امت کے اہلِ خرد کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ جس امت کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم ذمہ داری کے لئے تیار کیا، وہ آج مغلوب کیوں ہے۔
مضمون عصر حاضر میں امت کے انحطاط کو مغربی استعمار، اسلامی عقائد و نظریات کو مشکوک بنانے، فکری یلغار اور مسلم نوجوانوں کو اپنی دینی شناخت سے دور کرنے کی کوششوں سے جوڑتا ہے۔
ساتھ ہی امت کے اندر علم، عمل، اخلاق، وحدت اور فرض منصبی کے شعور کی کمزوری کو بھی زوال کے اہم اسباب میں شمار کرتا ہے۔
اس امت نے اپنے افکار و نظریات دیگر امتوں پر مسلط نہیں کئے بلکہ اسلام کا عقیدہ پھیلانے کے لئے اس نے علم و اخلاق کا سہارا لیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ بغداد، قاہرہ، دمشق، قرطبہ اور اسلامی دنیا کے دیگر شہر جب علم کے مینارۂ نور تھے تو دین کی روشنی کو پھیلانے کے لئے امت کے افراد کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ جب علم کے یہ چراغ بجھ گئے تو دنیا نے اس امت کے افراد پر طرح طرح کے لیبل لگانے شروع کردیئے۔
دنیا جانتی ہے کہ آج مغربی دنیا جس سائنسی ترقی پر فخر کرتی ہے وہ اس امت کے سائنس دانوں کی دَین ہے۔
اس امت کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ بنی نوع انسانی کو ہر قسم کے شر و فساد سے نجات دلائے اور اس اہم فرض کی ادائیگی کے لئے اس کے پاس اس قدر قوت و طاقت ہو جس سے وہ بلا خوف و خطر اور بلا روک ٹوک اچھائیوں کے پھیلانے اور برائیوں کے مٹانے میں استعمال کرسکے۔