براہ راست نشریات

ایک کھجور کے بدلے 6 سو درختوں کا باغ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Garden in Paradise

دنیا کے باغ یہیں رہ جاتے ہیں، مگر اخلاص کے ساتھ کیا گیا نیکی کا سودا انسان کے لیے جنت کے دائمی باغات بن جاتا ہے

Picture of عبد المالک مجاہد

عبد المالک مجاہد

ریاض

ایک یتیم بچے کی دیوار کے راستے میں ہمسائے کا کھجور کا درخت حائل تھا، مگر مالک اسے دینے یا فروخت کرنے پر آمادہ نہیں ہوا۔
رسول اللہﷺ نے اسے جنت میں کھجور کے درخت کی ضمانت دی، لیکن اس نے پھر بھی انکار کردیا۔
یہ پیشکش سن کر سیدنا ابو الدحداحؓ نے اپنا 6 سو درختوں کا باغ، گھر اور کنواں اس ایک درخت کے بدلے دے دیا اور پھر وہ درخت یتیم کو تحفے میں پیش کردیا۔

2/2

پہلے حصے میں ہم نے سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بے مثال ایثار کا واقعہ پڑھا۔ 

ان کے گھر میں صرف بچوں کے لیے کھانا تھا، لیکن انہوں نے بچوں کو بھوکا سلا کر رسول اللہﷺ کے مہمان کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا۔ 

اس واقعے نے واضح کیا کہ حقیقی ایثار اپنی ضرورت سے زائد چیز دینے کا نہیں بلکہ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود دوسرے انسان کو ترجیح دینے کا نام ہے۔

اب ایک ایسے صحابی کا واقعہ پڑھیے جنہوں نے ایک یتیم بچے کی آسانی اور رسول اللہﷺ کی خوشنودی کے لیے اپنا 6 سو کھجوروں کا آباد باغ، گھر اور کنواں قربان کردیا۔ 

یہ سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ کا ایمان افروز واقعہ ہے، جسے ’جنت کی کھجور‘ کہا جاسکتا ہے۔ 

اس روایت کو علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں

یتیم کے راستے میں ایک درخت

یثرب کھجوروں کی بستی تھی۔ 

رسول اللہﷺ کی تشریف آوری کے بعد یہی شہر مدینۃ النبی کہلایا۔ 

شہر اور اس کے اطراف میں کھجوروں کے بے شمار باغات تھے۔ 

بہت سے باغ ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور ان کے درختوں کی شاخیں بھی آپس میں گھل مل جاتی تھیں۔

 آندھی یا بارش میں کھجوریں زمین پر گرتیں تو کبھی یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا کہ کون سی کھجور کس درخت سے گری ہے۔

💡 یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟
یہ واقعہ بخل اور سخاوت، دنیا کی محبت اور آخرت کی طلب کے درمیان واضح فرق دکھاتا ہے۔ ایک شخص جنت کی بشارت کے باوجود دنیا کا ایک درخت چھوڑنے پر تیار نہ ہوا، جبکہ سیدنا ابو الدحداحؓ نے ایک یتیم کی آسانی اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے قیمتی ملکیت قربان کردی۔ سیدہ ام الدحداحؓ کا اس فیصلے کو بلا تردد قبول کرنا بھی ایمان اور ایثار کی عظیم مثال ہے۔

انہی باغات میں ایک یتیم بچے کا باغ بھی تھا، جس کے ساتھ ایک دوسرے شخص کا باغ ملا ہوا تھا۔ 

یتیم بچے نے سوچا کہ اپنے باغ کے گرد دیوار بنالی جائے تاکہ دونوں ملکیتیں واضح ہوجائیں اور مستقبل میں کسی قسم کا جھگڑا یا تنازع پیدا نہ ہو۔

اس نے دیوار بنانا شروع کی تو ہمسائے کا ایک کھجور کا درخت عین راستے میں حائل ہوگیا۔ 

اگر وہ درخت یتیم کو مل جاتا تو دیوار سیدھی بن سکتی تھی، ورنہ اسے ٹیڑھی دیوار بنانا پڑتی۔ 

بچہ اپنے ہمسائے کے پاس گیا اور نہایت ادب سے کہا:

’آپ کے باغ میں کھجور کے بہت سے درخت ہیں۔ 

میں اپنے باغ کے گرد دیوار بنا رہا ہوں، لیکن آپ کا ایک درخت راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ 

آپ یہ درخت مجھے دے دیں تاکہ میری دیوار سیدھی بن جائے‘۔

اہم ترین نکات
1یتیم بچے کی دیوار کے راستے میں ہمسائے کا درخت حائل تھا۔
2مالک نے درخت دینے اور فروخت کرنے، دونوں سے انکار کردیا۔
3رسول اللہ ﷺ نے اسے جنت میں کھجور کے درخت کی ضمانت دی۔
4سیدنا ابو الدحداحؓ نے جنت کی بشارت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
5انہوں نے ایک درخت کے بدلے چھ سو درختوں کا باغ دے دیا۔
6باغ کے ساتھ گھر اور میٹھے پانی کا کنواں بھی شامل تھا۔
7درخت خرید کر یتیم بچے کو تحفے میں دے دیا گیا۔
8سیدہ ام الدحداحؓ نے اسے ’’منافع بخش سودا‘‘ قرار دیا۔

اس شخص نے صاف انکار کردیا۔

یتیم نے دوبارہ درخواست کی:

’آپ اسے مجھے فروخت کردیں، میں اس کی قیمت ادا کردوں گا‘۔

اس نے جواب دیا:

’میں اسے فروخت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں‘۔

بچے نے منت سماجت کی اور ہمسائیگی کا واسطہ دیا، مگر اس شخص کا دل نرم نہ ہوا۔ 

اسے نہ یتیم کی مجبوری کا احساس تھا اور نہ ہمسائیگی کے حق کا خیال۔ 

آخرکار اس نے بے نیازی سے کہہ دیا کہ تمہاری دیوار سیدھی رہے یا ٹیڑھی، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں، میں اپنا درخت نہیں دوں گا۔

رسول اللہﷺ کے حضور فریاد

یتیم بچہ مایوس ہوا تو اسے خیال آیا کہ مدینہ منورہ میں ایک ایسی ہستی موجود ہے جس کی سفارش شاید اس مشکل کو حل کردے۔ 

وہ مسجد نبوی پہنچا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا:

’اللہ کے رسولﷺ! میرا باغ ایک شخص کے باغ سے ملا ہوا ہے۔ 

میں دونوں باغوں کے درمیان دیوار بنانا چاہتا ہوں، لیکن اس کا ایک کھجور کا درخت راستے میں رکاوٹ ہے۔ 

میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ اسے مجھے فروخت کردے، مگر اس نے انکار کردیا۔ 

آپ اس سے میری سفارش فرمادیجئے‘۔

📌 فیکٹ باکس
مقاممدینہ منورہ
مرکزی شخصیتسیدنا ابو الدحداحؓ
ضرورت منداپنے باغ کی دیوار بنانے والا یتیم بچہ
رکاوٹہمسائے کا ایک کھجور کا درخت
ابو الدحداحؓ کی ملکیتچھ سو کھجوروں کا باغ، گھر اور کنواں
قربانیپورا باغ ایک درخت کے بدلے دے دیا
درخت کا حقداریتیم بچہ، جسے درخت تحفے میں دیا گیا
مرکزی سبقاللہ کی رضا کے لیے کیا گیا سودا کبھی خسارے کا سودا نہیں

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کو بلا لاؤ۔

جب وہ شخص مسجد نبوی آیا تو آپﷺ نے اسے یتیم کی ضرورت سمجھائی اور فرمایا:

’اپنے بھائی کو یہ کھجور کا درخت دے دو‘۔

اس نے کہا:

’میں نہیں دوں گا‘۔

رسول اللہﷺ نے دوبارہ فرمایا کہ یہ درخت اپنے بھائی کو دے دو، مگر اس نے پھر انکار کردیا۔ 

اس پر آپﷺ نے اسے ایسی پیشکش کی جس کا دنیا کی کسی دولت سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ 

آپﷺ نے فرمایا:

’یہ درخت اسے دے دو، میں تمہیں اس کے بدلے جنت میں کھجور کے درخت کی ضمانت دیتا ہوں‘۔

⏱️ ایک منٹ میں مضمون
مدینہ منورہ میں ایک یتیم بچہ اپنے باغ کی دیوار بنانا چاہتا تھا، مگر ہمسائے کا کھجور کا درخت راستے میں حائل تھا۔ مالک نے درخت دینے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے جنت میں کھجور کے درخت کی ضمانت دی، لیکن وہ پھر بھی تیار نہ ہوا۔ یہ گفتگو سن کر سیدنا ابو الدحداحؓ نے اپنا چھ سو درختوں کا باغ، گھر اور کنواں اس ایک درخت کے بدلے دے دیا۔ پھر وہ درخت یتیم بچے کو تحفے میں پیش کردیا۔ سیدہ ام الدحداحؓ نے گھر چھوٹنے پر شکوے کے بجائے کہا: ’’آپ نے بڑا ہی منافع بخش سودا کیا ہے!‘‘
دنیا کے باغ یہیں رہ جاتے ہیں، نیکی کا سودا جنت کے دائمی باغات بن جاتا ہے۔

وہ شخص اتنی عظیم پیشکش سننے کے باوجود اپنے فیصلے پر قائم رہا اور بولا:

’نہیں، میں اپنا درخت نہیں دوں گا‘۔

رسول اللہﷺ خاموش ہوگئے۔ 

اس شخص کو ایک درخت کے بدلے جنت کا درخت پیش کیا گیا تھا، لیکن دنیا کی محبت نے اسے اس عظیم سعادت سے محروم کردیا۔

جنت کے درخت کا خریدار

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموشی سے یہ گفتگو سن رہے تھے۔ 

حاضرین میں سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ 

مدینہ منورہ میں ان کا ایک نہایت خوب صورت اور مشہور باغ تھا، جس میں کھجور کے 6 سو درخت تھے۔ 

باغ کی کھجوریں اعلیٰ معیار کی تھیں اور بازار میں ان کی بڑی شہرت تھی۔ 

مدینہ کے بہت سے لوگ اس باغ کی ملکیت کی خواہش رکھتے تھے۔

🌴 مختصر خلاصہ
ایک یتیم بچے کی دیوار کے راستے میں ہمسائے کا کھجور کا درخت حائل تھا، مگر مالک اسے دینے پر تیار نہ ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے جنت میں کھجور کے درخت کی ضمانت دی، لیکن اس نے انکار کردیا۔ یہ پیش کش سن کر سیدنا ابو الدحداحؓ نے اپنا چھ سو درختوں کا باغ، گھر اور کنواں اس ایک درخت کے بدلے دے دیا، پھر وہ درخت یتیم بچے کو تحفے میں پیش کردیا۔

باغ کے درمیان سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ کا گھر تھا، جہاں وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ 

وہاں میٹھے پانی کا ایک کنواں بھی تھا، جس نے باغ کی قدر و قیمت مزید بڑھا دی تھی۔ 

یہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ان کے خاندان کا گھر، ذریعۂ معاش اور سب سے قیمتی اثاثہ تھا۔

سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کی پیشکش سنی تو ان کے دل میں آخرت کی طلب جاگ اٹھی۔ 

انہوں نے سوچا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، آج نہیں تو کل اسے چھوڑ کر جانا ہے۔ 

اگر اس فانی باغ کے بدلے جنت میں ایک درخت مل جائے تو اس سے بڑھ کر نفع بخش سودا کیا ہوسکتا ہے!

وہ آگے بڑھے اور عرض کیا:

’اللہ کے رسولﷺ! جنت کے درخت کی یہ ضمانت صرف اسی شخص کے لئے ہے یا اگر میں اس سے درخت خرید کر یتیم کو دے دوں تو مجھے بھی جنت میں درخت ملے گا؟‘

آپﷺ نے فرمایا:

’ہاں، تمہارے لئے بھی جنت میں کھجور کے درخت کی ضمانت ہے‘۔

ہم سے جڑے رہیں

وہ سودا جس نے سب کو حیران کردیا

سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ اس شخص کی طرف بڑھے اور پوچھا:

’کیا تم میرے اس باغ کو جانتے ہو جس میں 6 سو کھجوروں کے درخت، ایک گھر اور میٹھے پانی کا کنواں ہے؟‘

اس نے جواب دیا:

’مدینہ میں کون ہے جو تمہارے باغ کو نہیں جانتا!‘

’اللہ اکبر!
ابو الدحداح
آپ نے بڑا ہی
منافع بخش
سودا کیا ہے!‘

سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’تم اپنا یہ ایک کھجور کا درخت مجھے دے دو اور اس کے بدلے میرا پورا باغ، گھر اور کنواں لے لو‘۔
اس شخص کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔
اس نے پہلے سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ کی طرف اور پھر حاضرین کی طرف دیکھا، گویا لوگوں سے تصدیق چاہتا ہو کہ انہوں نے بھی یہی بات سنی ہے۔
سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ نے اپنی پیش کش دہرائی اور حاضرین کو اس سودے پر گواہ بنالیا۔
یوں صرف ایک کھجور کے درخت کے بدلے 6 سو درختوں کا پورا باغ، رہائشی گھر اور میٹھے پانی کا کنواں اس شخص کی ملکیت بن گیا۔
درخت خریدنے کے بعد سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ یتیم بچے کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ’آج سے یہ کھجور کا درخت تمہارا ہے۔
میں نے اسے تمہیں تحفے میں دے دیا۔
اب اپنی دیوار سیدھی بناؤ، تمہارے راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی‘۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

اس کے بعد انہوں نے رسول اللہﷺ کی طرف رخ کرکے عرض کیا:

’اللہ کے رسولﷺ! کیا اب میں جنت میں کھجور کے درخت کا مستحق ہوگیا ہوں؟‘

آپ ﷺ نے فرمایا:

كَمْ مِنْ عِذْقٍ رَدَاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ

ابو الدحداح کے لئے جنت میں کھجوروں کے کتنے ہی جھنڈ ہیں!

’آپ نے بڑا منافع بخش سودا کیا‘

سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے دروازے پر پہنچے، مگر اندر داخل نہ ہوئے۔ باہر کھڑے ہوکر اپنی اہلیہ کو آواز دی:

’ام الدحداح! بچوں کو ساتھ لے کر باغ سے باہر آجاؤ، میں نے یہ باغ فروخت کردیا ہے‘۔

سیدہ ام الدحداح رضی اللہ عنہا نے پوچھا:

’آپ نے باغ کس کو اور کتنے میں فروخت کیا ہے؟‘

انہوں نے جواب دیا:

’میں نے اسے جنت میں کھجور کے ایک درخت کے بدلے فروخت کردیا ہے‘۔

یہ سن کر ان کی اہلیہ نے نہ شکوہ کیا، نہ گھر چھوٹنے کا غم ظاہر کیا اور نہ فیصلے پر اعتراض کیا۔ 

انہوں نے فوراً کہا:

اللّٰهُ أَكْبَرُ، رَبِحَ الْبَيْعُ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ

’اللہ اکبر! ابو الدحداح، آپ نے بڑا ہی منافع بخش سودا کیا ہے!‘

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

انہوں نے بچوں کو ساتھ لیا، ان کی جیبیں ٹٹولیں اور باغ کی جو کھجوریں ان کے پاس تھیں، انہیں بھی نکال دیا۔ 

پھر بچوں سے کہا:

’اب یہ ہمارے نہیں رہے، یہ ہمارے رب کے ہوگئے ہیں‘۔

اس کے بعد وہ اپنے بچوں سمیت خالی ہاتھ باغ سے باہر نکل آئیں۔

حقیقی دولت اور سچی محبت

سیدنا ابو الدحداح اور سیدہ ام الدحداح رضی اللہ عنہما کا یہ اقدام معمولی قربانی نہیں تھا۔ انہوں نے اپنا آباد گھر، 6 سو درختوں کا باغ، میٹھے پانی کا کنواں اور ذریعۂ معاش اللہ کی رضا، رسول اللہﷺ کی خوشنودی اور ایک یتیم بچے کی آسانی کے لیے چھوڑ دیا۔

ایک طرف وہ شخص تھا جس نے جنت کے درخت کی ضمانت کے باوجود دنیا کا ایک درخت چھوڑنے سے انکار کردیا، اور دوسری طرف سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے جنت کی امید میں اپنا پورا باغ قربان کردیا۔ 

یہی فرق بخل اور سخاوت، دنیا کی محبت اور آخرت کی طلب، محدود نظر اور کشادہ دل کے درمیان ہے۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کے پاس موجود مال اس وقت حقیقی دولت بنتا ہے جب وہ کسی یتیم کی مشکل آسان کرے، کسی بھوکے کا پیٹ بھرے اور اللہ کی رضا کا وسیلہ بن جائے۔ د

نیا کے باغ یہیں رہ جاتے ہیں، مگر اخلاص کے ساتھ کیا گیا نیکی کا سودا انسان کے لئے جنت کے دائمی باغات بن جاتا ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے