ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کے روز کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے بورگن شٹوک ریزورٹ میں ہونے والا اجلاس ایک روز تک جاری رہے گا اور اس میں ایران، امریکا، قطر اور پاکستان مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔
سرکاری ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران، امریکا، قطر اور پاکستان کے درمیان یہ چہار فریقی اجلاس آج اتوار کی سہ پہر سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی تفریحی مقام بورگن شٹوک میں منعقد ہوگا۔
بقائی نے بتایا کہ ایران، چہار فریقی اجلاس سے قبل آج قطر اور پاکستان کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں بھی کرے گا۔
ان کے مطابق یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ امریکا لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا، لہٰذا سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں یہ معاملہ ایک اہم موضوع ہوگا۔
بقائی کے مطابق اجلاس میں دیگر اہم امور پر بھی بات چیت کی جائے گی، جن میں ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی، تیل برآمد کرنے کی چھوٹ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ آج اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور بھی شروع ہو رہا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پیش رفت کرنا ہے۔
سوئس حکام نے اعلان کیا ہے کہ تمام وفود بورگن شٹوک پہنچ چکے ہیں۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، اور ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک کے نمائندے بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران اور امریکا کے وفود کے درمیان قطر اور پاکستان کے نمائندوں کی موجودگی میں مشترکہ اجلاس ہوں گے، جبکہ قطر اور پاکستان کے ساتھ الگ دوطرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی حمایت جاری رکھے گا۔
وزارت کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف امریکا، ایران، قطر اور سوئٹزرلینڈ کے وفود کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی مذاکرات کاروں کی آمد کے چند گھنٹے بعد سوئٹزرلینڈ پہنچے تھے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی مذاکراتی مقام بورگن شٹوک پہنچ چکے ہیں، جبکہ پاکستانی میڈیا کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے تھے۔