سعودی مرکزی بینک کے مجموعی اثاثوں میں اپریل 2026 کے دوران معمولی کمی ریکارڈ کی گئی تاہم بینکاری شعبے میں ڈپازٹس، نجی شعبے کو قرضوں اور ہاؤسنگ فنانس کی نمو نے مالیاتی شعبے کی مضبوطی کو برقرار رکھا۔
سعودی مرکزی بینک ’ساما‘ کے اثاثوں میں اپریل 2026 کے دوران معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم مملکت کے بینکاری شعبے نے ڈپازٹس، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اور ہاؤسنگ فنانس کے شعبوں میں مضبوط نمو کا سلسلہ برقرار رکھا۔
ساما کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں مرکزی بینک کے مجموعی اثاثے 1.951 ٹریلین ریال رہے، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 1.67 فیصد کم ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر بھی اثاثوں میں 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ مارچ 2026 میں یہ حجم 1.967 ٹریلین ریال تھا۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی میں شائع ہونے والی ساما کی رپورٹ کے مطابق بیرون ملک سیکیورٹیز میں ساما کی سرمایہ کاری 1.088 ٹریلین ریال تک پہنچ گئی، جو مرکزی بینک کے کل اثاثوں کا 55.8 فیصد بنتی ہے۔
اس مد میں سالانہ بنیاد پر 10.4 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 1.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساما نے اپنی بیرونی سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو مزید وسعت دی ہے۔
اسی طرح غیر ملکی بینکوں میں جمع رقوم 461.84 ارب ریال تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 32.4 فیصد زیادہ ہیں تاہم ماہانہ بنیاد پر ان میں 4 فیصد کمی دیکھی گئی۔
SAMA Assets & Saudi Banking Indicators
Key financial movements from the Saudi Central Bank monthly bulletin
Total SAMA Assets
-0.8% MoM vs March 2026
Foreign Securities Investments
+10.4% YoY | +1.7% MoM
Deposits with Banks Abroad
-4% MoM
Foreign Reserve Assets
-0.3% MoM
Asset Composition Snapshot
Saudi Banking Sector Momentum
Bank Deposits
More than 10% YoY growth
Private Sector Lending
Less than 1% monthly growth
New Residential Mortgage Finance
Less than 1% YoY growth
Key Takeaway
SAMA’s balance sheet showed monthly pressure in April 2026, but annual comparisons point to stronger foreign reserve assets and a notable rise in overseas deposits. Meanwhile, Saudi bank deposits reached a historic level above SAR 3.1 trillion, supported by continued private-sector credit expansion and a sharp monthly rebound in residential mortgage financing.
اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں سعودی عرب کے مجموعی غیر ملکی ذخائر 1.856 ٹریلین ریال تک پہنچ گئے۔
یہ حجم سالانہ بنیاد پر 12.6 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ ماہانہ بنیاد پر معمولی 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب سعودی بینکاری شعبے میں جمع شدہ رقوم ’ڈپازٹس‘ میں مسلسل چھٹے ماہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مجموعی ڈپازٹس پہلی بار 3.1 ٹریلین ریال کی سطح عبور کر گئے، جبکہ سالانہ نمو 10 فیصد سے زیادہ رہی۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان معیشت میں مضبوط لیکویڈیٹی اور مالیاتی سرگرمیوں کے تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔
نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے دیے گئے قرضوں میں بھی اضافہ جاری رہا۔
اپریل کے اختتام پر نجی شعبے کو فراہم کردہ مجموعی قرضے 3.23 ٹریلین ریال تک پہنچ گئے، جو سالانہ بنیاد پر 7 فیصد اضافے کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ ماہانہ بنیاد پر بھی معمولی نمو ریکارڈ کی گئی۔
رہائشی فنانسنگ کے شعبے میں سب سے نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی، جہاں افراد کو فراہم کیے جانے والے نئے ہاؤسنگ قرضوں کا حجم اپریل میں 51 فیصد ماہانہ اضافے کے ساتھ 6.32 ارب ریال تک پہنچ گیا۔
سالانہ بنیاد پر بھی اس شعبے میں مثبت نمو برقرار رہی۔
تازہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ سعودی مرکزی بینک کے مجموعی اثاثوں میں محدود کمی واقع ہوئی ہے، تاہم مملکت کا بینکاری شعبہ بدستور مضبوط بنیادوں پر استوار ہے، جہاں ڈپازٹس، نجی شعبے کی فنانسنگ اور رہائشی قرضوں میں مسلسل اضافہ اقتصادی سرگرمیوں اور مالی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔