براہ راست نشریات

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دور شروع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران مذاکرات سوئٹزرلینڈ

سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن شٹوک میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔
مذاکرات میں پاکستان اور قطر ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
فریقین مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے، لبنان میں مستقل جنگ بندی، ایرانی جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سمیت متعدد حساس معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے مذاکرات کو تاریخی قرار دیا جبکہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اسے عالمی امن کے لیے اہم موقع قرار دیا۔

سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام بورگن شٹوک میں اتوار کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا، جس کا مقصد حالیہ مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا مستقل خاتمہ اور ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ 

اس دوران تہران نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ کسی بھی جامع سمجھوتے کے لیے ناگزیر شرط ہے۔

مذاکرات میں شریک تمام وفود مقررہ مقام پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ قطر نے امریکہ، ایران اور پاکستان کی شرکت کے ساتھ مذاکراتی اجلاس کے آغاز کی تصدیق کی ہے۔

 دوحہ نے بتایا کہ حتمی معاہدے کی تفصیلات طے کرنے اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر غور کے لیے فنی اور تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں

قطر، جو پاکستان کے ساتھ مل کر ثالثی کے عمل میں شریک ہے، نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات ایک جامع اور پائیدار معاہدے پر منتج ہوں گے جو خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دے گا۔

مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جی ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ 

اس کے علاوہ قطر اور پاکستان کے نمائندے بطور ثالث شریک ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق بورگن شٹوک مذاکرات ایک روز جاری رہیں گے اور ان کا مقصد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے مراحل کو آگے بڑھانا ہے۔ 

مذاکرات میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ راست ملاقاتیں ہوں گی جن میں قطری اور پاکستانی نمائندے بھی شریک ہوں گے، جبکہ دونوں ثالث ممالک کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ 

اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف مختلف وفود سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی مشاورتی عمل میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ 

انہوں نے زور دیا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے خصوصی فالو اپ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جو تمام فریقوں کے سنجیدہ عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ 

انہوں نے پاکستان کے کردار، امریکہ اور ایران کی سفارتی وابستگی اور سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور ترکی کی حمایت کو بھی سراہا۔

مذاکرات کے آغاز پر امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب امریکی اور ایرانی حکام براہِ راست اہم اور پیچیدہ مسائل پر بات چیت کے لیے ایک میز پر بیٹھے ہیں۔

انہوں نے اس ملاقات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے عوام کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب کھولنا چاہتی ہے۔ 

ان کے مطابق اگر ایرانی قیادت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے عزائم سے دستبردار ہو جائے تو امریکہ تعلقات میں بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔

جی ڈی وینس نے مزید کہا کہ واشنگٹن لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو مستقل شکل دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، اور مذاکرات کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی قابلِ ذکر پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس کی آزادانہ ترسیل عالمی معیشت کے لیے ضروری ہے اور ٹرمپ انتظامیہ خطے میں زیادہ استحکام اور امن کی خواہاں ہے۔ 

ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے آغاز کو تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ 

انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین ایک ایسی دستاویز پر متفق ہوں گے جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد بنے گی۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب گزشتہ جمعے کو طے شدہ اجلاس لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا۔ 

حزب اللہ کی کارروائی میں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے حملے تیز کر دیے تھے۔

بعد ازاں امریکہ کی کوششوں سے جنگ بندی کی تجدید پر اتفاق ہوا، تاہم ہفتے کے روز دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں اور دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کی شب ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں جنگ کے خاتمے، لبنان میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کے کھلنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کے خاتمے کے نکات شامل تھے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ دو ماہ کے دوران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، جس میں خاص طور پر ایرانی جوہری پروگرام اور دونوں ممالک کے باہمی وعدوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر توجہ دی جائے گی۔