امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی رہنماؤں کی تنقید کو ’غیر معمولی گھبراہٹ‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ واشنگٹن کی حمایت کوئی کھلا چیک نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران معاہدہ اس کی عسکری حکمت عملی، خصوصاً لبنان اور ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے، محدود کر سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ اتحاد کے خاتمے کے بجائے تعلقات کی نئی حدود متعین کرنے کی کوشش ہے۔
دو ایسے اتحادی ممالک کے درمیان، جو عموماً اپنے اختلافات بند دروازوں کے پیچھے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکام پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے ایران کے ساتھ واشنگٹن کے معاہدے کی مخالفت کو ’غیر معمولی گھبراہٹ‘ اور ’بے جا خوف‘ قرار دیا۔
انہوں نے اسرائیل کو یاد دلایا کہ وہ دنیا میں اپنے سب سے طاقتور اور اہم اتحادی، یعنی امریکہ، کے خلاف محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اگرچہ یہ بیانات امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کسی بڑی دراڑ کی نشاندہی نہیں کرتے، تاہم یہ جنگ کے بعد کے مرحلے کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی حقیقی بے چینی اور اختلافات کو ضرور نمایاں کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت آئندہ مہینوں میں ایک وسیع اور مستقل سیاسی تصفیے کی بنیاد بنے، جبکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ اس کی عسکری آزادی کو محدود کر سکتا ہے، خاص طور پر لبنان میں، اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں جیسے حساس معاملات کو مستقبل کی مذاکراتی میز پر منتقل کر سکتا ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی، لبنان میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر عائد بحری پابندیوں کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کا راستہ بھی کھولا گیا ہے۔
דקה ועשרים שניות של טקסט שקשה להיזכר מתי נאמר כמוהו על ידי איזשהו נשיא או סגן נשיא אמריקאי על איזושהי ממשלה ישראלית והעומד בראשה. למרות ההתנגשויות החריפות עם נתניהו, לא קלינטון, ולא אובמה, לא ביידן ולא האריס התקרבו בכלל לעוצמת הכעס הבוקע מכל מילה של סגן הנשיא ואנס, אולי הקול… pic.twitter.com/TxAhAzhN5J
— Ronen Bergman (@ronenbergman) June 18, 2026
اس معاہدے میں تعمیر نو اور ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر تک کے ایک ممکنہ بین الاقوامی فنڈ کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے، جبکہ یورینیم افزودگی سمیت پیچیدہ اور متنازع مسائل کو آئندہ مذاکرات کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ اسرائیل اس معاہدے کا براہِ راست فریق نہیں، لیکن دو اہم معاملات اسے براہِ راست متاثر کرتے ہیں: لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ مستقبل کی کشیدگی اور ایران کے جوہری پروگرام کا انجام۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان غیر معمولی کشیدگی
ایران معاہدے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کھلا اختلاف
امریکہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کو وسیع سیاسی تصفیے کی بنیاد بنانا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ لبنان، حزب اللہ، ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے حساس معاملات میں اس کی عسکری آزادی محدود کر سکتا ہے۔
اہم واقعات کی ٹائم لائن
تفصیلات: کلک کر کے پڑھیں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزرا کے ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر قومی سلامتی مسئلے کا حل صرف طاقت یا عسکری کارروائی نہیں ہو سکتا۔
اسرائیل کو خوف ہے کہ ایران معاہدہ لبنان میں اس کی کارروائیوں کو محدود کرے گا اور ایران کے جوہری و میزائل پروگرام کو فوری حل کے بجائے مستقبل کی مذاکراتی میز پر منتقل کر دے گا۔
صدر ٹرمپ تمام محاذوں پر جنگ بندی چاہتے ہیں، مگر نیتن یاہو جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی کو سکیورٹی ضرورت قرار دیتے ہیں۔
کئی ریپبلکن رہنماؤں اور AIPAC نے پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری و میزائل پروگرام پر واضح پابندیوں کی کمی پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
سروے کے مطابق 71 فیصد اسرائیلی ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ٹرمپ پر مکمل اعتماد نہیں رکھتے، جبکہ 52 فیصد نیتن یاہو کی پالیسیوں کو نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
یہ اختلاف اتحاد کے خاتمے سے زیادہ تعلقات کی نئی حدود متعین کرنے کی کوشش ہے؛ واشنگٹن غیر مشروط حمایت کی حد بتانا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل عسکری آزادی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
نتیجہ: اتحاد ختم نہیں، توازن بدل رہا ہے
امریکہ اور اسرائیل کے اختلافات تاریخی اتحاد کے خاتمے کی علامت نہیں، بلکہ جنگ کے بعد ایک نئے توازن کی تلاش ہیں؛ واشنگٹن سفارت کاری کو موقع دینا چاہتا ہے، جبکہ تل ابیب علاقائی خطرات کے خلاف اپنی عسکری برتری محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
جے ڈی وینس نے کیا کہا؟
نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے بعض اسرائیلی وزرا کے مؤقف پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ آخر ان کے پاس متبادل کیا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے ہر مسئلے کا حل صرف طاقت اور عسکری کارروائی نہیں ہو سکتا۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی اصل مشکلات کا ادراک ہونا چاہیے اور یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
وینس نے یاد دلایا کہ اسرائیل کے دفاعی نظام کا بڑا حصہ امریکی اسلحے اور امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل سے قائم ہے۔
اس کے جواب میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو امریکہ نے بیسویں صدی میں نازی جرمنی کے ساتھ کیا تھا۔
JD Vance ends his press conference by turning on Israel: "What does bother me is you've seen people in Bibi's cabinet who have come out and attacked the deal and in some ways very personally attacked the president. My message to them is Donald J Trump is the only head in the… pic.twitter.com/7JfbbgPZm7
— Aaron Rupar (@atrupar) June 18, 2026
یہ ردعمل اسرائیلی دائیں بازو کے حلقوں میں ایران اور حزب اللہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت یا کشیدگی میں کمی کی شدید مخالفت کو ظاہر کرتا ہے۔
لبنان اختلاف کا مرکزی نقطہ
لبنان کا معاملہ اس وقت واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان سب سے حساس موضوعات میں شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتامی خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان کے حوالے سے زیادہ لچکدار پالیسی اختیار کریں۔
بعد ازاں انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ وہ تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کے خواہاں ہیں، جس میں لبنان، حزب اللہ اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔
تاہم نیتن یاہو نے اس مؤقف سے مکمل اتفاق نہیں کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں اس وقت تک موجود رہیں گی جب تک اسرائیل کی سیکیورٹی ضروریات اس کا تقاضا کرتی رہیں گی۔
ادھر اسرائیلی فضائی حملے بھی جاری رہے، جن میں جنوبی لبنان کے علاقے النبطیہ میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے۔
واشنگٹن کے اندر بھی مخالفت
ایران معاہدے پر تنقید صرف اسرائیل تک محدود نہیں۔
امریکہ میں بھی متعدد بااثر ریپبلکن رہنما اور اسرائیل نواز لابیاں اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔
سینیٹر ٹیڈ کروز نے اسے ’غیر دانشمندانہ‘ قرار دیا، جبکہ سینیٹر بل کیسیڈی نے اسے ’ایک دہائی کی بدترین سیاسی غلطی‘ کہا۔
سینیٹر راجر وِکر کے مطابق ایران کو اس معاہدے سے ملنے والے فوائد سابق صدر باراک اوباما کے جوہری معاہدے کو بھی معمولی بنا دیتے ہیں۔
اسی طرح امریکی اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) نے بھی پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری و میزائل پروگرام پر واضح پابندیوں کے فقدان پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
کیا اسرائیلی عوام کا اعتماد بھی کم ہو رہا ہے؟
اسرائیل کے اندر بھی اس معاہدے کے حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق 71 فیصد اسرائیلیوں کو ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ٹرمپ پر مکمل اعتماد نہیں، جبکہ صرف 11 فیصد افراد کا خیال ہے کہ اسرائیل اس جنگ میں واضح فاتح بن کر ابھرا ہے۔
اسی سروے میں 52 فیصد شرکاء نے رائے دی کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے اسرائیل کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔
یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیلی عوام میں ٹرمپ کی وہ مقبولیت، جو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کے بعد پیدا ہوئی تھی، اب پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی۔
تعلقات میں دراڑ یا نئی حدود؟
ماہرین کے مطابق موجودہ کشیدگی کو امریکہ اور اسرائیل کے تاریخی اتحاد کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان ایران سمیت مختلف معاملات پر شدید اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داری برقرار رہی۔
حقیقت میں موجودہ صورتحال زیادہ تر تعلقات کی نئی حدود متعین کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ واشنگٹن یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس کی غیر مشروط سیکیورٹی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل ہر محاذ پر اپنی مرضی کے مطابق کارروائیاں کرتا رہے، جبکہ اسرائیل اپنی علاقائی برتری اور دفاعی حکمت عملی برقرار رکھنے کے لیے زیادہ آزادی چاہتا ہے۔
یوں موجودہ اختلافات کو اتحاد کے خاتمے کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک نئے توازن کی تلاش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔