براہ راست نشریات

ٹرمپ کا دھماکہ خیز بیان: میں نہ ہوتا تو اسرائیل کچلا جا چکا ہوتا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ اسرائیل لبنان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملہ کرنے سے روک سکتے ہیں کیونکہ اسرائیلی قیادت ان کی بات سنتی ہے۔
انہوں نے نیتن یاہو کے ساتھ مضبوط تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا دفاع بھی کیا، جبکہ اسرائیلی حکومت اس معاہدے پر مسلسل تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔

ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔

اس پس منظر میںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو اسرائیل کو کچل دیا جاتا۔

ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو کے ساتھ تعلقات ’بہت اچھے‘ ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ نیتن یاہو ’عقل و منطق سے کام لیں‘۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملہ کرنے سے روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ اسرائیلی ان کا احترام کرتے ہیں اور ان کی بات مانتے ہیں۔

امریکی صدر نے گزشتہ روز بھی نیتن یاہو کو تحمل اور دانشمندی سے کام لینے کا مشورہ دیا تھا۔ 

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب جنوبی لبنان پر اسرائیلی 

بمباری جاری ہے، حالانکہ بدھ کی شب امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر خونریزی روکنے کی شق شامل ہے۔

ٹرمپ نے اس مفاہمتی یادداشت کو درحقیقت ایران کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس معاہدے کا دفاع کیا، جس پر امریکا اور بیرونِ ملک، خصوصاً اسرائیل میں، شدید بحث جاری ہے کہ اس سے کس فریق کو زیادہ فائدہ حاصل ہوا۔

ChatGPT Image 19 يونيو 2026، 12 36 58 م

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیتن یاہو کی حکومت کے متعدد وزرا نے امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی معاہدے پر سخت تنقید کی ہے۔ 

اس پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کو یاد دلایا کہ واشنگٹن ہی دنیا میں اس کا واحد مضبوط اتحادی ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم نام نہاد ’سیکیورٹی زونز‘ سے واپس نہیں ہٹے گی، جسے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے مستقبل کے لیے ایک ممکنہ چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔

جنوبی اور مشرقی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں حالیہ شدت کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ChatGPT Image 19 يونيو 2026، 03 48 31 م

نیتن یاہو نے جمعہ کے روز جاری بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنے فوجیوں یا سرزمین پر حملوں کو ہرگز نظرانداز نہیں کرے گا اور حزب اللہ کو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج جب تک ضرورت ہوگی لبنان میں موجود رہے گی۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کے مطابق انہوں نے گزشتہ رات فوج کو حزب اللہ کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور درجنوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔