اسرائیل میں واشنگٹن اور تہران کے مابین ممکنہ معاہدے پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ پر شائع تجزیے کے مطابق تل ابیب کو خدشہ ہے کہ یہ مفاہمت جوہری پروگرام روکے بغیر ایرانی علاقائی اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بنے گی، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔
سفارتی کشیدگی اور میڈیا مہم
حالیہ مفاہمت کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے تعلقات میں تناؤ نمایاں ہے۔
اسرائیلی حکومت نے امریکی رائے عامہ، خاص طور پر قدامت پسند حلقوں میں حمایت بحال کرنے کے لیے 4 کروڑ ڈالر کی مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد ایرانی، چینی اور قطری خطرات کو اجاگر کرنا ہے۔
لبنانی محاذ اور فوجی حکمت عملی
اسرائیلی سیکیورٹی ادارے لبنانی محاذ کو امریکی-ایرانی معاہدے سے الگ کرنے کے حامی ہیں۔
اسرائیل کی عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ زمینی کامیابیوں کو سیاسی فوائد میں بدلنا ضروری ہے، جبکہ نیتن یاہو کسی بھی قسم کی فوجی واپسی کے بجائے اپنی شرائط پر سیکیورٹی زون قائم رکھنے پر بضد ہیں۔
عوامی رائے اور اندرونی تقسیم
تازہ ترین سروے کے مطابق 55 فیصد اسرائیلی اس معاہدے کو نقصان دہ سمجھتے ہیں اور صرف 18 فیصد اسے مثبت قرار دیتے ہیں۔
70 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے باوجود ایران سے متعلق ان کے خدشات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔
امریکی دباؤ اور نیتن یاہو کا مؤقف
رپورٹس کے مطابق، امریکہ اسرائیل پر جنوبی لبنان سے انخلا کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
تاہم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل ان ہدایات کا پابند نہیں ہے اور وہ اپنی فوجی آزادی برقرار رکھتے ہوئے ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
مبصرین کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے مابین مفاہمتی یادداشت خطے میں ایک نئے اسٹریٹجک تناؤ کا پیش خیمہ ہے۔
ان حالات میں جہاں ایران لبنانی محاذ پر جنگ بندی کے بدلے جوہری اور علاقائی معاملات میں ریلیف چاہتا ہے، وہیں اسرائیل اپنی عسکری بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی سفارت کاری اور داخلی سطح پر سخت گیر مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔