عبد الستار خان
اوورسیز پوسٹ
قرآن مجید میں لفظ ’امت‘ 50 سے زائد مرتبہ مختلف مفاہیم میں آیا ہے۔
کہیں اس سے ایک خاص مدت مراد ہے، کہیں پیشوا، کہیں سابقین کا طریقہ، کہیں لوگوں کی جماعت اور کہیں ایک دین پر قائم گروہ۔
اسلامی تصور میں امت محض افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ عقیدۂ توحید، شریعت کی پیروی، فکری ہم آہنگی، باہمی محبت اور ایک مشترکہ فرض منصبی سے جڑی جماعت ہے۔
1/5
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں لفظ امت کے کئی معانی ہمیں ملتے ہیں۔
قرآن مجید میں لفظ امت 50 سے زائد مرتبہ مختلف معانی میں آیا ہے جس کی وجہ سے لفظ امت کی صحیح تعبیر پر مفسرین کرام کا آج تک اتفاق نہیں ہوسکا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لفظ امت کا کوئی ایک مفہوم نہیں۔
آیات مبارکہ میں یہ لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔
اردو زبان میں امت گروہ اور جماعت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ (ملاحظہ ہو: فیروز اللغات)
مگر قرآن مجید کی مختلف آیات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ 5 یا 6 معانی میں استعمال ہوا ہے۔
📖 قرآن میں لفظ ’’امت‘‘ کے کتنے مفاہیم؟
مضمون کے مطابق قرآن مجید میں لفظ امت 50 سے زائد مرتبہ مختلف معانی میں آیا ہے۔
اسی وجہ سے لفظ امت کی تعبیر ایک ہی معنی میں محدود نہیں کی جاسکتی۔
قرآنی استعمال کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ کئی مختلف مفاہیم میں استعمال ہوا ہے۔
- اول:
امت کا مطلب ایک خاص وقت یا مدت ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِلٰی اُمَّۃٍ مَعْدُوْدَۃٍ لَیَقُولُنَّ مَایَحْبِسُہ
’اور اگر ہم ایک خاص مدت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے؟‘ (ہود 8)
- دوم:
امت کا مطلب وہ امام ہیں جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتے ہیں اور انہیں راہ راست پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔
ارشاد ربانی ہے:
اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتاً لِلّہِ حَنِیْفًا
’ابراہیم ؑ اپنی ذات میں ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو‘ (النحل 120)
یعنی جب دنیا میں کوئی مسلمان نہ تھا وہ اکیلے اسلام کے علمبردار تھے، آپ ؑ نے انسانیت کی اصلاح کے لئے وہ کام کیا جسے کرنے کے لئے پورے ادارے کی ضرورت ہے۔
⏳ پہلا مفہوم — ایک خاص وقت یا مدت
قرآن مجید میں بعض مقامات پر امت کا مطلب ایک خاص وقت یا مدت لیا گیا ہے۔
مضمون میں سورہ ہود کی آیت 8 کا حوالہ دیا گیا ہے، جہاں عذاب کو ایک خاص مدت تک مؤخر کرنے کا ذکر آتا ہے۔
یہ استعمال واضح کرتا ہے کہ لفظ امت ہمیشہ کسی جماعت ہی کے معنی میں نہیں آتا۔
مزید پڑھیں
- سوم:
امت کا مطلب سابقین کا طریقہ ہے۔
ارشاد الٰہی ہے:
بَلْ قَالُوٓا اِنَّا وَجَدْنَآ آبَائَنَا عَلَیٰ اُمَّۃٍ وَاِنَّا عَلَیٰ آثَارِہِمْ مُہْتَدُوْن ’بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں‘ (الزخرف 22)
یعنی ان کے پاس کسی کتاب کی کوئی سند نہیں بلکہ وہ اپنے باپ دادا سے یہی ہوتا دیکھتے آئے ہیں۔
🌍 امت کی اصل شناخت — عالمگیر، زندہ اور مشترک
مضمون کے مطابق امت ایک زندہ اور عالمگیر جماعت ہے جس میں عرب و عجم، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر زبان کے لوگ شامل ہوسکتے ہیں۔
اس کی اصل شناخت جغرافیہ یا نسل نہیں بلکہ مشترک دین اور عقیدہ ہے۔
امت کے افراد دوسری قوموں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اپنی بنیادی شناخت برقرار رکھ سکتے ہیں۔
اصل نکتہ: امت محض ہجوم نہیں، بلکہ مشترک عقیدہ، مشترک اقدار اور مشترک ذمہ داری سے جڑی ہوئی جماعت ہے۔
- چہارم:
لوگوں کی مطلق جماعت کو بھی امت کہا گیا۔
ارشاد ربانی ہے:
وَلَمَّا وَرَدَ مَآئَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْہِ اُمَّۃً مِنَ النَّاسِ یَسْقُونَ
’اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں‘ (القصص 23)
👤 دوسرا مفہوم — ایک فرد جو پوری امت کے برابر ہو
مضمون میں حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں قرآن کی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے:
اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتاً لِلّہِ حَنِیْفًا
یہاں امت کا مفہوم ایسے پیشوا یا امام سے لیا گیا ہے جو اپنی ذات میں خیر اور ہدایت کی ایک پوری جماعت کا کردار ادا کرے۔
- پنجم:
ایک دین کو ماننے والی جماعت کو امت کہا گیا۔
اس مفہوم کے حوالے سے قرآن مجید میں کئی آیات ہیں۔
ملاحظہ ہو سورہ المائدہ کی آیت 48
وَلَوْ شَآء اللّہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَاحِدَۃً
’اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بناسکتا تھا‘
آیت مذکورہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کا مطلب ایک دین پر قائم جماعت ہے۔
امام طبری کا کہنا ہے کہ امت کا اصل اور صحیح مفہوم یہی ہے۔
🧭 تیسرا مفہوم — سابقین کا طریقہ
قرآن میں امت کا لفظ طریقہ اور سابقین کے چلن کے معنی میں بھی آیا ہے۔
مضمون میں سورہ الزخرف کی آیت 22 کا حوالہ ہے، جہاں لوگ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چلنے کا ذکر کرتے ہیں۔
اس مفہوم میں امت کسی جماعت کے بجائے ایک موروثی راستے یا طرزِ عمل کی علامت بن جاتی ہے۔
- ششم:
امت کا مطلب ایک مخصوص جماعت جو دعوت دین اور انسانیت کی اصلاح کا فریضہ ادا کرتی ہو۔
ارشاد ربانی ملاحظہ ہو:
وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اُمَّۃٌ یَدْعُوْنَ اِلَیٰ الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُولٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ
’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے‘ (آل عمران 104) لوگوں کو خیر کی طرف بلانا اور برائی سے روکنے کا کام پوری امت نہیں کرسکتی چنانچہ فرمایا گیا کہ امت میں سے کچھ لوگ ایسے ضرور ہوں جو یہ فریضہ ادا کریں۔
امت کا ایک اہم
فرض دنیا کے
سامنے حق کی
گواہی دینا ہے
مفتی محمد شفیع ؒ کا کہنا ہے:
لفظ امت ایک جماعت اور کسی خاص پیغمبر کی قوم کے معنی میں معروف و مشہور ہے اور کبھی یہ لفظ طریقہ اور دین کے معنی میں بھی آتا ہے۔ (معارف القرآن۔ جلد ششم)
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒ لفظ امت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لفظ امت اس مجموعہ افراد پر بولا جاتا ہے جو کسی اصل مشترک پر جمع ہوں۔ (تفہیم القرآن۔ سورہ المؤمنون)
لفظ امت کے دیگر معانی اور مفہوم کے حوالے سے بحث ہمارا موضوع نہیں۔
زیر نظر مضمون میں ہم لفظ امت بمعنی پنجم ’ایک دین پر متفق ومتحد جماعت‘ کے مفہوم پر غور کرنا چاہتے ہیں۔
اسلامی تصور کے مطابق امت 4 ضروری عناصر ترکیبی پر مشتمل ہے۔
👥 چوتھا مفہوم — لوگوں کی جماعت
لفظ امت کا استعمال ایک عام جماعت یا گروہ کے لیے بھی ہوا ہے۔
مضمون میں سورہ القصص کی آیت 23 کا حوالہ دیا گیا ہے، جہاں حضرت موسیٰؑ نے مدین کے کنویں پر لوگوں کی ایک جماعت کو جانوروں کو پانی پلاتے دیکھا۔
یہاں امت سے مراد محض لوگوں کا ایک مجموعہ ہے۔
- پہلا یہ کہ وہ جماعت جو دین اسلام کی اصل پر مشترک ہو۔
- دوم یہ کہ اس جماعت کے تمام معاملات شریعت کی تعلیمات اور ہدایات سے مطابقت رکھتے ہوں۔
- سوم یہ کہ اس جماعت کے افراد میں فکری ہم آہنگی ہو، تعاون، الفت اور محبت کا رشتہ قائم ہو۔
- چہارم یہ کہ اس جماعت کو اپنے فرض منصبی کا ادراک ہو کہ اسے برپا کرنے اور دیگر تمام اقوام میں اسے افضل قرار دینے کی وجہ کیا ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ دنیا کی دیگر امتوں پر اسے حق کی گواہی دینی ہے۔
🕌 پانچواں مفہوم — ایک دین پر قائم جماعت
ایک اہم قرآنی مفہوم میں امت سے مراد وہ جماعت ہے جو ایک دین پر قائم ہو۔
مضمون میں سورہ المائدہ کی آیت 48 کا حوالہ دیا گیا ہے:
وَلَوْ شَآئَ اللّہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَاحِدَۃً
اسی مفہوم کو امتِ مسلمہ کے بنیادی تصور سے جوڑا گیا ہے۔
مولانا عبد الرحمن کیلانی لکھتے ہیں:
قیامت کے دن ہر نبی کو اپنی امت پر گواہی کے لئے بلایا جائے گا کہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام بدرجہ اولیٰ اپنی امت کو پہنچا دیا تھا؟
یہ گواہی آپﷺ اپنی امت کے بارے میں بھی دیں گے۔
اس کے علاوہ امت کے صلحاء بھی یہ گواہی دیں گے۔ (تیسیر القرآن)
امت کے عناصر ترکیبی کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک زندہ امت ہے۔
اسے دبانے اور ختم کرنے کی کوششیں تاریخ کے مختلف ادوار میں ہوتی رہیں مگر اللہ تعالیٰ کو قیامت تک اس کی بقا منظور ہے۔
📣 چھٹا مفہوم — خیر کی دعوت دینے والی جماعت
امت کا ایک مفہوم ایسی مخصوص جماعت بھی ہے جو نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے۔
مضمون میں سورہ آل عمران کی آیت 104 کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اس سے یہ تصور سامنے آتا ہے کہ امت کے اندر ایسے لوگ ضرور ہونے چاہئیں جو دعوتِ خیر اور اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ انجام دیں۔
یہ عالمگیر امت ہے جس کے سائے میں عرب وعجم، ہر رنگ و نسل اور ہر زبان کے لوگ شامل ہیں۔
یہ امت دیگر امتوں کے درمیان اپنی شناخت قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس کے افراد دیگر امتوں کے درمیان مقیم ہوں تب بھی وہ اپنی اصل شناخت برقرار رکھتے ہیں۔
🧩 امت کے چار بنیادی عناصر
1۔ دین اسلام کی اصل پر مشترک جماعت ہونا۔
2۔ معاملات کا شریعت کی تعلیمات اور ہدایات سے مطابقت رکھنا۔
3۔ افراد کے درمیان فکری ہم آہنگی، تعاون، الفت اور محبت کا رشتہ ہونا۔
4۔ اپنے فرض منصبی کا شعور رکھنا اور دنیا کے سامنے حق کی گواہی دینا۔