براہ راست نشریات

بچے بھوکے سوئے، مہمان نے پیٹ بھر کر کھایا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
سیدنا ابوطلحہ

سیدنا ابوطلحہؓ اور سیدہ ام سلیمؓ کے ایثار کی وہ ایمان افروز رات جس پر اللہ تعالیٰ خوش ہوا

Picture of عبد المالک مجاہد

عبد المالک مجاہد

ریاض

مدینہ منورہ میں ایک بھوکا مسافر رسول اللہﷺ کا مہمان بنا تو سیدنا ابوطلحہؓ اسے اپنے گھر لے گئے۔
گھر میں صرف بچوں کے لیے کھانا تھا، مگر سیدنا ابوطلحہؓ اور سیدہ ام سلیمؓ نے بچوں کو سلا کر وہ کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیا۔
چراغ بجھا دیا گیا تاکہ مہمان کو معلوم نہ ہو کہ میزبان خود بھوکا ہے۔
پورا گھرانہ بھوکا رہا، لیکن مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔
ان کے اسی بے مثال ایثار پر اللہ تعالیٰ خوش ہوا۔

1/2

مسلمانوں کی تاریخ ایثار و قربانی کے ایمان افروز واقعات سے بھری پڑی ہے۔ 

اسلام نے عبادات کے ساتھ اخلاق، سخاوت، ہمدردی، مہمان نوازی اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کی تعلیم بھی دی۔ 

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ تعلیمات رسول اللہﷺ سے سیکھیں اور انہیں اپنی عملی زندگی میں اس طرح اپنایا کہ ان کا ہر واقعہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن گیا۔

ان کے نزدیک سچے ایمان کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی ضرورت کے باوجود کسی دوسرے ضرورت مند کو ترجیح دے۔ 

یہی جذبہ ایک رات مدینہ منورہ کے ایک گھر میں اس شان سے ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس گھرانے کے عمل سے خوش ہوا۔

رسول اللہ ﷺ کا بھوکا مہمان

ایک شام ایک مسافر مسجد نبویﷺ میں حاضر ہوا۔ 

سفر اور بھوک نے اسے نڈھال کر رکھا تھا اور اسے کھانے کی ضرورت تھی۔ 

وہ کسی عام شخص کا نہیں بلکہ اللہ کے رسولﷺ کا مہمان بن کر آیا تھا، اور آپﷺ سے بڑھ کر مہمان نواز کون ہوسکتا تھا؟

مزید پڑھیں

رسول اللہﷺ نے اپنی ایک اہلیہ کے گھر پیغام بھجوایا کہ ایک مہمان آیا ہے، کیا گھر میں اس کے لیے کچھ کھانا موجود ہے؟ 

جواب ملا کہ گھر میں پانی کے سوا کچھ نہیں۔

یہ بیتِ نبوی تھا، لیکن مہمان کو پیش کرنے کے لیے کچھ موجود نہ تھا۔ 

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بعض اوقات کئی ماہ تک گھر میں چولہا نہ جلتا اور گزارا پانی اور کھجور پر ہوتا تھا۔ 

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس روز کھجوریں بھی نہیں تھیں۔

رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف شفقت بھری نگاہ سے دیکھا اور پوچھا:

’آج تم میں سے کون میرے اس مہمان کی میزبانی کرے گا؟‘

سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ فوراً آگے بڑھے اور عرض کیا:

’اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کے مہمان کی میزبانی کروں گا۔‘

📖 مختصر خلاصہ
مدینہ منورہ میں ایک بھوکا مسافر رسول اللہ ﷺ کا مہمان بنا تو سیدنا ابوطلحہؓ اسے اپنے گھر لے گئے۔ گھر میں صرف بچوں کے لیے کھانا تھا، مگر سیدہ ام سلیمؓ نے بچوں کو سلا کر وہی کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیا۔ چراغ بجھا دیا گیا تاکہ مہمان کو معلوم نہ ہو کہ میزبان خود بھوکے ہیں۔ پورا گھرانہ بھوکا رہا، مگر مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔

وہ مسافر کو اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ 

رات ہوچکی تھی اور اندھیرا پھیل چکا تھا۔ 

گھر پہنچ کر انہوں نے اپنی اہلیہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا:

’یہ اللہ کے رسولﷺ کا مہمان ہے، ہمیں اس کی عزت اور اچھی طرح میزبانی کرنی ہے‘۔

رسول اللہﷺ نے مہمان کی عزت کو ایمان کا تقاضا قرار دیتے ہوئے فرمایا:

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ

’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے‘۔

بچوں کا کھانا اور ایک مشکل فیصلہ

سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ گھر میں کھانے کے لیے کیا موجود ہے؟ انہوں نے جواب دیا:

’صرف اتنا کھانا ہے جو بچوں کے لئے کافی ہوسکتا ہے‘۔

کھانا صرف ایک شخص کا تھا۔ 

اگر بچوں کو کھلایا جاتا تو مہمان بھوکا رہ جاتا اور اگر مہمان کو دیا جاتا تو بچوں کو بھوکا سونا پڑتا۔ 

💡 یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ حقیقی ایثار فالتو چیز دینے کا نام نہیں، بلکہ اپنی ضرورت کے باوجود دوسرے انسان کو ترجیح دینا ہے۔ سیدنا ابوطلحہؓ اور سیدہ ام سلیمؓ کے گھر میں کھانا کم تھا، مگر دل کشادہ تھے۔ ان کا عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ غربت عیب نہیں؛ اصل اخلاقی بیماری بخل، خود غرضی اور ضرورت مندوں سے بے حسی ہے۔

سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے کہا:

’بچوں کو کسی طرح بہلا کر سلا دو۔ 

کھانا مہمان کے سامنے رکھ دینا اور جب وہ کھانے کے لیے بیٹھ جائے تو چراغ درست کرنے کے بہانے اسے بجھا دینا‘۔

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچوں کو بہلایا اور بھوکا سلا دیا، پھر دسترخوان لگایا۔ 

اگر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مہمان کے ساتھ نہ بیٹھتے تو اسے کھانے کی کمی کا اندازہ ہوسکتا تھا اور شاید وہ جھجک کی وجہ سے پیٹ بھر کر نہ کھاتا۔

چنانچہ وہ مہمان کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ گئے۔ 

جیسے ہی مہمان نے کھانا شروع کیا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا چراغ درست کرنے کے بہانے آئیں اور اسے بجھا دیا۔ 

مہمان سمجھتا رہا کہ میزبان بھی کھانا کھا رہا ہے، جبکہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ صرف کھانے کا انداز اختیار کرتے رہے تاکہ تمام کھانا مہمان کے حصے میں آجائے۔

اہم ترین نکات
1ایک بھوکا مسافر مسجد نبوی ﷺ میں حاضر ہوا۔
2سیدنا ابوطلحہؓ نے رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی میزبانی قبول کی۔
3گھر میں صرف بچوں کے لیے تھوڑا سا کھانا موجود تھا۔
4بچوں کو بہلا کر سلایا گیا اور کھانا مہمان کو پیش کردیا گیا۔
5چراغ بجھا دیا گیا تاکہ مہمان کھانے کی کمی محسوس نہ کرے۔
6پورا گھرانہ بھوکا رہا، مگر مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔
7رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایثار سے خوش ہوا۔

اس رات سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، ان کی اہلیہ اور بچے بھوکے رہے، لیکن رسول اللہﷺ کا مہمان پیٹ بھر کر سوگیا۔ 

اس گھرانے کے سامنے کسی تعریف یا دنیاوی صلے کے بجائے صرف اللہ کی رضا اور مہمان کی عزت تھی۔

وہ عمل جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوا

صبح سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ 

آپﷺ نے بتایا کہ اللہ عز وجل ان میاں بیوی کے رات والے ایثار سے خوش ہوا۔ 

انہوں نے اپنی بھوک اور بچوں کی ضرورت کے باوجود ایک ضرورت مند کو ترجیح دی تھی۔

📌 فیکٹ باکس
مقاممدینہ منورہ
مرکزی شخصیاتسیدنا ابوطلحہ انصاریؓ اور سیدہ ام سلیمؓ
مہمانرسول اللہ ﷺ کے پاس آنے والا ایک بھوکا مسافر
گھر میں خوراکصرف بچوں کے لیے کافی کھانا
قربانیبچوں کو سلا کر کھانا مہمان کو پیش کیا گیا
قرآنی حوالہسورۃ الحشر، آیت 9
مرکزی سبقاپنی ضرورت کے باوجود دوسرے کو ترجیح دینا حقیقی ایثار ہے

اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی اہلِ ایمان کی تعریف کرتے ہوئے سورۃ الحشر کی آیت نمبر 9 میں فرمایا:

’وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود فاقے میں ہوں، اور جو اپنے نفس کی حرص سے بچا لیے گئے، وہی کامیاب ہیں‘۔

اس واقعے کا سبق یہ ہے کہ ایثار صرف دولت مندوں کا وصف نہیں۔ 

اپنی فالتو چیز دے دینا آسان ہے، حقیقی ایثار یہ ہے کہ آدمی خود ضرورت مند ہو، پھر بھی دوسرے کی ضرورت کو مقدم رکھے۔ 

سیدنا ابوطلحہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہما کے گھر میں کھانا کم، مگر دل بہت کشادہ تھے۔

مفلس ہونا جرم نہیں

فقر و فاقہ اور بخیلی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ 

غریب یا مفلس ہونا جرم نہیں، کیونکہ تنگ دستی حالات کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ 

اصل اخلاقی بیماری بخل ہے۔ 

بخیل شخص مال کے باوجود دوسروں کی ضرورت سے آنکھیں بند کرلیتا ہے اور دولت کی محبت اسے تنگ نظر اور سنگ دل بنا دیتی ہے۔

اسلام اس بیماری کا علاج صدقات، سخاوت اور ایثار سے کرتا ہے۔ 

یہ اعمال دل کو مال کی غلامی سے آزاد کرتے اور انسان میں ہمدردی اور اخوت پیدا کرتے ہیں۔ اصل دولت مال کی کثرت نہیں، دل کی کشادگی ہے۔

⏱️ ایک منٹ میں مضمون
ایک شام ایک بھوکا مسافر مسجد نبوی ﷺ میں حاضر ہوا۔ سیدنا ابوطلحہؓ اسے اپنے گھر لے گئے، مگر وہاں صرف بچوں کے لیے تھوڑا سا کھانا تھا۔ سیدہ ام سلیمؓ نے بچوں کو بہلا کر سلا دیا اور کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیا۔ چراغ بجھا دیا گیا تاکہ مہمان کو معلوم نہ ہو کہ میزبان خود نہیں کھا رہے۔ مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا، جبکہ پورا گھرانہ بھوکا رہا۔ صبح رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کے ایثار سے خوش ہوا۔ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ اصل دولت مال کی کثرت نہیں بلکہ دل کی کشادگی ہے۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اچھا مسلمان صرف اپنے لیے نہیں جیتا؛ وہ بھوکے، مسافر، یتیم اور ضرورت مند کا احساس بھی رکھتا ہے۔ یہی احساس ایمان کو کردار اور محبت کو عمل میں تبدیل کرتا ہے۔

اگلے حصے میں: 

ایک یتیم کی خاطر اپنا 6 سو کھجوروں کا باغ قربان کرنے والے سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ کا ایمان افروز واقعہ—’جنت کی کھجور‘۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے