امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم ایران نے لبنان میں مؤثر جنگ بندی کو مذاکرات کی کامیابی کے لیے لازمی شرط قرار دے دیا ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال براہ راست مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان متوقع جوہری معاہدے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جبکہ لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کا معاملہ مذاکرات کے مستقبل کے لیے اہم رکاوٹ بن گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آج ہفتے کے روز سوئٹزرلینڈ پہنچ سکتے ہیں، تاہم ان کے سفر کے پروگرام میں آخری وقت میں تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کا عملی نفاذ تہران کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور یہی عنصر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گا۔
مزید پڑھیں
ایک ثالث ملک کے ذریعے کے مطابق ایران نے یہ پیغام دیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی صرف اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر نافذ ہوتی دکھائی دے، اس کے بعد ہی ایرانی وفد امریکا کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگا۔
ادھر امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں، جہاں ایران کے ساتھ ممکنہ
جوہری معاہدے پر ابتدائی مذاکرات متوقع ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکی وفد کی قیادت کریں گے جبکہ جیرڈ کشنر بھی مذاکراتی عمل میں شریک ہوں گے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ رافیل گروسی، جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ ہیں، پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں اور جوہری مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں پر امریکی ٹیموں کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں۔
امریکا۔ایران جوہری مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ میں بڑی سفارتی نقل و حرکت
لبنان جنگ بندی مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا مرکزی امتحان بن گئی
امریکا اور ایران کے درمیان متوقع جوہری معاہدے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آمد متوقع ہے، جبکہ اسٹیو وٹکوف، جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور رافیل گروسی بھی مذاکراتی عمل سے جڑے اہم کردار بن چکے ہیں۔
اہم سفارتی ٹائم لائن
سب سے بڑا سوال
کیا لبنان میں عملی جنگ بندی واشنگٹن اور تہران کو جوہری معاہدے کے اگلے مرحلے تک لے جا سکے گی، یا اسرائیلی حملے ایک بار پھر مذاکرات کو تعطل کا شکار کر دیں گے؟
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جمعہ کو شروع ہونے والے مذاکرات لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث ملتوی کر دیے گئے تھے۔
بعض امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیل واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقی ماندہ اختلافات 60 دن کے اندر حل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ مدت حالیہ مفاہمتی یادداشت میں طے کی گئی ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں جاری یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ واشنگٹن اور تہران ایک نئے معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم لبنان کی صورتحال اب بھی اس عمل کے لیے سب سے بڑا امتحان بنی ہوئی ہے۔