امتِ مسلمہ کا وجود کسی ایک حکومت یا سلطنت پر منحصر نہیں بلکہ اس کی اصل بنیاد عقیدۂ توحید اور قرآن مجید ہے۔
تاریخ میں بڑی مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں اور ختم ہوگئیں، مگر امت باقی رہی۔
مضمون کے مطابق امت اور ریاست کے مفادات جب ایک دوسرے سے ہم آہنگ رہے تو مسلمانوں نے ترقی کی، جبکہ تصادم نے بحران پیدا کئے۔
قرآن نے مسلمانوں کو ’امت وسط‘ قرار دیا، یعنی ایک ایسی جماعت جو عدل و اعتدال پر قائم ہو اور دنیا کے سامنے حق کی گواہی دے۔
وسط کے معنی ہیں وہ شے جو دو طرفوں کے درمیان بالکل وسط میں ہو۔
یہیں سے اس کے اندر بہتر ہونے کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے، اس لئے جو شے دو کناروں کے درمیان ہوگی وہ نقطۂ توسط اور اعتدال پر ہوگی اور یہ اس کی بہتر ہونے کی ایک فطری دلیل ہے۔
امت مسلمہ کو امت وسط کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ امت ٹھیک ٹھیک دین کی اس بیچ شاہراہ پر قائم ہے جو اللہ تعالیٰ نے خلق کی رہنمائی کے لئے اپنے انبیاء اور رسل کے ذریعہ سے کھولی ہے اور جو ابتدا سے ہدایت کی اصل شاہراہ ہے۔ (تدبر القرآن۔ از مولانا امین احسن اصلاحی۔ جلد اول)
امت وسط کا فرض منصبی یہ ہے کہ وہ دنیا کی دیگر اقوام کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دینِ حق کی گواہی دے۔
تدبر القرآن كے مصنف لكهتے ہیں:
’یہود و نصاریٰ کیونکہ اصل دین سے منحرف ہوگئے اس لئے اللہ تعالیٰ اس امت کو برپا کیا۔ عالم انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت اگر کوئی ہوسکتی تھی تو یہی ہوسکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی امت برپا کرے جو خدا کی سیدھی راہ پر قائم ہو، جو اللہ تعالیٰ کے رسول (ﷺ) کے ذریعہ سے اصل دین کی حامل بنے اور پھر رہتی دنیا تک لوگوں کے سامنے اس دین کی گواہی دے۔