براہ راست نشریات

ہرمز کھلنے کے بعد بحری جہاز واپس آ گئے، تجارتی اعتماد تاحال غائب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز کا معاہدہ اور عالمی سمندری تجارت و سپلائی چین کی بحالی کے چیلنجز
ایران امریکہ مفاہمت کے تحت ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے بغیر فیس کھولا جائے گا (فوٹو: انٹرنیٹ)

آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا ایران امریکہ معاہدہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف بحری آمدورفت کی بحالی ہے، نہ کہ تجارتی اعتماد کی مکمل واپسی۔

مزید پڑھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی نظام اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں کارکردگی پر سیکیورٹی اور اعتماد کو فوقیت حاصل ہو چکی ہے۔

معاہدے کی شرائط اور زمینی حقائق

ایران امریکہ مفاہمت کے تحت ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے بغیر فیس کھولا جائے گا اور اس کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ 

اس دوران بارودی سرنگوں کی صفائی اور ایران پر سے امریکی بحری محاصرہ ہٹایا جائے گا۔ ساتھ ہی ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا وعدہ بھی شامل ہے۔

عالمی تجارت پر اثرات اور بحالی

کپلر اور انٹرنیشنل چیمبر آف شپنگ کے مطابق بحران سے 600 کے قریب جہاز اور 20 ہزار سے زائد عملہ متاثر ہوا۔

’بیمکو‘ کا کہنا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کا انحصار محفوظ راہداریوں اور میرین انشورنس کی بحالی پر ہے جو کہ ایک سست اور پیچیدہ عمل ثابت ہوگا۔

آبنائے ہرمز کا معاہدہ اور عالمی سمندری تجارت و سپلائی چین کی بحالی کے چیلنجز
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف بحری آمدورفت کی بحالی ہے، نہ کہ تجارتی اعتماد کی مکمل واپسی (فوٹو: انٹرنیٹ)

اقتصادی اشاریے اور عالمی تحفظات

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2026 میں عالمی نمو 3.1 فیصد تک گر گئی ہے، جبکہ افراط زر 4.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم اور اقوام متحدہ کے ادارے ’انکٹاڈ‘ نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی نمو 1.5 سے 2.5 فیصد تک محدود رہ سکتی ہے۔

سپلائی چین کا بتدریج بحالی

لاجسٹک ماہرین اور ڈی ایچ ایل جیسے اداروں کے مطابق آپریشنل حالات کو معمول پر لانے میں 4 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔

اسی طرح امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا قیاس ہے کہ پرانا تجارتی تسلسل 2027 سے پہلے ممکن نہیں۔ اسی طرح انشورنس کمپنیوں کا اعتماد بحال ہونے میں بھی برسوں لگ سکتے ہیں۔

توانائی کے ذخائر اور قیمتیں

خام تیل کی قیمتیں 138 ڈالر سے گر کر 78 ڈالر تک آ چکی ہیں۔ گولڈمین ساچس اور جے پی مورگن کے مطابق قیمتیں 75 سے 80 ڈالر کے درمیان رہ سکتی ہیں۔

آئی ای اے نے 2027 تک تیل کی ممکنہ بہتات کی تنبیہ کی ہے، جو قیمتوں میں گراوٹ کی وجہ بن سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز کا معاہدہ اور عالمی سمندری تجارت و سپلائی چین کی بحالی کے چیلنجز
2026 میں عالمی نمو 3.1 فیصد تک گر گئی ہے، جبکہ افراط زر 4.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

کارکردگی سے لچک کی جانب

تجزیہ کاروں کے مطابق تجارت اب ’زیادہ سے زیادہ کارکردگی‘ سے نکل کر ’سپلائی چین کی لچک‘ کے ماڈل پر منتقل ہو رہی ہے۔

جنگی خطرات کے باعث انشورنس پریمیم میں 300 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ آکسفورڈ انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اسٹڈیز کے مطابق سیکیورٹی پر بڑھتی توجہ نے تجارت کو مہنگا اور تقسیم کر دیا ہے۔

تجارتی جغرافیے میں بڑی تبدیلیاں

میکنزی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان تجارت میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔

کمپنیاں اب جغرافیائی تنوع پر سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ مئیرسک اور ہیپاگ لائیڈ جیسی شپنگ کمپنیوں نے اپنے نیٹ ورک ڈیزائن بدلے ہیں تاکہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر متبادل راستے اور مراکز استعمال کیے جا سکیں۔

آبنائے ہرمز کا معاہدہ اور عالمی سمندری تجارت و سپلائی چین کی بحالی کے چیلنجز
آپریشنل حالات کو معمول پر لانے میں 4 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

تجارت کے 3 ممکنہ مستقبل

عالمی ماہرین 3 منظرنامے پیش کرتے ہیں:

  • پُرامید منظرنامے میں 2026 کے آخر تک معمول کی بحالی ممکن ہے۔
  • بنیادی منظرنامے میں 2027 تک بہتری متوقع ہے مگر اخراجات زیادہ رہیں گے۔
  • مایوس کن منظرنامے میں نئے سیکیورٹی تنازعات کے باعث سپلائی چین کی بحالی طویل مدت تک تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا صرف ایک تکنیکی اقدام ہے۔

عالمی معیشت نے جس طرح جنگ کے دوران اپنی سپلائی لائنز کو ری ڈیزائن کیا ہے، وہ ثابت کرتا ہے کہ دنیا اب پرانے تجارتی نظام کی طرف واپس نہیں لوٹے گی۔ 

سیکیورٹی، لچک اور متنوع سپلائی چینز ہی اب عالمی تجارت کے نئے ستون بن چکے ہیں۔