براہ راست نشریات

امریکا، ایران مذاکرات کے لئے سوئٹزرلینڈ میں سفارتی سرگرمیاں عروج پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران جوہری مذاکرات

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم ایران نے لبنان میں مؤثر جنگ بندی کو مذاکرات کی کامیابی کے لیے لازمی شرط قرار دے دیا ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال براہ راست مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان متوقع جوہری معاہدے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جبکہ لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کا معاملہ مذاکرات کے مستقبل کے لیے اہم رکاوٹ بن گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آج ہفتے کے روز سوئٹزرلینڈ پہنچ سکتے ہیں، تاہم ان کے سفر کے پروگرام میں آخری وقت میں تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔ 

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کا عملی نفاذ تہران کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور یہی عنصر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گا۔

مزید پڑھیں

ایک ثالث ملک کے ذریعے کے مطابق ایران نے یہ پیغام دیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی صرف اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر نافذ ہوتی دکھائی دے، اس کے بعد ہی ایرانی وفد امریکا کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگا۔

ادھر امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں، جہاں ایران کے ساتھ ممکنہ 

جوہری معاہدے پر ابتدائی مذاکرات متوقع ہیں۔ 

اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکی وفد کی قیادت کریں گے جبکہ جیرڈ کشنر بھی مذاکراتی عمل میں شریک ہوں گے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ رافیل گروسی، جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ ہیں، پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں اور جوہری مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں پر امریکی ٹیموں کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں۔

```html id="us-iran-swiss-html"
سفارتی الرٹ

امریکا۔ایران جوہری مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ میں بڑی سفارتی نقل و حرکت

لبنان جنگ بندی مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا مرکزی امتحان بن گئی

⏱️ ایک منٹ میں:
امریکا اور ایران کے درمیان متوقع جوہری معاہدے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آمد متوقع ہے، جبکہ اسٹیو وٹکوف، جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور رافیل گروسی بھی مذاکراتی عمل سے جڑے اہم کردار بن چکے ہیں۔
ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی صرف اعلان نہ رہے بلکہ عملی طور پر نافذ ہوتی دکھائی دے، اس کے بعد ہی تہران تکنیکی مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگا۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکی وفد کی قیادت کریں گے اور جیرڈ کشنر بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
جمعہ کو شروع ہونے والے مذاکرات لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث ملتوی ہوئے تھے، اسی لیے لبنان کی صورتحال اب اس پورے سفارتی عمل کا سب سے حساس نکتہ بن چکی ہے۔
0دن کا مذاکراتی فریم ورک
0اہم امریکی کردار
0مرکزی رکاوٹ: لبنان
0مقام: سوئٹزرلینڈ

اہم سفارتی ٹائم لائن

🇨🇭 سوئٹزرلینڈ میں امریکا۔ایران مذاکرات کی تیاری تیز ہو گئی۔
🇮🇷 عباس عراقچی کی آمد متوقع، مگر شیڈول میں تبدیلی کا امکان برقرار۔
🇺🇸 اسٹیو وٹکوف، جے ڈی وینس اور جیرڈ کشنر امریکی مذاکراتی ٹیم سے جڑ گئے۔
☢️ رافیل گروسی جوہری مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں پر مشاورت کر رہے ہیں۔
🇱🇧 لبنان جنگ بندی مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کن عنصر بن گئی۔

سب سے بڑا سوال

کیا لبنان میں عملی جنگ بندی واشنگٹن اور تہران کو جوہری معاہدے کے اگلے مرحلے تک لے جا سکے گی، یا اسرائیلی حملے ایک بار پھر مذاکرات کو تعطل کا شکار کر دیں گے؟

BY: overseaspost.net
```

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جمعہ کو شروع ہونے والے مذاکرات لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث ملتوی کر دیے گئے تھے۔ 

بعض امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیل واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقی ماندہ اختلافات 60 دن کے اندر حل کیے جا سکتے ہیں۔ 

یہ مدت حالیہ مفاہمتی یادداشت میں طے کی گئی ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں جاری یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ واشنگٹن اور تہران ایک نئے معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم لبنان کی صورتحال اب بھی اس عمل کے لیے سب سے بڑا امتحان بنی ہوئی ہے۔