براہ راست نشریات

امریکہ اقوام کی خودمختاری و جذبات نظرانداز کرنے کی قیمت چکا رہا ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی خارجہ پالیسی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے اور عالمی سطح پر خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھنے والی آوازیں
فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ ایک پریس کانفرنس کے بعد پوڈیم چھوڑ رہے ہیں (فوٹو: اے پی)

امریکا اس وقت اپنی متنازع حکمت عملی کی وجہ سے قوموں کی خودمختاری اور جذبات نظرانداز کرنے کی قیمت چکا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں سب سے بڑی غلطی دیگر اقوام کے قومی جذبات اور خودمختاری کو کم تر سمجھنا ثابت ہوئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کو اب عالمی سطح پر اس پالیسی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ایڈیٹر الیگزینڈر برنز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی سیاست کی بنیاد 

امریکی قوم پرستی پر رکھی لیکن وہ یہ بھول گئے کہ کینیڈا، یوکرین اور ایران کے عوام میں بھی اپنی سرزمین کے لیے ویسا ہی شدید قومی جذبہ موجود ہے جیسا امریکہ میں ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹرمپ اپنی دوسری مدت صدارت میں ایک قوم پرست لیڈر کے بجائے شاہانہ طرز عمل اختیار کر چکے ہیں۔

اس بدلاؤ کے نتیجے میں وہ اپنے دیرینہ اتحادیوں اور عالمی دائیں بازو کے رہنماؤں پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں۔

امریکی خارجہ پالیسی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے اور عالمی سطح پر خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھنے والی آوازیں
ٹرمپ (دائیں) وائٹ ہاؤس میں زیلنسکی کی سرزنش کے دوران (فوٹو: اے ایف پی)

کینیڈا کے خلاف سخت ٹیرف اور اسے امریکہ کی 51 ویں ریاست قرار دینے کی دھمکیوں نے وہاں شدید ردعمل پیدا کیا، جس کے نتیجے میں نئے وزیراعظم مارک کارنی اب امریکی معاشی تسلط کے خلاف ایک مضبوط قومی مزاحمت کی قیادت کر رہے ہیں۔

کینیڈا کے قدامت پسند رہنماؤں نے بھی امریکی مداخلت کو مسترد کر دیا ہے، جہاں البرٹا کی گورنر ڈانییل سمیتھ اور سابق وزیراعظم اسٹیفن ہارپر نے واضح کیا کہ وہ ملکی آزادی کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کے معاشی نقصان کو برداشت کر لیں گے۔

یوکرین کے معاملے میں ٹرمپ کی جانب سے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی تذلیل اور معدنی دولت کے عوض امن معاہدے کے لیے بلیک میل کرنے کی کوششوں نے یوکرینی عوام کو اپنے صدر کے گرد مزید متحد کر دیا ہے، جس سے ٹرمپ کا موقف کمزور ہوا۔

ایران کے حوالے سے بھی ٹرمپ کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کہ فوجی حملوں سے تہران فوری ہتھیار ڈال دے گا۔

امریکی خارجہ پالیسی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے اور عالمی سطح پر خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھنے والی آوازیں
تہران میں 15 جون 2026 کو گاڑیاں ایرانی پرچم والے بل بورڈ کے پاس سے گزر رہی ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

اس کے برعکس ایک طویل تنازع شروع ہوا، جس نے عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر انتہائی منفی اور دور رس اثرات مرتب کیے ہیں۔

فرانسیسی رہنما جورڈن بارڈیلا سمیت یورپ کے دائیں بازو کے اتحادی اب ٹرمپ کو ایک غیر مستحکم اور شاہانہ مزاج رکھنے والا صدر قرار دے رہے ہیں۔

انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ فرانسیسی معاملات میں کسی بھی امریکی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے۔

برازیل کے عدالتی نظام میں مداخلت اور ہنگری کے انتخابات میں وکٹر اوربان کی حمایت کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کو بھیجنے کے باوجود وہاں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جو ٹرمپ کے عالمی اثر و رسوخ میں کمی کی واضح علامت ہے۔

اگرچہ ٹرمپ ارجنٹائن اور وینزویلا جیسے معاشی طور پر کمزور ممالک پر اثر انداز ہونے میں کامیاب رہے، لیکن مجموعی طور پر ان کے شاہانہ رویے نے ایک ایسا سیاسی خلا پیدا کر دیا ہے جو مستقبل میں امریکی قوم پرستی کا نیا متبادل تلاش کرے گا۔