براہ راست نشریات

امتِ وسط: مسلمان اپنی اصل ذمہ داری سے کیسے دور ہوئے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
Concept of Ummah Wasat
Picture of عبد الستار خان

عبد الستار خان

اوورسیز پوسٹ

امتِ مسلمہ کا وجود کسی ایک حکومت یا سلطنت پر منحصر نہیں بلکہ اس کی اصل بنیاد عقیدۂ توحید اور قرآن مجید ہے۔
تاریخ میں بڑی مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں اور ختم ہوگئیں، مگر امت باقی رہی۔
مضمون کے مطابق امت اور ریاست کے مفادات جب ایک دوسرے سے ہم آہنگ رہے تو مسلمانوں نے ترقی کی، جبکہ تصادم نے بحران پیدا کئے۔
قرآن نے مسلمانوں کو ’امت وسط‘ قرار دیا، یعنی ایک ایسی جماعت جو عدل و اعتدال پر قائم ہو اور دنیا کے سامنے حق کی گواہی دے۔

2/5

رسول اکرمﷺ جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپﷺ نے اپنے پیچھے امام نہیں بلکہ امت چھوڑی تھی جو آپﷺ کے بعد آپﷺ کے دین کی وارث ہے۔ 

اسی امت سے بعد ازاں امام بنا، تہذیب اور تمدن کی بنیاد پڑی۔ 

امت کی بنیاد عقیدۂ توحید ہے۔ 

🕋 امت کی بنیاد کیا ہے؟

مضمون کے مطابق امت کی اصل بنیاد عقیدۂ توحید ہے۔

اس کے تمام امور و معاملات اسی عقیدے کے گرد گھومتے ہیں۔

امت کی بقا کسی ایک سیاسی نظام، سلطنت یا حکمران سے وابستہ نہیں، بلکہ اس کے بنیادی دینی رشتے سے ہے۔

اسی عقیدہ کے گرد اس کے تمام امور و معاملات کا دار و مدار ہے۔ 

درحقیقت امام امت کا شیرازہ مجتمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر امت کا وجود امام پر منحصر نہیں، تاہم سیاسی، معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے امت کے لئے امام ضروری ہے۔

مزید پڑھیں

 تاریخ کے مختلف ادوار میں بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں اور فنا ہوگئیں۔ 

اگر امت کا وجود امام پر منحصر ہوتا تو جہاں اموی، عباسی اور عثمانی 

سلطنتیں تزک و احتشام کے ساتھ قائم ہوئیں اور پھر فنا ہوگئیں، اسی طرح امت کا وجود بھی کب کا ختم ہوچکا ہوتا مگر امت کا وجود کلمۂ طیبہ ’لا الٰہ الا اللہ‘ کے ساتھ مرہون ہے۔ 

یہ کلمہ جب پہلی بار سرزمین پر بلند ہوا، اسی وقت یہ امت برپا ہوئی۔ 

رسول اکرمﷺ کی امت اس وقت تک رہے گی جب تک قرآن مجید اپنی خالص صورت میں موجود رہے گا۔

🏛️ سلطنتیں ختم ہوئیں، امت باقی رہی

اموی، عباسی اور عثمانی سلطنتیں اپنے اپنے دور میں عظمت کے ساتھ قائم ہوئیں، پھر ختم ہوگئیں۔

اگر امت کا وجود صرف سیاسی اقتدار پر منحصر ہوتا تو ان سلطنتوں کے خاتمے کے ساتھ امت بھی ختم ہوجاتی۔

اصل نکتہ: امت کا وجود حکومت سے بڑا اور زیادہ دیرپا تصور ہے۔

امت جب تک اپنا اصل کردار ادا کرتی رہے گی، اس وقت تک ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے والی قوت اس کے ہم رکاب رہے گی مگر جب اقتدار پر فائز افراد کا طبعی حجم بڑھ جائے گا، امت کی قوت پس پردہ چلی جائے گی۔ 

یہ ایک فطری دائرہ ہے جس کے گرد امت اور اقتدار گھومتے ہیں۔ 

امت کی تاریخ کے سنہری دور کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جب تک امت اور ریاست کے مفادات یکجا تھے، اس وقت تک اس امت کو دنیا کی دیگر امتوں کے مقابلے میں نمایاں مقام حاصل تھا اور جس وقت امت اور ریاست کے مفادات میں تصادم شروع ہوا، امت مختلف بحرانوں کا شکار ہوئی۔ 

تاریخ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ جب کسی ریاست نے خود کو امت سے بلا تصور کیا اور اسلام کی اصولی تعلیمات سے خود کو مستثنیٰ سمجھا تو وہ عبرت کا نشان بنی۔ 

تاریخ اسلام کی کامیاب ترین ریاستیں وہی تصور کی جاتی ہیں جنہوں نے امت کی بالادستی کو تسلیم کیا اور اپنے مفادات کو امت کے مفادات سے ہم آہنگ کیا۔ 

جب ایسا ہوا تو امت نے بھی ترقی کی اور اس کی ترقی سے ریاست کو بھی عروج حاصل ہوا۔

⚖️ امت اور ریاست کا تعلق

مضمون کے مطابق جب امت اور ریاست کے مفادات ایک دوسرے سے ہم آہنگ رہے تو مسلمانوں کو ترقی اور عروج حاصل ہوا۔

جب دونوں کے درمیان تصادم پیدا ہوا تو امت مختلف بحرانوں کا شکار ہوئی۔

کامیاب ریاست وہی تصور کی گئی ہے جو امت کے مفادات کو نظرانداز نہ کرے۔

دعوت دین کے لئے جہاں ایک مکمل تحریک کی ضرورت ہے وہاں اقتدار کی بھی ضرورت ہے کیونکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ بغیر قوت و اقتدار کے انجام نہیں پاسکتا۔ 

اسلام کو مکمل طور پر برپا کرنے اور اس کے سماجی اور شہری زندگی میں نفاذ کے لئے اقتدار اور قوت ناگزیر ہے تاکہ اس اقتدار کی مدد سے دعوت دین کا کام پورے زور سے کیا جائے۔ 

اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی صراط مستقیم اور اس کا نازل کردہ منہاجِ زندگی صرف وعظ و ارشاد ہی کا نام نہیں۔ 

وعظ و ارشاد تو اس نظام کا ایک پہلو ہے۔ 

اسلام تو یہ ہے کہ وہ قوت و اقتدار فراہم کیا جائے جس کے تحت انسانی زندگی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کیا جاسکے۔

📣 دعوتِ دین اور قوت کی ضرورت

مضمون میں یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ دعوتِ دین کے ساتھ قوت اور اقتدار کی بھی اہمیت ہے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو مؤثر طور پر ادا کرنے کے لیے اجتماعی قوت ضروری قرار دی گئی ہے۔

اس تصور میں اسلام کو صرف وعظ و ارشاد تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ عملی اجتماعی نظام سے بھی جوڑا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کی امت کو ’امت وسط‘ قرار دیا ہے۔ 

ارشاد ربانی ہے: 

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَسَطاً لِتَکُونُوْا شُہَدَآء عَلَیٰ النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیْداً

’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک ’امت وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ رہو اور رسول تم پر گواہ ہو‘۔ (البقرہ 143) 

وسط چونکہ درمیانی یا معتدل چیز کو کہتے ہیں لہٰذا اس کا ایک معنی عادل امت بھی ہے، چنانچہ یہ امت اور اس کے رسولﷺ قیامت کے دن حق کے ساتھ گواہی دیں گے۔ (تیسیر القرآن۔ از مولانا عبد الرحمن کیلانی)

🌐 امتِ وسط کیا ہے؟

قرآن مجید میں مسلمانوں کو امتِ وسط کہا گیا ہے۔

وسط کا مفہوم اعتدال، توازن اور انصاف سے وابستہ ہے۔

اس کے مطابق امت کو نہ افراط کی طرف جانا ہے اور نہ تفریط کی طرف، بلکہ حق اور عدل پر قائم رہنا ہے۔

امت وسط کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ 

اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ و اشرف گروہ ہے جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا ہو اور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔ (تفہیم القرآن۔ از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ۔ جلد اول)

اللہ تعالیٰ کا
نازل کردہ
منہاجِ زندگی
صرف وعظ و
ارشاد ہی کا
نام نہیں

وسط کے معنی ہیں وہ شے جو دو طرفوں کے درمیان بالکل وسط میں ہو۔
یہیں سے اس کے اندر بہتر ہونے کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے، اس لئے جو شے دو کناروں کے درمیان ہوگی وہ نقطۂ توسط اور اعتدال پر ہوگی اور یہ اس کی بہتر ہونے کی ایک فطری دلیل ہے۔
امت مسلمہ کو امت وسط کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ امت ٹھیک ٹھیک دین کی اس بیچ شاہراہ پر قائم ہے جو اللہ تعالیٰ نے خلق کی رہنمائی کے لئے اپنے انبیاء اور رسل کے ذریعہ سے کھولی ہے اور جو ابتدا سے ہدایت کی اصل شاہراہ ہے۔ (تدبر القرآن۔ از مولانا امین احسن اصلاحی۔ جلد اول)
امت وسط کا فرض منصبی یہ ہے کہ وہ دنیا کی دیگر اقوام کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دینِ حق کی گواہی دے۔
تدبر القرآن كے مصنف لكهتے ہیں:
’یہود و نصاریٰ کیونکہ اصل دین سے منحرف ہوگئے اس لئے اللہ تعالیٰ اس امت کو برپا کیا۔ عالم انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت اگر کوئی ہوسکتی تھی تو یہی ہوسکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی امت برپا کرے جو خدا کی سیدھی راہ پر قائم ہو، جو اللہ تعالیٰ کے رسول (ﷺ) کے ذریعہ سے اصل دین کی حامل بنے اور پھر رہتی دنیا تک لوگوں کے سامنے اس دین کی گواہی دے۔

🧭 امتِ وسط کی نمایاں خصوصیات

عدل: تمام معاملات میں انصاف پر قائم رہنا۔

اعتدال: افراط و تفریط سے بچنا۔

راستی: حق کے ساتھ وابستگی برقرار رکھنا۔

گواہی: دنیا کے سامنے دینِ حق کی شہادت دینا۔

شہادت علی الناس کا جو فرض آنحضرتﷺ پر بحیثیت رسول کے تھا، آپﷺ کے بعد آپﷺ کی امت کی طرف منتقل ہوا اور اب یہ امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور میں، ہر ملک اور ہر زبان میں لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دے۔ 

اگر وہ اس فرض میں کوتاہی کرے گی تو اس دنیا کی گمراہیوں کے نتائج میں دوسروں کے ساتھ وہ بھی برابر کی شریک ہوگی۔ (تدبر القرآن۔ از مولانا امین احسن اصلاحی۔ جلد اول)

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس امت کو ’امت وسط‘ کہا گیا ہے اور جس کا فرض منصبی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی حقانیت کی گواہی دے، وہ موجودہ دور میں پستی میں کیوں گری ہوئی ہے؟ 

اس سوال کا جواب بڑا مشکل ہے۔ 

📜 حق کی گواہی — امت کا فرض منصبی

امتِ وسط کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ دنیا کی دوسری اقوام کے سامنے دینِ حق کی گواہی دے۔

یہ ذمہ داری کسی ایک زمانے یا علاقے تک محدود نہیں۔

مضمون کے مطابق امت کو ہر دور، ہر ملک اور ہر زبان میں یہ فریضہ ادا کرنا ہے۔

اس گتھی کو سلجھانا کسی فرد کا کام نہیں بلکہ امت کے اہل خرد کا کام ہے کہ وہ ایک جگہ جمع ہوکر امت کی پوری تاریخ کا مطالعہ کریں اور جائزہ لیں کہ یہ امت جو امامت کا فرض ادا کرنے آئی تھی، اسے کس چیز نے اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں اسے اپنے وجود تک کا شعور نہیں رہا۔

🌍 ہر دور، ہر ملک، ہر زبان

مضمون میں امت کی ذمہ داری کو عالمگیر قرار دیا گیا ہے۔

یعنی دینِ حق کی گواہی صرف اپنے معاشرے تک محدود نہیں بلکہ ہر دور، ہر ملک اور ہر زبان میں ادا کی جانی ہے۔

یہی تصور امت کے مشن کو عالمی اور مسلسل ذمہ داری بناتا ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے