امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے آغاز سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔
بعد ازاں پاکستانی قیادت کی ایرانی وفد سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے آج اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے بورگن شٹوک ریزورٹ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی، جو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے قبل ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اس ملاقات میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، صدر کے مشیر جیرڈ کشنر اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے، جس سے خطے میں جاری سفارتی کوششوں میں پاکستان کے کردار کی اہمیت نمایاں ہوئی۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif, alongside Chief of Defence Forces and Chief of Army Staff Field Marshal Syed Asim Munir, meets U.S. Vice President J.D. Vance on the sidelines of the High-Level Talks in Burgenstock, Switzerland, on the implementation of the Islamabad… pic.twitter.com/t7gcKtgsy8
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) June 21, 2026
جے ڈی وینس سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی وفد سے بھی ملاقات کریں گے، تاکہ مذاکراتی عمل سے قبل مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
سوئس حکام نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات میں شریک تمام وفود بورگن شٹوک پہنچ چکے ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے نمائندے اور بین الاقوامی ثالث اتوار کی دوپہر باضابطہ مذاکرات کا آغاز کریں گے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی حمایت جاری رکھے گا۔
وزارت کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف امریکا، ایران، قطر اور سوئٹزرلینڈ کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کی کامیابی میں مدد دی جا سکے۔
قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی مذاکرات کاروں کی آمد کے چند گھنٹے بعد سوئٹزرلینڈ پہنچے تھے، جبکہ پاکستانی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے تھے۔
واضح رہے کہ یہ مذاکرات جمعہ کو شروع ہونا تھے، تاہم لبنان میں کشیدگی بڑھنے اور حزب اللہ کی کارروائی میں 4 اسرائیلی فوجیوں، جن میں ایک افسر بھی شامل تھا، کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی حملوں میں شدت آنے پر مذاکرات آخری وقت میں مؤخر کر دیے گئے تھے۔