سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا چاہتا ہے، جس میں ایرانی ایٹمی پروگرام، لبنان میں جنگ بندی، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی آمد کے ساتھ مذاکرات کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا پہلا بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں آج اتوار کے روز امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہو رہا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو عملی شکل دینا اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایرانی وفد اور بین الاقوامی ثالث بھی مذاکراتی مقام پر موجود ہیں۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔
PMO Press Release
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) June 21, 2026
Prime Minister's Office
(Media Wing)
Islamabad: 21 June 2026.
Prime Minister and Field Marshal to participate in the High-Level Talks on the implementation of the Islamabad Memorandum of Understanding being held in Burgenstock, Switzerland, on 21st of June… pic.twitter.com/7jkON4U1pw
روانگی سے قبل جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کو امید ہے کہ مذاکرات کے دوران دو اہم معاملات میں پیش رفت ہوگی، جن میں ایرانی ایٹمی پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی کا استحکام شامل ہیں۔
مزید پڑھیں
ان کے مطابق موجودہ مذاکرات کا بنیادی محور یہی دونوں موضوعات ہوں گے۔
یہ مذاکرات جمعہ کو شروع ہونا تھے، تاہم جنوبی لبنان میں کشیدگی بڑھنے اور حزب اللہ کی کارروائی میں ایک اسرائیلی افسر سمیت 4 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد انہیں آخری وقت میں مؤخر کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی کی تجدید
پر اتفاق ہوا، لیکن ہفتے کے روز اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
اسی دوران ایرانی مسلح افواج کے مرکزی آپریشنل ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیاء‘ نے اعلان کیا کہ امریکا کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے تسلسل کے باعث آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے واضح کیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت محفوظ ہے اور امریکی افواج صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے چند روز قبل ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں جنگ کے خاتمے، لبنان محاذ پر کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں میں نرمی جیسے نکات شامل تھے۔
تاہم حالیہ پیش رفت نے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے بعض خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے ایک نیا تنازع بھی کھڑا کر دیا جب انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر خصوصی فیس عائد کر سکتا ہے۔
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ مستقبل میں اگر کوئی فیس عائد کی گئی تو وہ امریکا کی جانب سے اور امریکا کے مفاد میں ہوگی۔
JUST NOW: President Donald Trump says there will be no tolls in the Strait of Hormuz for 60 days.
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) June 20, 2026
After that, he says the strait would still remain toll-free unless the United States imposes tolls if a broader deal is not completed.
Strait of Hormuz is one of the most… pic.twitter.com/GkEp6lWyzm
ایران کی جانب سے سوئٹزرلینڈ پہنچنے والے اعلیٰ سطحی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی اور دیگر اہم سکیورٹی و اقتصادی حکام شامل ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ وفد مفاہمتی یادداشت میں شامل تمام وعدوں پر دوسرے فریق کے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کرے گا۔
سوئس شہر بورگن شٹوک میں ہونے والے یہ مذاکرات دو ماہ تک جاری رہ سکتے ہیں، جن میں ان حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی جو ابتدائی معاہدے میں حل طلب رہ گئے تھے، خاص طور پر ایرانی ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیاں اور معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار۔
پاکستان اور قطر بھی ان مذاکرات میں ثالث کے طور پر شریک ہیں۔
دونوں ممالک نے گزشتہ کئی مہینوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ترجمان کے مطابق وہ اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ کے ایمن ایئر بیس پہنچے، جہاں وہ متعدد سیاسی اور تکنیکی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔
امکان ہے کہ مذاکرات کی نوعیت اور نتائج کے مطابق ان کا قیام چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
اس سے قبل وینس نے بتایا تھا کہ امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں اور مذاکراتی عمل میں شریک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایرانی وفد کے ساتھ براہِ راست ملاقات بھی کسی وقت ممکن ہے
وینس نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ چند روز میں مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایک طرف ایرانی ایٹمی پروگرام کے معاملے پر پیش رفت چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب لبنان میں جنگ بندی کو مستحکم بنانے اور کسی بھی نئے تصادم کو روکنے کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے اسرائیل اور حزب اللہ سمیت تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
ان کے مطابق موجودہ مرحلہ ایک پائیدار اور جامع سیاسی حل تک پہنچنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں امریکا ایران مذاکرات: مفاہمتی یادداشت کا پہلا بڑا امتحان
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو رہا ہے، جس کا مقصد ایرانی ایٹمی پروگرام، لبنان جنگ بندی، آبنائے ہرمز اور اقتصادی پابندیوں جیسے حساس معاملات پر عملی پیش رفت حاصل کرنا ہے۔
ایرانی ایٹمی پروگرام
واشنگٹن ایرانی ایٹمی پروگرام پر واضح پیش رفت چاہتا ہے، جبکہ تہران وعدوں پر عملی عملدرآمد کی ضمانت کا مطالبہ کر رہا ہے۔
لبنان جنگ بندی
جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی مذاکرات کے لیے سب سے حساس سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
آبنائے ہرمز
ایران کی جانب سے بندش کے اعلان اور امریکا کی یقین دہانیوں نے عالمی توانائی منڈیوں میں دوبارہ تشویش پیدا کر دی ہے۔
پاکستان اور قطر
پاکستان اور قطر ثالث کے طور پر مذاکرات میں شریک ہیں اور رابطوں کو بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مذاکرات کی ٹائم لائن
⚠️ سب سے بڑا خطرہ
اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو آبنائے ہرمز، لبنان جنگ بندی، ایرانی ایٹمی پروگرام اور امریکی پابندیوں کے معاملات دوبارہ بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کے نزدیک یہ مذاکرات امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا پہلا بڑا امتحان ہیں۔
عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین ایٹمی، اقتصادی اور سکیورٹی اختلافات کو ختم کرکے ابتدائی معاہدے کو ایک جامع اور دیرپا سیاسی تصفیے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔