براہ راست نشریات

ایئرلائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان، فضائی صنعت شدید متاثر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی فضائی صنعت

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے اثرات اب عالمی فضائی صنعت پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔
یورپ میں کورونا وبا کے بعد پہلی بار مسافروں کی تعداد میں سالانہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز کو طلب میں سب سے بڑی گراوٹ کا سامنا ہے۔
بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں، فضائی راستوں کی تبدیلی اور کمزور طلب نے ایوی ایشن سیکٹر کو نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے اثرات اب عالمی فضائی صنعت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ 

یورپی اور بین الاقوامی اداروں کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا وبا کے بعد پہلی مرتبہ یورپ میں فضائی مسافروں کی تعداد میں سالانہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز کو دنیا کے تمام خطوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

یورپ میں بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی تنظیم ACI Europe کے مطابق اپریل 2026 میں یورپی ہوائی اڈوں سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.7 فیصد کم رہی۔ 

اپریل 2021 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سالانہ بنیادوں پر فضائی سفر میں کمی دیکھی گئی۔

 رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے یورپی فضائی نقل و حمل کو متاثر کیا ہے۔

ChatGPT Image 4 يونيو 2026، 08 39 50 م

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل اولیویئر یانکوویچ نے کہاہے کہ کورونا وبا کے بعد مسافروں کی تعداد معمول پر واپس آ رہی تھی، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی بے یقینی نے ترقی کی رفتار کو متاثر کر دیا ہے اور مختلف منڈیوں کے درمیان کارکردگی کا فرق نمایاں ہو گیا ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی فضائی نقل و حمل ایسوسی ایشن IATA کے 

مطابق اپریل 2026 میں عالمی فضائی سفر کی طلب گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.4 فیصد کم رہی۔ 

اگر مشرقِ وسطیٰ کو اعداد و شمار سے نکال دیا جائے تو عالمی طلب میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جاتا۔

آئی اے ٹی اے کے مطابق بین الاقوامی پروازوں کی طلب میں 5.3 فیصد کمی آئی جبکہ مقامی پروازوں کی طلب تقریباً جمود کا شکار رہی۔ 

اسی دوران دنیا بھر میں نشستوں کے استعمال کی شرح کم ہو کر 83.1 فیصد رہ گئی۔

مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز سب سے زیادہ متاثر

آئی اے ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ولی والش نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث خطے کی ایئرلائنز کی طلب میں 46.6 فیصد کمی آئی، جس نے عالمی فضائی طلب کو بھی منفی زون میں دھکیل دیا۔

ChatGPT Image 4 يونيو 2026، 08 39 42 م

انہوں نے کہا کہ اپریل کے دوران جیٹ ایندھن کی قیمتیں دو گنا سے زیادہ بڑھ گئیں، جس کے نتیجے میں ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ 

اس کے علاوہ ایئرلائنز آنے والے مہینوں میں اپنی پروازوں کی گنجائش بھی کم کر رہی ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات اور کمزور طلب کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز کی بین الاقوامی پروازوں کی طلب اپریل 2025 کے مقابلے میں 48.1 فیصد کم رہی، جبکہ آپریشنل گنجائش 38.4 فیصد گھٹ گئی۔ 

اسی دوران نشستوں کے استعمال کی شرح 70.1 فیصد تک گر گئی۔

تاہم مارچ کے مقابلے میں کمی کی رفتار کچھ سست ہوئی ہے، جس کی ایک وجہ محدود جنگ بندی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر میں اضافہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپی ایئرلائنز نے طلب میں 0.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جبکہ یورپ اور ایشیا کے درمیان براہِ راست پروازوں کی طلب 15.3 فیصد بڑھ گئی۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسافروں کی ایک بڑی تعداد مشرقِ وسطیٰ سے گزرنے والے فضائی راستوں سے گریز کر رہی ہے، جس کا فائدہ متبادل روٹس کو مل رہا ہے۔

پورٹ سوڈان ویڈیو حقیقت

صنعت کو نئے بحران کا سامنا

فضائی صنعت کی نظریں اب برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو پر مرکوز ہیں جہاں 6 سے 8 جون کے درمیان آئی اے ٹی اے کی سالانہ جنرل اسمبلی اور عالمی فضائی نقل و حمل کانفرنس منعقد ہوگی۔ 

رائٹرز کے مطابق اس اجلاس میں کورونا وبا کے بعد فضائی صنعت کو درپیش سب سے بڑے بحران پر غور کیا جائے گا۔

جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، فضائی راستوں کی تبدیلی، طیاروں کی ترسیل میں تاخیر اور مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود میں رکاوٹیں فضائی کمپنیوں کے لیے بڑے چیلنج بن چکی ہیں۔

آئی اے ٹی اے، جو دنیا کی 370 سے زائد ایئرلائنز کی نمائندگی کرتی ہے، جنگ سے قبل 2026 میں 41 ارب ڈالر کے ریکارڈ خالص منافع کی توقع کر رہی تھی، لیکن اب ماہرین کا خیال ہے کہ ان تخمینوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔

بہت سی ایئرلائنز پہلے ہی ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھا رہی ہیں، غیر منافع بخش روٹس بند کر رہی ہیں اور مالی وسائل محفوظ رکھنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ 

اس صورتحال نے نہ صرف فضائی صنعت کی منافع بخشیت بلکہ 2050 تک صفر کاربن اخراج کے عالمی ہدف کے حصول پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔