براہ راست نشریات

امت کیوں مغلوب ہوئی؟ فکری یلغار، علم سے دوری اور دنیا کی محبت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Decline of Muslim Ummah
Picture of عبد الستار خان

عبد الستار خان

اوورسیز پوسٹ

امت کے اہلِ خرد کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ جس امت کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم ذمہ داری کے لئے تیار کیا، وہ آج مغلوب کیوں ہے۔
مضمون عصر حاضر میں امت کے انحطاط کو مغربی استعمار، اسلامی عقائد و نظریات کو مشکوک بنانے، فکری یلغار اور مسلم نوجوانوں کو اپنی دینی شناخت سے دور کرنے کی کوششوں سے جوڑتا ہے۔
ساتھ ہی امت کے اندر علم، عمل، اخلاق، وحدت اور فرض منصبی کے شعور کی کمزوری کو بھی زوال کے اہم اسباب میں شمار کرتا ہے۔

3/5

امت کے اہل خرد کو جائزہ لینا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کی نگرانی میں اس امت کی کس نہج پر تربیت کی تھی۔ 

وہ کون سی چیزیں ہیں جو امت کو دوبارہ جگانے کا کام دے سکتی ہیں۔ 

❓ امت آج مغلوب کیوں ہے؟

مضمون کے آغاز میں اہلِ خرد کے سامنے بنیادی سوال رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس امت کی خاص تربیت کی، وہ آج اپنے اصل مقام سے کیوں دور ہے۔

یہ سوال صرف سیاسی زوال کا نہیں بلکہ فکری، علمی اور روحانی کمزوری کا بھی ہے۔

اس امت کی بقا کا انحصار اگر رسول اکرمﷺ کی حیات مبارکہ سے مرہون ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرﷺ کو اس دنیا سے کبھی رخصت نہ کرتے۔ 

اللہ تعالیٰ نے اس امت میں قرآن مجید کو اپنی اصل شکل میں چھوڑا ہے۔ 

جب یہ دین غالب ہونے کے لئے آیا ہے تو اس دین کی حامل امت آج کیوں مغلوب ہے؟

مزید پڑھیں

تاریخی حقائق گواہ ہیں کہ عصر حاضر میں امت کے انحطاط کا آغاز مغربی استعمار سے ہوا۔ 

اس وقت سے لے کر آج تک مسلمانوں کے سامنے اسلامی عقائد و نظریات کو مشکوک بنایا جارہا ہے۔ 

قرآن مجید کی تعلیمات کو دور جاہلیت تک محدود کیا جارہا ہے۔ 

اسلامی تعلیمات کے بعض حصوں کو قبول کرنے اور بعض کو رد کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ 

اسلام کو تشدد پسند دین اور مسلمانوں کو انتہا پسند بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ 

مغربی نظریات کی ترویج و اشاعت کے لئے سوشل میڈیا، ٹی وی اور اطلاعات کے دیگر جدید وسائل کو استعمال کرکے فکری یلغار مسلط ہے۔ 

🏛️ انحطاط کا آغاز کہاں سے؟

مضمون کے مطابق عصر حاضر میں امت کے انحطاط کا آغاز مغربی استعمار سے ہوا۔

اس کے بعد اسلامی عقائد، نظریات اور تہذیبی شناخت کو مشکوک بنانے کی کوششیں مسلسل جاری رہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امت جسے اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارض کا بہترین خطہ دیا ہوا ہے، سونا، چاندی، معدنیات اور دیگر تمام وسائل ہیں۔ 

دنیا میں ہونے والی کل تجارت کا بڑا حصہ اسلامی دنیا سے وابستہ ہے۔ 

اس کے باوجود مسلم نوجوانوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جارہی ہے جو نام، رنگ و نسل سے تو مسلمان ہو مگر فکری اور عقائدی طور پر اس کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی رشتہ ناتا نہ ہو۔

آج دنیا کو اس امت کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ اس امت کے افراد کو زیاں کا احساس تک نہیں۔ 

انہیں اندازہ ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس اہم ذمہ داری کے لئے چنا تھا۔ 

دنیا کی دیگر امتوں پر گواہی دینے کے لئے اس امت کے پاس وہ فکری اور علمی وسائل نہیں رہے جن کی مدد سے وہ دیگر امتوں میں ممتاز مقام حاصل کرسکے۔ 

📡 فکری یلغار کیسے ہوئی؟

مضمون میں انٹرنیٹ، ٹی وی اور اطلاعات کے دیگر جدید ذرائع کو فکری یلغار کے اہم وسائل کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

اس یلغار کا مقصد اسلامی تعلیمات کو محدود، مشکوک یا غیر متعلق دکھانا قرار دیا گیا ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ اس امت کے افراد علوم و فنون میں دنیا کے امام اس وقت تھے جب اپنے رب پر ایمان میں سب سے زیادہ مضبوط تھے، جب اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل پیرا تھے۔ 

جب اس امت کے افراد کا ایمان کمزور ہوا اور اس نے کتاب اللہ کو برکت کے لئے پڑھنا شروع کردیا اور عمل کی دنیا سے دور ہوگئے تو علوم و فنون میں دیگر امتیں اس سے سبقت لے گئیں۔

امت کے افراد
دنیا کے امام
اس وقت تھے
جب اپنے رب پر
ایمان میں سب سے
زیادہ مضبوط تھے

اس امت نے اپنے افکار و نظریات دیگر امتوں پر مسلط نہیں کئے بلکہ اسلام کا عقیدہ پھیلانے کے لئے اس نے علم و اخلاق کا سہارا لیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ بغداد، قاہرہ، دمشق، قرطبہ اور اسلامی دنیا کے دیگر شہر جب علم کے مینارۂ نور تھے تو دین کی روشنی کو پھیلانے کے لئے امت کے افراد کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ جب علم کے یہ چراغ بجھ گئے تو دنیا نے اس امت کے افراد پر طرح طرح کے لیبل لگانے شروع کردیئے۔
دنیا جانتی ہے کہ آج مغربی دنیا جس سائنسی ترقی پر فخر کرتی ہے وہ اس امت کے سائنس دانوں کی دَین ہے۔
اس امت کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ بنی نوع انسانی کو ہر قسم کے شر و فساد سے نجات دلائے اور اس اہم فرض کی ادائیگی کے لئے اس کے پاس اس قدر قوت و طاقت ہو جس سے وہ بلا خوف و خطر اور بلا روک ٹوک اچھائیوں کے پھیلانے اور برائیوں کے مٹانے میں استعمال کرسکے۔

🧠 نئی نسل اور شناخت کا بحران

مضمون میں تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ ایک ایسی نسل تیار ہورہی ہے جو نام، رنگ اور نسل سے تو مسلمان ہو مگر فکری اور عقائدی طور پر اسلام سے دور ہوجائے۔

یہ مسئلہ امت کی مستقبل کی شناخت سے براہِ راست جوڑا گیا ہے۔

اس امت کو منصب امامت اس لئے عطا کیا گیا ہے کہ انسانی زندگی سے برائیوں کو مٹانے اور شر کو ملیا میٹ کرنے کے مستقل اور مسلسل عمل میں لگی رہے اور اس جہد مسلسل میں ایمان باللہ کے وصف سے متصف رہے کیونکہ ایمان ہی کے ذریعہ سے معروف و منکر کا پتہ چل سکتا ہے اور اس کی تحدید ہوسکتی ہے۔

امت کا شیرازہ مجتمع کرنے کے لئے ضروری ہے کہ امت کے افراد خود قبیلوں، قوموں، ریاستوں اور پارٹیوں کے حصار سے باہر نکلیں۔ 

لسانی اور نسلی عصبیتوں سے خود کو پاک کریں اور وحدت کے تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا فرض منصبی یاد کریں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں برپا کیا تھا۔ 

📚 علم سے دوری اور زوال

مضمون کے مطابق امت کے افراد اس وقت علوم و فنون میں نمایاں تھے جب ایمان اور عمل مضبوط تھے۔

جب کتاب اللہ سے عملی تعلق کمزور ہوا تو دوسری اقوام نے علمی میدان میں سبقت حاصل کرلی۔

کیا یہ بات قابل تعجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’قبیلہ‘ کا ذکر صرف ایک مرتبہ کیا ہے۔ 

اسلام قبائلی تعصب اور لسانی، گروہی، قومی، وطنی اور ہر طرح کی دھڑے بازیوں کی بیخ کنی کرتے ہوئے کلمۂ طیبہ ’لا الٰہ الا اللہ‘ کے ماننے والوں کو امت کی لڑی میں پروتا ہے۔

دنیا کے انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی ذمہ داری اس امت پر عائد ہوتی ہے۔ 

اگر ہم اللہ تعالیٰ کی عدالت میں واقعی اس بات کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت جو تیرے رسولﷺ کے ذریعہ سے ہمیں پہنچی تھی، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے تو ہم بری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔

اس وقت پوری دنیا میں مسلم امہ گونا گوں مسائل و مشکلات اور مصائب و آلام سے دوچار ہے۔ 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قتل و خونریزی، تباہی و بربادی، فقر و افلاس، ناخواندگی و پسماندگی، مکر و فریب اور سیہ کاریاں ان کا مقدر بن چکی ہیں۔ 

دنیا میں کوئی ایسا علاقہ اور ملک نہیں جہاں مسلم امہ کا خون نہ بہایا جارہا ہو، ان کی عزت و آبرو سے کھلواڑ نہ کیا جارہا ہو، ان کی املاک و جائداد تباہ و برباد نہ کی جارہی ہوں، ان کے حقوق پامال نہ کئے جارہے ہوں، ان کی تذلیل و تحقیر نہ کی جارہی ہو، ان پر شب خون نہ مارا جارہا ہو، انہیں اپنے ہی ملک سے بے دخل نہ کیا جارہا ہو۔ 

🏙️ بغداد، قاہرہ، دمشق اور قرطبہ

مضمون میں بغداد، قاہرہ، دمشق اور قرطبہ کو اس دور کی مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے جب اسلامی دنیا کے شہر علم کے مینارۂ نور تھے۔

علمی قوت نے امت کی تہذیبی اور دعوتی حیثیت کو بھی مضبوط بنایا۔

بہت سے مسلمانوں کو تو زندگی، آزادی، تعلیم اور ملکی حقوق سے بھی محروم کردیا گیا ہے اور وہ انتہائی کسمپرسی اور بے چارگی کی حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ 

اس کی بنیادی وجہ قرآنی تعلیمات سے بے اعتنائی، نبی کریمﷺ کی نورانی و پاکیزہ سیرتوں سے غفلت و لاپروائی، اغیار کی تقلید و پیروی اور دنیا سے محبت ہے، جیسا کہ متعدد احادیث مبارکہ میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ 

ایک مرتبہ متعدد صحابہ کرامؓ رسالت مآبﷺ کی بابرکت مجلس میں تشریف فرما تھے کہ نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا:

ایک وقت ایسا آئے گا کہ اقوامِ عالم تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جس طرح بھوکا شخص کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ 

یہ سن کر ایک صحابیؓ کو حیرت ہوئی اور فرمایا کہ اے اللہ کے رسولﷺ کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہوگی؟ 

🧭 امت کا اولین فریضہ

مضمون میں امت کا اولین فریضہ بنی نوع انسانی کو شر و فساد سے نجات دلانا بیان کیا گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے علم، ایمان، اخلاق اور ایسی اجتماعی قوت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جو اچھائی کو پھیلانے اور برائی کو روکنے میں مؤثر ہو۔

تو آپﷺ نے فرمایا:

نہیں، بلکہ اس وقت تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن تمہاری حیثیت سمندر کے جھاگ کی طرح ہوگی، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہارا ڈر و خوف اور ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن پیدا کردے گا۔

صحابیؓ نے دریافت کیا اے اللہ کے رسولﷺ وہن کیا چیز ہے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

وہن کا مطلب دنیا سے محبت اور موت سے نفرت ہے۔ (سنن ابو داؤد)

⚠️ حدیثِ وہن — کمزوری کی آخری تنبیہ

مضمون کے آخر میں سنن ابو داؤد کی روایت نقل کی گئی ہے جس میں مسلمانوں کی کثرت کے باوجود کمزوری کا ذکر ہے۔

وہن کی وضاحت دنیا سے محبت اور موت سے نفرت کے طور پر کی گئی ہے۔

یہی روایت مضمون کے مرکزی سوال کو مزید گہرا کرتی ہے: تعداد بہت ہو، مگر مقصد، ایمان اور حوصلہ کمزور ہوجائے تو امت اپنی قوت کھو سکتی ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے