براہ راست نشریات

معاہدے کے بعد اربوں ڈالر، پاسدارانِ انقلاب کی جھولی میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاسدارانِ انقلاب ایران

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ ایرانی معیشت کے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے، مگر سب سے زیادہ فائدہ پاسدارانِ انقلاب کو پہنچنے کا امکان ہے، جو پہلے ہی ایران کے اہم اقتصادی شعبوں پر گہرا اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد جہاں ایک جانب جنگ کے خاتمے اور اقتصادی بحالی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، وہیں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے کا سب سے بڑا مالی فائدہ ایران کی طاقتور فوجی و اقتصادی تنظیم پاسدارانِ انقلاب کو پہنچ سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق جسے العربیہ اور دیگر ذرائع نے بھی نقل کیا ہے، پاسدارانِ انقلاب نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پابندیوں کے ماحول میں ایک وسیع تجارتی نیٹ ورک قائم کیا، جو تیل، تعمیرات، جہاز رانی، بندرگاہوں، مواصلات اور لاجسٹکس سمیت متعدد شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

اب جبکہ واشنگٹن اور تہران جنگ کے خاتمے اور پابندیوں میں نرمی سے متعلق مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں، ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایسی منفرد پوزیشن میں ہے جہاں وہ پابندیوں کے خاتمے، تیل کی برآمدات میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کا بڑا حصہ حاصل کر سکتی ہے۔

 رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک سینئر ایرانی ذریعے نے پاسدارانِ انقلاب 

کو حالیہ جنگ کا ’حقیقی فاتح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نہ صرف نظام کے استحکام کو یقینی بنایا بلکہ اب وہ کسی بھی ممکنہ معاشی کھلاؤ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔

ذرائع کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے برسوں تک پابندیوں سے بچنے اور ایرانی تیل کی فروخت جاری رکھنے کے لیے مختلف راستے اختیار کیے، جس کے باعث اس کا معاشی اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا۔

ChatGPT Image 20 يونيو 2026، 01 57 22 م

سرکاری دستاویزات اور عوامی ریکارڈز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا انجینئرنگ و تعمیراتی بازو خاتم الانبیاء سیکڑوں ذیلی کمپنیوں کی نگرانی کرتا ہے، جو توانائی، بنیادی ڈھانچے، مواصلات، آٹوموبائل، سیاحت اور لاجسٹکس سمیت کئی منافع بخش شعبوں میں سرگرم ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے سرمایہ کاری قوانین کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو مقامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے، جس کے باعث ایران میں سرمایہ کاری کرنے والی کئی بین الاقوامی کمپنیاں بالواسطہ یا بلاواسطہ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اداروں کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔

ایرانی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وسیع تر معاہدہ نہ بھی ہو اور بعض پابندیاں برقرار رہیں، تب بھی تیل کی برآمدات سے متعلق عارضی رعایتیں پاسدارانِ انقلاب کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ اسے پابندیوں کے ماحول میں کام کرنے کا طویل تجربہ حاصل ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب
خصوصی تجزیہ

کیا پاسدارانِ انقلاب معاہدے کی سب سے بڑی فاتح بن سکتی ہے

پابندیوں میں نرمی، تیل کی برآمدات اور 300 ارب ڈالر کے ممکنہ فنڈ پر نظریں
⏱️ ایک منٹ میں:
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد اقتصادی بحالی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، لیکن مبصرین کے مطابق کسی بھی جامع معاہدے کا سب سے بڑا مالی فائدہ سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کو پہنچ سکتا ہے، جو تیل، تعمیرات، بندرگاہوں، جہاز رانی اور لاجسٹکس سمیت ایران کے اہم معاشی شعبوں میں وسیع اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
0 ارب ڈالر ممکنہ فنڈ
0 مذاکراتی دن
0 ذیلی کمپنیاں
0 ممکنہ مالی فاتح

اہم پہلو

پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل کی فروخت میں اضافہ سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کے معاشی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

خاتم الانبیاء اور اس سے وابستہ ادارے توانائی، انفراسٹرکچر اور تعمیراتی منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی کمپنیاں مقامی شراکت داری کے باعث بالواسطہ طور پر پاسداران سے منسلک اداروں کے ساتھ کام کر سکتی ہیں۔

واشنگٹن کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ معاشی فوائد کا بڑا حصہ کہیں پاسدارانِ انقلاب تک نہ پہنچ جائے۔

اہم ٹائم لائن

📌 پابندیوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب نے وسیع معاشی نیٹ ورک قائم کیا۔
🛢️ تیل اور جہاز رانی کے شعبوں میں اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
🤝 امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت نے نئی معاشی راہیں کھول دیں۔
💰 300 ارب ڈالر کے ممکنہ فنڈ تک رسائی مستقبل کا بڑا موقع بن سکتی ہے۔
⚖️ امریکی پابندیاں اور قانونی پیچیدگیاں اب بھی اہم رکاوٹ ہیں۔

📌 خلاصہ

اگر امریکا اور ایران جامع معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو ایران کی معیشت کو بڑا فائدہ ہو سکتا ہے، مگر اصل سوال یہی رہے گا کہ اس معاشی بحالی کا سب سے بڑا حصہ عوام، حکومت یا سپاہِ پاسدارانِ انقلاب میں سے کس کے حصے میں آتا ہے۔

BY: overseaspost.net

رپورٹ کے مطابق حالیہ مفاہمتی یادداشت ایران کو تیل کی فروخت سے متعلق بعض رعایتیں فراہم کر سکتی ہے، جبکہ مستقبل میں طے پانے والا کوئی جامع معاہدہ تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور تقریباً 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ تک رسائی کا راستہ بھی کھول سکتا ہے۔

تاہم مبصرین کے مطابق یہی معاملہ واشنگٹن کے لیے ایک مشکل سوال بھی بن سکتا ہے، کیونکہ امریکا اور اس کے کئی اتحادی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں، جبکہ ایران کی معیشت کے متعدد اہم شعبے اس کے اثر و رسوخ میں ہیں۔