امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد مذاکراتی عمل نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے بورگن اسٹاک ریزورٹ میں اتوار سے تکنیکی مذاکرات متوقع ہیں، جہاں دونوں ممالک کے وفود پاکستان اور قطر کی موجودگی میں معاہدے کے عملی نفاذ پر بات چیت کریں گے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کا قابلِ اعتماد طریقہ کار پیش کرنا ہوگا، جبکہ امریکا نے مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تکنیکی مذاکرات کے آغاز سے قبل سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے سوئٹزرلینڈ کے بورگن اسٹاک ریزورٹ پہنچنے کے ساتھ ہی تہران نے بھی باضابطہ طور پر اپنے وفد کی روانگی کا اعلان کر دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتے کے روز کہا کہ ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ میں امریکی وعدوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور عملی ضمانتوں کا مطالبہ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کر چکا ہے، جبکہ امریکا پر لازم ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان میں حملے روکنے پر مجبور کرے، جیسا کہ مفاہمتی یادداشت میں طے پایا تھا۔
مزید پڑھیں
بقائی نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو پورا مفاہمتی عمل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا اصول ’عہد کے بدلے عہد‘ ہے اور اگر دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے تو تہران بھی مناسب اقدامات کرے گا۔
دوسری جانب پاکستانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور
ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات اتوار سے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوں گے، جن میں پاکستان اور قطر کے وفود بھی شریک ہوں گے۔
دونوں ممالک اس پورے عمل میں ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران دورے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے مذاکرات کو مؤخر نہ کرنے اور سفارتی عمل جاری رکھنے کا پیغام پہنچایا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد میں اہم سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی شخصیات شامل ہیں، جن میں محمد باقر قالیباف بطور سربراہ مذاکراتی ٹیم، وزیر خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے نائب علی باقری کنی، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں اور ایرانی حکام کے ساتھ متوقع تکنیکی مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
سوئٹزرلینڈ میں امریکا۔ایران تکنیکی مذاکرات کا آغاز قریب
تہران نے لبنان جنگ بندی کو معاہدے کی پہلی کسوٹی قرار دے دیا
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تکنیکی مذاکرات سے قبل سوئٹزرلینڈ میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بورگن اسٹاک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایران نے بھی اپنے وفد کی روانگی کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پر عملی عمل درآمد مذاکرات کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔
اہم سفارتی ٹائم لائن
اہم کردار
🇺🇸 امریکی ٹیم
اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
🇮🇷 ایرانی وفد
محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی، علی باقری کنی، عبدالناصر ہمتی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہو سکتے ہیں۔
🇵🇰 پاکستان
محسن نقوی کے تہران دورے کے بعد مذاکراتی عمل کو مؤخر نہ کرنے کا پیغام دوبارہ متحرک ہوا۔
🇱🇧 لبنان فائل
اسرائیلی حملوں اور حزب اللہ کے الزامات نے جنگ بندی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
📌 نتیجہ
بورگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات مفاہمتی یادداشت کو جامع معاہدے میں بدلنے کی پہلی بڑی آزمائش ہوں گے۔ اگر لبنان میں جنگ بندی عملی طور پر برقرار نہ رہی تو مذاکراتی عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مذاکراتی عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو دونوں فریقوں کے درمیان اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، جبکہ وہ خود بھی آئندہ چند روز میں سوئٹزرلینڈ جا سکتے ہیں۔
اس دوران پاسداران انقلاب نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا، تاہم ایک امریکی فوجی عہدیدار نے کہا کہ انہیں ایسی کوئی زمینی یا بحری نقل و حرکت نظر نہیں آئی جو اس دعوے کی تصدیق کرتی ہو۔
یہ تمام سرگرمیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب لبنان میں جنگ بندی ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہے۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان اور بقاع کے مختلف علاقوں پر حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
سوئس وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ بورگن اسٹاک میں مختلف ممالک کے سفارت کار مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم ہیں، تاہم رازداری کی وجہ سے ملاقاتوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ تمام زیر التوا مسائل آئندہ ساٹھ روز کے اندر حل ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر حتمی معاہدہ نہ ہو سکا تو فوجی آپشن بدستور میز پر موجود رہے گا۔