سوئٹزرلینڈ کے بورگن شٹوک میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ابتدائی اجلاس 80 منٹ جاری رہا، جس کے بعد دونوں وفود نے اندرونی مشاورت کی۔
مذاکرات میں لبنان میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت کئی اہم معاملات زیر بحث آئے، جبکہ دوسرا دور جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام بورگن شٹوک میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور اتوار کو تقریباً 80 منٹ جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگیا، جبکہ مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
یہ اطلاع العربیہ ٹی وی چینل کے ذرائع نے دی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ابتدائی اجلاس کے بعد دونوں وفود نے اندرونی مشاورت بھی کی، جبکہ سرکاری ایرانی ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ گفتگو کا بنیادی محور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 13 پر عمل درآمد تھا، جو لبنان کی صورتحال سے متعلق ہے اور مذاکراتی ایجنڈے میں ترجیحی حیثیت رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں
تہران بدستور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے، کیونکہ یہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کا اہم حصہ ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ حتمی معاہدے اور دیگر معاملات، خصوصاً جوہری پروگرام پر پیش رفت سے قبل لبنان میں جنگ بندی کا مکمل نفاذ ضروری ہے۔
دوسری جانب سی این این کے ایک ذریعے کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود نے جوہری مواد کے ذخائر، آبنائے ہرمز اور لبنان کی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کا آغاز کھلے اور براہِ راست مکالمے سے ہوا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مذاکراتی مقام پر امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جی ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ قطر اور پاکستان ثالثی کے کردار میں شریک ہیں۔
قطر نے اعلان کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے فنی اور تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں، جن کا مقصد حتمی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینا ہے۔
دوحہ نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات ایک دیرپا اور جامع سمجھوتے پر منتج ہوں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق بورگن شٹوک اجلاس ایک روزہ ہوگا، جس میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں کے علاوہ پاکستان اور قطر کے نمائندوں کی موجودگی میں مشترکہ نشستیں بھی شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ دونوں ثالث ممالک کے ساتھ الگ الگ مشاورتی ملاقاتیں بھی طے ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی مذاکراتی عمل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف مختلف وفود کے ساتھ ملاقاتوں کے ذریعے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ قطر نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے کے تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔
یہ مذاکرات اصل میں جمعہ کو شروع ہونا تھے، تاہم جنوبی لبنان میں سیکیورٹی صورتحال بگڑنے اور اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے کے باعث انہیں مؤخر کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں جنگ بندی کی تجدید اور سفارتی رابطوں کے بعد مذاکراتی عمل دوبارہ بحال کیا گیا۔
توقع ہے کہ آئندہ مراحل میں ایرانی جوہری پروگرام، لبنان کی سیکیورٹی صورتحال، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور متعدد سیاسی و اقتصادی امور پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے، جو ممکنہ حتمی معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔