مولانا ابوالجلال ندوی
انڈیا
ایمان صرف زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کی حقیقت آزمائش کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ بندوں کو اس لیے آزماتا ہے کہ سچے اور کمزور ایمان کا فرق عملی طور پر سامنے آجائے۔
جو شخص مشکلات، خوف اور لالچ کے باوجود ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہتا ہے، وہ اللہ کی رحمت، مغفرت اور بہترین اجر کا حق دار بنتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
’الم۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ محض یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی؟
حالانکہ ہم ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ پس اللہ ضرور ظاہر کردے گا کہ کون سچے ہیں اور کون جھوٹے‘۔ (سورۃ العنکبوت: 1–3)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ جس طرح گزشتہ زمانوں میں اہلِ ایمان کو آزمایا گیا، اسی طرح ہر دور کے مومنوں کو بھی آزمائش سے گزرنا ہوگا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو پہلے ہی ہر چیز جانتا ہے، پھر یہ کیوں فرمایا گیا کہ وہ سچوں اور جھوٹوں کو جان لے گا؟
✓ اہم نکات ⌄
- ایمان کی حقیقی مضبوطی آزمائش کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔
- اللہ تعالیٰ بندے کو عمل اور انتخاب کا پورا موقع دیتا ہے۔
- صحابۂ کرامؓ کا ایمان بڑی آزمائشوں سے گزر کر ثابت ہوا۔
- خوف، لالچ اور نقصان مومن کے ایمان کا امتحان بن سکتے ہیں۔
- ثابت قدم رہنے والوں کے لیے مغفرت اور بہترین اجر کا وعدہ ہے۔
علمائے کرام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ علمِ قبل از وقوع اور علمِ بعد از وقوع میں فرق ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے ازلی علم کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دیتا، بلکہ بندے کے اعمال کو عملاً ظاہر ہونے کا موقع دیتا ہے۔
پھر نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا اور بدکار کو اس کے ثابت شدہ جرم کی سزا دی جاتی ہے۔ اس طرح کسی کے پاس عذر یا انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
مزید پڑھیں
ایمان ایک ایسی قلبی کیفیت ہے جس کی مضبوطی کا اندازہ خود صاحبِ ایمان کو بھی آزمائش میں پڑنے کے بعد ہوتا ہے۔
ہم نے بچپن سے سنا ہے کہ اسلام دینِ حق ہے۔
والدین، اساتذہ اور معاشرے نے ہمیں یہی بتایا۔
نیک لوگوں کی زندگیوں نے بھی ہمارے یقین کو مضبوط کیا۔ ہم نے اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات اور شکوک بھی سنے، مگر
وہ ہمارے ایمان کو متزلزل نہ کرسکے۔
اس کے باوجود یہ فیصلہ کسی بڑی آزمائش میں پڑنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے کہ ہمارا ایمان حقیقتاً کتنا مضبوط ہے۔
☾ قرآن کا مرکزی پیغام ⌄
کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ محض یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی؟ سورۃ العنکبوت: 1–3
کیا کسی لالچ، خوف، امید، نقصان یا ذہنی دباؤ کے باوجود ہمارا ایمان قائم رہے گا؟
اس کا جواب عملی امتحان ہی دے سکتا ہے۔
اسی لئے مومن کو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے ہوئے اپنے ایمان کی حفاظت کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔
صحابۂ کرامؓ کا آزمودہ ایمان
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ایمان آزمایا ہوا ایمان تھا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے دوسرے انسانوں کی اصلاح اور دین کی سربلندی کا کام لینا تھا، اس لیے انہیں بڑی آزمائشوں سے گزارا گیا۔
انہوں نے جان، مال، وطن اور رشتوں کی قربانی دی، مگر دینِ حق سے پیچھے نہ ہٹے۔
سورۃ العنکبوت کی ابتدائی آیات ان پختہ ایمان رکھنے والے مسلمانوں کے سوالات کا جواب بھی ہیں جو اسلام کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھے۔
انہیں کوئی ظلم، تشدد یا لالچ راہِ حق سے نہیں ہٹا سکتا تھا، لیکن ان کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا تھا کہ کفار کو اتنی طاقت کیوں حاصل ہے کہ وہ کمزور مسلمانوں کو دین چھوڑنے پر مجبور کردیتے ہیں؟
◆ یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
آزمائش انسان کو صرف مشکلات سے نہیں گزارتی بلکہ اسے اپنے ایمان، کمزوریوں اور اللہ پر اعتماد کی حقیقی کیفیت پہچاننے کا موقع بھی دیتی ہے۔ یہی امتحان مومن میں صبر، استقامت اور روحانی مضبوطی پیدا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’کیا وہ لوگ جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے سبقت لے جائیں گے؟ بہت برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کررہے ہیں‘۔ (سورۃ العنکبوت: 4)
کفار کا فیصلہ اور اللہ کا وعدہ
کفارِ مکہ نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ اسلام کو عرب میں جڑ نہیں پکڑنے دیں گے۔
وہ مسلمانوں پر ظلم کرتے اور سمجھتے تھے کہ جبر و تشدد سے اپنے آبائی دین کو بچا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کو برا فیصلہ قرار دیا، کیونکہ اللہ نے اسلام کو قائم اور غالب کرنے کا ارادہ فرما لیا تھا۔
قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ اس لیے بھیجا کہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے، خواہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ (سورۃ التوبہ: 33، سورۃ الفتح: 28، سورۃ الصف: 9)
⏱ ایک منٹ میں مضمون ⌄
ایمان کا دعویٰ آسان ہے، مگر اس کی اصل قوت آزمائش میں سامنے آتی ہے۔ صحابۂ کرامؓ نے جان، مال اور وطن کی قربانیاں دے کر اپنے ایمان کی سچائی ثابت کی۔ قرآن مومن کو سکھاتا ہے کہ وہ مشکل حالات میں صبر، عملِ صالح اور جدوجہد جاری رکھے، کیونکہ ثابت قدم لوگوں کے لیے اللہ کی مدد، مغفرت اور بہترین اجر ہے۔
دنیا کی کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو ناکام نہیں بنا سکتی۔
انسان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ حق پر قائم رہے، اپنی استطاعت کے مطابق جد و جہد کرے اور نتائج اللہ کے سپرد کردے۔
اہلِ ایمان کے لیے عظیم بشارت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو بے شک اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت ضرور آنے والا ہے۔ جو شخص مجاہدہ کرتا ہے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے مجاہدہ کرتا ہے۔
یقیناً اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، ہم ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کردیں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے‘۔ (سورۃ العنکبوت: 5–7)
ان آیات میں اہلِ ایمان کو بتایا گیا ہے کہ موت اپنے مقررہ وقت پر ضرور آئے گی، لیکن اس وقت تک انہیں ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہنے کے لیے جدوجہد کرتے رہنا چاہئے۔
یہ جدوجہد اللہ تعالیٰ کی ضرورت نہیں، بلکہ خود انسان کی بھلائی کے لیے ہے، کیونکہ اللہ پوری کائنات سے بے نیاز ہے۔
📘 مضمون کا خلاصہ ⌄
ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں، بلکہ اس کی حقیقت آزمائش کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔ جو شخص خوف، لالچ، نقصان اور مشکل حالات کے باوجود ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور بہترین اجر کا حق دار بنتا ہے۔
جو شخص مشکل حالات، خواہشات، خوف اور باطل قوتوں کے مقابلے میں اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔
اس کی کوتاہیوں سے درگزر کرتا اور اسے اس کے بہترین اعمال کا اجر عطا فرماتا ہے۔
یہی اہلِ ایمان کے لیے سب سے بڑی بشارت ہے۔
آزمائش بظاہر مشکل ہوتی ہے، لیکن یہی آزمائش سچے اور کمزور ایمان کے درمیان فرق ظاہر کرتی ہے۔
جو مومن ایمان، صبر اور عملِ صالح کے ساتھ اس امتحان میں ثابت قدم رہتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور بہترین اجر کا حق دار بن جاتا ہے۔