براہ راست نشریات

دنیا کا نقشہ تبدیل: افریقہ اچانک بڑا، امریکا تنہا کیوں رہ گیا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
دنیا کا نیا نقشہ اور مرکیٹر بمقابلہ ایکول ارتھ پروجیکشن کا موازنہ
قرارداد کی 164 ممالک نے حمایت اور صرف امریکا نے مخالفت کی
OVERSEAS POST  |  PREMIUM ANALYSIS

آپ نے اسکول کی دیوار، اٹلس یا کمپیوٹر اسکرین پر دنیا کا جو نقشہ برسوں دیکھا ہے، ممکن ہے وہ جغرافیے کے لحاظ سے اتنا سیدھا اور سچا نہ ہو جتنا دکھائی دیتا ہے۔

مزید پڑھیں

اسی پرانی حقیقت نے اب اقوام متحدہ میں ایک حیران کن عالمی بحث کو جنم دیا ہے۔

4 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 164 ووٹوں سے ایسی قرارداد منظور کی، جس میں دنیا کے رقبوں کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں دکھانے والے نقشوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ 

اس قرارداد کی 164 ممالک نے حمایت اور صرف امریکا نے مخالفت کی۔ 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

🗺️

دنیا کا نقشہ ہمیں صدیوں سے کیا غلط دکھاتا رہا؟

🍊 گول کرہ بمقابلہ ہموار کاغذ

زمین ایک 3D کرہ ہے جسے بغیر کھینچے یا پھاڑے سیدھے صفحے پر لانا ریاضیاتی طور پر ناممکن ہے۔ سنگترے کے چھلکے کو بغیر ٹکڑے کیے فلیٹ میز پر بچھانے کی طرح ہر پروجیکشن میں شکل یا رقبے کی قربانی دینا پڑتی ہے۔

🧭 1569 کا مرکیٹر نقشہ اور بحری مقاصد

جیرارڈس مرکیٹر نے یہ نقشہ اسکولوں میں پڑھانے کے لیے نہیں بلکہ سمندری جہاز رانی میں سمتوں اور زاویوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بنایا تھا، جہاں سیدھی لکیر پر سفر کرنا درست رقبے سے زیادہ اہم تھا۔

❄️ قطبین کی طرف غیر حقیقی پھیلاؤ

خطِ استوا سے دور شمال اور جنوب کی طرف بڑھنے پر خطے مصنوعی طور پر پھیل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گرین لینڈ نقشے پر افریقہ کے برابر دکھائی دیتا ہے، حالانکہ افریقہ حقیقت میں 14 گنا بڑا ہے۔

🔄 شمال کا ’اوپر‘ ہونا کوئی قانون نہیں

نقشے پر شمال کا اوپر ہونا سائنسی حقیقت کے بجائے یورپی روایت ہے۔ بارہویں صدی کے مسلم جغرافیہ دان محمد الادریسی کے شاہی نقشے میں جنوب اوپر تھا اور افریقہ یورپ کے اوپر ایستادہ نظر آتا تھا۔

پرانے نقشے میں خرابی کیا ہے؟

دنیا گول ہے، لیکن اس کا نقشہ ہموار۔ یہی اس پوری کہانی کا دلچسپ پہلو اور بنیاد ہے۔ کسی کرہ کو کاغذ پر مکمل درستگی سے پھیلانا ممکن نہیں۔ سنگترے کا چھلکا اتار کر اسے بغیر پھاڑے بالکل سیدھا کرنے کی کوشش کریں تو مسئلہ فوراً سمجھ آ جاتا ہے۔

ہر نقشہ ساز کو رقبہ، شکل، فاصلہ اور سمت میں سے کسی چیز کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔  ایک چیز درست ہوگی تو دوسری میں کچھ نہ کچھ بگاڑ آئے گا۔ 

یہی وجہ ہے کہ نقشہ سازی کی دنیا میں کوئی ایک نقشہ ہر مقصد کے لیے مکمل درست نہیں ہوتا۔

لوگو

عالمی نقشے کی تبدیلی: اقوام متحدہ میں نئی جغرافیائی بحث 🗺️

صدیوں پرانے مرکیٹر نقشے کی غلطیوں کی اصلاح اور زمینی رقبوں کے اصل تناسب کی منظوری

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے افریقہ اور جنوبی خطوں کے حقیقی رقبے دکھانے والے نئے عالمی نقشوں کے استعمال کی توثیق کر دی۔

🌐 قرارداد کی حمایت 🗳️

جنرل اسمبلی میں حقیقت پسندانہ زمینی نقشہ سازی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک۔

164 ووٹ

🌍 گرین لینڈ سے بڑا افریقہ 📐

پرانے نقشے پر برابر نظر آنے کے برعکس حقیقت میں افریقہ کا گرین لینڈ سے حقیقی بڑا حجم۔

14 گنا

🏰 یورپ کے مقابلے میں برتری ⚖️

حقیقی زمینی رقبے کے لحاظ سے براعظم افریقہ کا مجموعی طور پر پورے یورپ سے موازنہ۔

3 گنا

🚫 تنہا مخالف ملک 🏛️

قرارداد کو نظریاتی قرار دے کر عالمی ایوان میں مخالفت میں ووٹ ڈالنے والی واحد سپر پاور۔

1 ووٹ
📊 افریقہ کا دیگر خطوں سے حقیقی زمینی رقبے کا تناسب
گرین لینڈ کے مقابلے میں حجم
14 گنا بڑا
یورپ کے مقابلے میں رقبہ
3 گنا بڑا
روس کے مقابلے میں وسعت
1.8 گنا بڑا

مرکیٹر نے دنیا کو شمال میں کیوں پھیلا دیا؟

1569 میں فلیمش نقشہ ساز جیرارڈس مرکیٹر نے جو نقشہ بنایا، اس کا مقصد اسکولوں میں بچوں کو دنیا کا حقیقی رقبہ دکھانا نہیں بلکہ سمندری جہاز رانی آسان بنانا تھا۔

یہ وہ نقشہ تھا، جس میں سمتیں اور زاویے بہت اچھی طرح محفوظ رہتے ہیں۔

🌍

افریقہ حقیقت میں کتنا بڑا ہے؟ چونکا دینے والا فرق

حقائق و اعداد

📐 30.37 ملین مربع کلومیٹر کا دیوہیکل براعظم

افریقہ کا اصل زمینی رقبہ اتنا وسیع ہے کہ اس کی سرحدوں کے اندر پورا امریکا، چین، بھارت، جاپان اور مغربی یورپ ایک ساتھ سما سکتے ہیں۔ اس کے باوجود روایتی نقشوں میں اسے گھٹا کر شمالی نصف کرہ کے ممالک کو غیر معمولی وسعت دی گئی۔

🇬🇱 بمقابلہ گرین لینڈ

14 گنا بڑا حقیقی فرق

مرکیٹر نقشے پر دونوں خطے ایک ہی جسامت کے لگتے ہیں، لیکن حقیقت میں گرین لینڈ محض 2.16 ملین جبکہ افریقہ 30 ملین مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔

🇪🇺 بمقابلہ یورپ

تقریباً 3 گنا زیادہ رقبہ

پورے براعظم یورپ (بشمول مشرقی یورپ) کا رقبہ تقریباً 10.18 ملین مربع کلومیٹر ہے، جو افریقہ کے سامنے صرف ایک تہائی کے برابر بنتا ہے۔

🇷🇺 بمقابلہ روس

1.8 گنا زیادہ وسعت

دنیا کا سب سے بڑا ملک روس (17.1 ملین مربع کلومیٹر) مرکیٹر پر افریقہ سے دوگنا دکھتا ہے، حالانکہ افریقہ روس سے بھی پونے دو گنا بڑا براعظم ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ خطِ استوا سے جتنا شمال یا جنوب کی طرف جائیں، زمین کے علاقے نقشے پر اتنے ہی زیادہ پھیلنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ گرین لینڈ تقریباً افریقہ جتنا نظر آتا ہے، حالانکہ افریقہ حقیقت میں اس سے تقریباً 14 گنا بڑا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہی دلچسپ تقابل ہے کہ افریقہ کا رقبہ یورپ سے تقریباً 3 گنا اور روس سے لگ بھگ 1.8 گنا زیادہ ہے، لیکن روایتی مرکیٹر نقشے پر شمالی خطے بصری طور پر کہیں زیادہ بڑے محسوس ہوتے ہیں۔

نقشہ صرف جغرافیہ نہیں، ذہن بھی بناتا ہے

یہ وہ مقام ہے، جہاں یہ معاملہ بہت دلچسپ ہو جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نقشہ کتنا غلط ہے، بلکہ یہ ہے کہ بار بار ایسا نقشہ دیکھنے سے ہمارے ذہن میں دنیا کی طاقت اور اہمیت کا کیا تصور بنتا ہے۔

امریکا کا پرچم

امریکا اکیلا مخالف کیوں؟ ووٹ کے پیچھے اصل کہانی

+

🗳️ 164 کے مقابلے میں تنہا 1 ووٹ

4 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں 164 ممالک نے درست رقبہ دکھانے والے نقشوں کی حمایت کی جبکہ امریکا واحد ملک تھا جس نے مخالفت میں ووٹ ڈالا (6 ممالک غیر حاضر رہے)۔ یہ تنہائی سفارتی دنیا میں ایک غیر معمولی منظرنامہ بن کر ابھری۔

🏛️ سائنسی تنازع نہیں، سیاسی و نظریاتی بیانیہ

امریکی نمائندے نے اعتراض کارٹوگرافی کی تکنیک پر نہیں بلکہ قرارداد کے پس پردہ 'نظریاتی مہم' پر اٹھایا۔ واشنگٹن کے مطابق اقوام متحدہ کو جغرافیائی و تاریخی انصاف کی علامتی بحثوں کے بجائے ٹھوس سیکیورٹی اور معاشی مسائل پر وقت لگانا چاہیے۔

📜 غیر پابند قرارداد اور نیویگیشن کی ضرورت

قرارداد کسی نقشے پر قانونی پابندی عائد نہیں کرتی۔ امریکا کا یہ بھی مؤقف ہے کہ ایوی ایشن، جی پی ایس اور سمندری سفر میں مرکیٹر پروجیکشن ناگزیر ہے، اس لیے تعلیمی یا اخلاقی بنیادوں پر اسے بدنام کرنا نامناسب ہے۔

2024 میں کمیونیکیشن رپورٹس میں شائع تحقیق نے مرکیٹر اور مساوی رقبے والے Gall-Peters نقشوں کا موازنہ کیا اور جب شرکا کو امریکا کی جانب سے گرین لینڈ خریدنے کے معاملے کو قومی سلامتی کے تناظر میں دکھایا گیا تو مرکیٹر نقشہ دیکھنے والوں نے روس کی اہمیت زیادہ محسوس کی۔ یعنی نقشہ سیاسی پیغام کے ساتھ مل کر انسانی تاثر پر اثر ڈال سکتا ہے۔

اسی لیے افریقی مہم کا مؤقف صرف یہ نہیں کہ افریقہ چھوٹا دکھتا ہے، بلکہ  افریقی یونین اسے اس سوال سے جوڑتی ہے کہ دنیا افریقہ کو ذہنی طور پر کس مقام پر رکھتی ہے۔ 

یونین نے قرارداد کے بعد کہا کہ افریقہ کو اس کے حقیقی حجم اور حقیقی مقام کے مطابق دکھایا جانا چاہیے۔

🧠

نقشے صرف جغرافیہ نہیں، طاقت کا تصور بھی بدلتے ہیں

بصری تسلط

👑 گلوبل نارتھ بمقابلہ گلوبل ساؤتھ

صدیوں سے کلاس رومز میں شمالی ممالک (یورپ، روس، شمالی امریکا) کو جسامت میں بڑا دیکھ کر ذہن لاشعوری طور پر انہیں زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ تصور کرنے کا عادی ہو چکا ہے۔

نفسیاتی ثبوت

🔬 2024 کی سائنسی تحقیق

کمیونیکیشن رپورٹس کی تحقیق نے ثابت کیا کہ مرکیٹر پروجیکشن دیکھنے والے صارفین نے قومی سلامتی کے تناظر میں روس اور گرین لینڈ کی اہمیت کو مساوی رقبے والے نقشے کے ناظرین سے کہیں زیادہ محسوس کیا۔

تاریخی ہتھیار

⚔️ سامراجی اور جنگی پروپیگنڈا

سرد جنگ میں سوویت یونین کو سرخ رنگ میں پھیلتا ہوا خطرہ دکھانے یا نوآبادیاتی دور میں سلطنتوں کو وسیع ظاہر کرنے کے لیے نقشوں کو باقاعدہ نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔

💡

افریقی یونین کا موقف: یہ بحث صرف لکیروں کی نہیں بلکہ ذہنی آزادی کی ہے۔ جب تک افریقہ کو اس کا حقیقی زمینی حجم نہیں دکھایا جائے گا، عالمی پالیسی سازی میں اسے اس کا جائز مقام نہیں مل سکے گا۔

نیا Equal Earth نقشہ کیا بدلتا ہے؟

اقوام متحدہ کی قرارداد میں جس اہم متبادل کا ذکر ہوا، وہ Equal Earth projection ہے۔ اسے Bojan Šavrič، Tom Patterson اور Bernhard Jenny نے 2018 میں تیار کیا تھا۔

اس نقشے کی خاص بات یہ ہے کہ مختلف خطوں کے رقبے ایک دوسرے کے مقابلے میں درست تناسب کے قریب رہتے ہیں۔ یعنی افریقہ، یورپ، روس اور گرین لینڈ کو دیکھ کر ناظر کو ان کی زمینی جسامت کا کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ اندازہ ہوتا ہے۔ 

تاہم یہ نقشہ بھی ہر اعتبار سے کامل نہیں ہے۔ اس میں رقبہ درست رکھنے کی قیمت بعض جگہ شکل اور زاویوں میں تبدیلی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

پاکستان کا پرچم

پاکستان نے حمایت کیوں کی، اور کیا وضاحت دی؟

🤝 سائنسی درستگی کی تائید، خود مختاری کا تحفظ

پاکستان نے گلوبل ساؤتھ اور ترقی پذیر دنیا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تاکہ براعظموں اور ممالک کے زمینی رقبے کو سائنسی اصولوں کے مطابق درست تناسب میں پیش کیا جا سکے، تاہم اسلام آباد نے اپنے ووٹ کو سفارتی و قانونی احتیاط کے ساتھ نتھی کیا۔

⚖️ بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں کا تحفظ

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ رقبوں کے متناسب نقشوں (جیسے Equal Earth) کے فروغ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازع علاقوں کی قانونی حیثیت اور سیاسی سرحدوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

🗺️ مسئلہ کشمیر اور ریاستی موقف پر قائم

اسلام آباد کی بنیادی شرط یہ تھی کہ کارٹوگرافک اصلاحات کو کسی بھی متنازع خطے کی زمینی حدود میں ردوبدل یا کسی ملک کے غاصبانہ دعووں کو قانونی سند فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

نقشوں کی سیاست نئی نہیں

تاریخ میں نقشوں کو صرف راستہ دکھانے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ کبھی رنگوں کے ذریعے بعض خطوں کو ’غیر مہذب‘ دکھایا گیا، کبھی سامراجی سلطنتوں کو وسیع اور متحد طاقت کے طور پر پیش کیا گیا اور دوسری عالمی جنگ میں نازی پروپیگنڈا نے نقشوں کو سیاسی پیغام کا ہتھیار بنایا۔

سرد جنگ میں امریکی نقشوں پر سوویت یونین کو بڑی سرخ طاقت یا پھیلتی ’کمیونسٹ وبا‘ کی طرح دکھایا گیا۔

لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ مرکیٹر نے اپنا نقشہ نوآبادیات کی حمایت کے لیے بنایا تھا۔ تاریخی شواہد اس دعوے کی تائید نہیں کرتے، کیونکہ اس کا اصل مقصد جہاز رانی تھا۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

یہاں تک کہ شمال کا نقشے میں ’اوپر‘ ہونا بھی قدرت کا کوئی قانون نہیں۔ مسلم جغرافیہ دان محمد الادریسی کے مشہور نقشے میں جنوب اوپر تھا۔ 

اگر وہ روایت دنیا پر غالب آ جاتی تو شاید آج ہمیں یورپ نیچے اور افریقہ اوپر دیکھنا بالکل معمول لگتا۔

امریکا اکیلا مخالف کیوں بن گیا؟

واشنگٹن نے اعتراض نقشہ سازی کی سائنس پر کم اور قرارداد کی سیاسی زبان پر زیادہ کیا ہے۔

امریکی نمائندے نے اسے ایک بڑے ’نظریاتی منصوبے‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو امن، خوشحالی اور بین الاقوامی تعلقات کے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ صدیوں پرانے نقشوں اور تاریخی انصاف کی بحث پر۔

ہم سے جڑے رہیں

اہم بات یہ ہے کہ یہ قرارداد قانونی طور پر لازمی نہیں  ہے اور مرکیٹر نقشے پر پابندی بھی نہیں لگاتی۔  خاص طور پر سمندری اور فضائی نیویگیشن میں اس کا استعمال برقرار رہ سکتا ہے۔ 

البتہ حکومتوں، تعلیمی اداروں، عالمی تنظیموں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو زیادہ درست رقبہ دکھانے والے نقشے اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ 

ٹوگو نے اپنے اسکولوں کے جغرافیہ کے نقشے 2026 کے اختتام تک تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی ظاہر کیا ہے۔

پاکستان نے کس شرط کے ساتھ حمایت کی؟

پاکستان نے قرارداد کے حق میں ووٹ تو دیا ہے، مگر اقوام متحدہ میں دیے گئے اپنے بیان میں اسلام آباد نے ایک اہم وضاحت بھی ریکارڈ کرائی ہے۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ حمایت صرف براعظموں کے زمینی رقبوں کو سائنسی اور درست تناسب میں دکھانے کے اصول سے متعلق ہے۔ 

اس کا ممالک کی سیاسی سرحدوں، علاقائی تنازعات یا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازع علاقوں کی قانونی حیثیت پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے۔

یہی اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو ہے۔ دنیا کا نیا نقشہ سرحدیں بدلنے نہیں جا رہا، بلکہ وہ صرف ہماری آنکھ کو یہ یاد دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ جو چیز کاغذ پر بڑی دکھائی دیتی ہے، ضروری نہیں حقیقت میں بھی اتنی ہی بڑی ہو۔

یعنی اس قرارداد کے ذریعے اصل تبدیلی زمین کے نقشے میں نہیں، بلکہ ہمارے ذہن کے نقشے میں آنے والی ہے۔

🌍 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES 🌐 اقوام متحدہ کی قرارداد، پاکستان کا موقف، افریقی ردعمل اور عالمی نقشہ سازی کے بنیادی حوالہ جات 8 معتبر ذرائع
🏛️ اقوام متحدہ کا اصل ریکارڈ
اقوام متحدہ — Correct the Map قرارداد جنرل اسمبلی میں پیش ہونے والی اصل دستاویز A/80/L.104، جس کا مقصد دنیا کے خطوں، خصوصاً افریقہ، کے زمینی رقبے کو زیادہ منصفانہ اور درست تناسب میں دکھانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ 📜 اصل UN دستاویز قرارداد کھولیں ↗ اقوام متحدہ — مکمل ووٹنگ اور اجلاس کا ریکارڈ United States flag جنرل اسمبلی کے 114ویں مکمل اجلاس کا سرکاری ٹرانسکرپٹ، جہاں قرارداد 164 ووٹوں کے حق، ایک مخالفت اور چھ غیر جانب دار ووٹوں کے ساتھ منظور ہوئی۔ امریکا واحد ملک تھا جس نے مخالفت کی۔ 🗳️ سرکاری ووٹنگ ریکارڈ اجلاس دیکھیں ↗ پاکستان — قرارداد کے حق میں ووٹ اور سرکاری وضاحت Pakistan flag اقوام متحدہ میں پاکستان کا سرکاری بیان، جس میں واضح کیا گیا کہ حمایت صرف براعظموں کے زمینی رقبے کی درست نمائندگی سے متعلق ہے اور اس کا متنازع علاقوں، سیاسی نقشوں یا بین الاقوامی سرحدوں کی قانونی حیثیت پر کوئی اثر نہیں۔ 🇵🇰 پاکستان کا سرکاری موقف بیان کھولیں ↗
🌍 افریقہ اور نقشے کی تبدیلی
افریقی یونین — تاریخی قرارداد پر سرکاری ردعمل Togo flag افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین کا سرکاری اعلامیہ، جس میں ٹوگو کی قیادت میں قرارداد کی منظوری کو افریقہ کی حقیقی جغرافیائی جسامت اور عالمی مقام کی درست نمائندگی کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔ 🌍 سرکاری افریقی ماخذ اعلامیہ کھولیں ↗ Equal Earth — نئے نقشے کا اصل تکنیکی ماخذ Equal Earth پروجیکشن کی سرکاری ویب سائٹ، جہاں اس نقشے کی تیاری، مساوی رقبہ دکھانے کے طریقۂ کار اور Mercator اور Gall-Peters کے مقابلے میں اس کی بنیادی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ 🧭 نقشہ سازی کا بنیادی ماخذ پروجیکشن دیکھیں ↗
📰 بین الاقوامی رپورٹنگ اور تحقیق
روئٹرز — افریقہ کا حقیقی حجم دکھانے والی قرارداد اقوام متحدہ کی ووٹنگ، ٹوگو کی مہم، افریقی ممالک کے مؤقف، امریکا کی مخالفت اور Equal Earth نقشے کے ممکنہ عالمی استعمال پر روئٹرز کی تفصیلی بین الاقوامی رپورٹ۔ 📰 بنیادی بین الاقوامی رپورٹ اصل رپورٹ کھولیں ↗ الجزیرہ — اصل عربی فیچر رپورٹ مرکیٹر پروجیکشن، افریقہ کے حجم میں بصری کمی، نقشوں کے تاریخی و سیاسی اثرات، نوآبادیاتی دور اور اقوام متحدہ کی نئی قرارداد پر شائع ہونے والا اصل عربی مضمون۔ 📚 اصل عربی مضمون اصل مضمون کھولیں ↗ Communication Reports — نقشے انسانی سوچ بدلتے ہیں؟ 2024 کی peer-reviewed تحقیق جس میں Mercator اور Gall-Peters نقشوں کا تقابل کرکے جائزہ لیا گیا کہ مختلف نقشہ جاتی پروجیکشن روس، گرین لینڈ اور جغرافیائی طاقت کے بارے میں لوگوں کے سیاسی تاثر کو کیسے متاثر کرسکتے ہیں۔ 🔬 سائنسی تحقیقی حوالہ تحقیق کھولیں ↗
📌 ادارتی نوٹ: اس فیچر رپورٹ کے بنیادی حقائق کی تصدیق اقوام متحدہ کی اصل قرارداد اور سرکاری اجلاس کے ریکارڈ سے کی گئی ہے۔ افریقی موقف کے لیے افریقی یونین، نقشہ سازی کے تکنیکی پہلو کے لیے Equal Earth، جبکہ اضافی پس منظر کے لیے Reuters، Al Jazeera اور متعلقہ علمی تحقیق سے استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے