
1902 سے نوکیا تک: ایک صدی کا حیرت انگیز سفر
+
1902: گٹار دھن کی تخلیق
ہسپانوی موسیقار فرانسسکو تاریگا نے ’’گران والس‘ (Gran Vals) ترتیب دی، جس کا ایک مخصوص حصہ بعد میں اس تاریخی کہانی کی بنیاد بنا۔
1993: اشتہار سے انتخاب
نوکیا کے عہدیداروں انسی وانیوکی اور لوری کیوینن نے تشہیری اشتہار میں موجود اس دھن کے حصے کو موبائل کی رنگ ٹون کے لیے منتخب کیا۔
1994: نوکیا 2110 میں انٹری
یہ دھن پہلی بار متعارف ہونے والے نوکیا 2110 ماڈل میں شامل کی گئی، جہاں یہ فون میں موجود عام رنگ ٹونز میں سے ایک انتخاب تھی۔
1998: 'نوکیا ٹیون' کا قیام
1997 میں 'گرینڈ والس' اور پھر 1998 کے آس پاس باضابطہ طور پر 'نوکیا ٹیون' کا نام دے کر اسے برانڈ کی عالمی شناخت بنا دیا گیا۔
1997 میں اسے ’گرینڈ والس‘ کا نام دیا گیا، جبکہ 1998 کے آس پاس یہ ’نوکیا ٹیون‘ کے نام سے کمپنی کی شناخت بن گئی۔ بعد میں نوکیا 3310 جیسے مقبول فونز نے بھی اس دھن کو دنیا بھر میں عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ہر سیکنڈ میں ہزاروں بار سنائی دینے والی آواز
نوکیا کی مقبولیت اپنے عروج پر پہنچی تو اس کی رنگ ٹون محض فون کی گھنٹی نہیں رہی بلکہ عالمی ثقافت کا حصہ بن گئی۔
2009 میں سامنے آنے والے ایک اندازے کے مطابق یہ دھن دنیا بھر میں روزانہ تقریباً ایک ارب 80 کروڑ مرتبہ سنائی دیتی تھی، یعنی ہر سیکنڈ میں لگ بھگ 20 ہزار بار۔
🎸
کیا آپ جانتے ہیں؟ نوکیا کی رنگ ٹون کا اصل خالق کون تھا؟
+
فرانسسکو تاریگا اور 'گران والس'
یہ دھن ہسپانوی موسیقار اور کلاسیکی گٹار کے ماہر فرانسسکو تاریگا کی 1902 میں تخلیق کردہ دھن کا مختصر حصہ ہے جو بعد میں موبائل کی دنیا کا حصہ بنی۔
کلاسیکی اثرات
موسیقی کے بعض ماہرین کے مطابق تاریگا کی اس تخلیق پر نامور موسیقار فریڈرک شوپن کی پیانو کمپوزیشن ’گرینڈ والس برلیانٹے‘ کا گہرا اثر بھی شامل تھا۔
اس دھن نے موسیقی اور تفریح کی دنیا میں بھی جگہ بنائی۔ مختلف فنکاروں نے اسے اپنی تخلیقات میں شامل کیا، جبکہ اس کی مخصوص آواز سن کر لوگ فوراً نوکیا کے فون کو پہچان لیتے تھے۔
یہ کسی ٹیکنالوجی برانڈ کے لیے غیر معمولی کامیابی تھی۔
پھر یہ آواز کہاں کھو گئی؟
اسمارٹ فونز کے دور میں صارفین نے اپنی پسند کے گانے رنگ ٹون کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیے۔
📉
نوکیا ٹیون کا عروج و زوال: دنیا کی پسندیدہ آواز کہاں گئی؟
+
اسمارٹ فونز کا دور
اسمارٹ فونز کے انقلاب نے صارفین کو اپنی پسند کے گانے اور ٹونز بطور رنگ ٹون استعمال کرنے کی آزادی دی، جس سے روایتی گھنٹیاں کم ہونے لگیں۔
منڈی میں تبدیلی
آئی فون اور اینڈرائیڈ کی مقبولیت کے ساتھ موبائل مارکیٹ میں نوکیا کا غلبہ گھٹتا گیا، اور وہ معروف آواز روزمرہ زندگی سے بتدریج غائب ہوگئی۔
دوسری جانب آئی فون اور اینڈرائیڈ فونز کی مقبولیت بڑھنے کے ساتھ موبائل مارکیٹ میں نوکیا کا غلبہ بھی کم ہوتا گیا۔ نتیجتاً وہ دھن جو کبھی تقریباً ہر جگہ سنائی دیتی تھی، روزمرہ زندگی میں کم ہونے لگی۔
تاہم نوکیا کی رنگ ٹون کی کہانی آج بھی یاد دلاتی ہے کہ ٹیکنالوجی کی بعض بڑی پہچانیں کسی نئی ایجاد سے نہیں بلکہ ماضی کی کسی تخلیق کو نئے انداز میں پیش کرنے سے جنم لیتی ہیں۔
ایک صدی پرانی گٹار موسیقی چند سیکنڈ کی رنگ ٹون بنی اور پھر دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کی یادوں کا حصہ بن گئی۔