تہران اور واشنگٹن کے درمیان ابتدائی معاہدے کے بعد ایرانی معیشت میں نئی ہلچل پیدا ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق امریکی ڈالر کی قدر میں تیزی سے کمی کے باوجود عام شہریوں کی زندگی میں بہتری کے آثار ابھی تک نمایاں نہیں ہو سکے ہیں۔ بازاروں میں ایک عجیب سا جمود اور غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔
ڈالر کی گرتی ہوئی قدر
تہران کے معروف صرافہ بازار میں ڈالر کی قیمت میں تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ معاہدے کے 2 دنوں کے اندر ڈالر کی قیمت 18 لاکھ
ریال سے کم ہو کر 15 لاکھ 40 ہزار ریال تک آ گئی ہے۔
ڈیلرز کے مطابق خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم زیادہ تر لوگ مزید کمی کے منتظر ہیں۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں جمود
معاہدے کے باوجود اشیائے خورونوش اور بنیادی ضرورت کی اشیا کی قیمتیں جوں کی توں ہیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ پرانے اسٹاک کی خریداری مہنگی ہوئی تھی، جس کے باعث قیمتیں کم کرنے سے انہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم شہریوں کو اب بھی ریلیف ملنے کا انتظار ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی
دریں اثنا اسٹاک مارکیٹ نے معاہدے کے بعد غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے، جہاں انڈیکس پہلی بار 50 لاکھ پوائنٹس کی نفسیاتی حد کو عبور کر گیا ہے۔
سرمایہ کار توانائی اور پیٹرو کیمیکل سیکٹر میں دلچسپی لے رہے ہیں، جبکہ ماہرین اسے ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہیں، لیکن پرانے تجربات کے پیش نظر محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا جا رہا ہے۔
پراپرٹی اور الیکٹرانکس کا حال
الیکٹرانکس مارکیٹ میں خریداروں کی کمی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ گاہک مزید بہتری کے منتظر ہیں۔
اسی طرح پراپرٹی مارکیٹ میں بھی جمود کا سامنا ہے، تاہم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مالکان اپنی پرانی قیمتوں پر قائم ہیں، جس کے باعث خرید و فروخت کا عمل تاحال معطل دکھائی دیتا ہے۔
معاشی اصلاحات کا چیلنج
ایران چیمبر آف کامرس کے سابق صدر حسین سلاح ورزی کا کہنا ہے کہ معاہدہ کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے۔
معاشی بحران کی جڑیں گہری ہیں، جنہیں ختم کرنے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی پروگرام کی ضرورت ہے۔ جنگ کے بعد معیشت کی بحالی کے لیے سرمایہ کاری اور کاروبار دوست ماحول ناگزیر ہے۔
مبصرین کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ یقیناً ایک مثبت پیشرفت ہے، جس نے اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی ریٹ پر فوری اثرات دکھائے ہیں۔
تاہم حقیقی معاشی استحکام کے لیے صرف سیاسی مفاہمت کافی نہیں، بلکہ ٹھوس اقتصادی اصلاحات اور پیداواری شعبوں میں اعتماد کی بحالی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔