ابن بطوطہ کا سفرِ حج 7 صدیوں قبل کی روحانیت، علم اور تہذیبی روابط کی ایک زندہ داستان ہے۔
مراکش سے مکہ مکرمہ تک کے اس تاریخی سفر میں انہوں نے کعبۃ اللہ، عرفات، منیٰ اور حج کے مناظر کو انتہائی دلنشین انداز میں قلم بند کیا۔
ان کا سفرنامہ نہ صرف حج کی تاریخ بلکہ اسلامی دنیا کے علمی اور ثقافتی تعلقات کی بھی اہم دستاویز ہے۔
725 ہجری میں مراکش کے شہر طنجہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیاح ابن بطوطہ کا اپنے وطن سے نکلنا محض ایک طویل سفر کا آغاز نہیں تھا بلکہ حج کی مقدس پکار کا جواب تھا جس نے اس کے دل کو بے قرار کر دیا تھا۔
بعد میں یہی سفر ایک ایسی عظیم داستان میں تبدیل ہوا جس نے اسلامی دنیا کی جغرافیائی، تہذیبی اور روحانی تصویر کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
ابن بطوطہ نے اپنے مشاہدات کو اس انداز سے قلم بند کیا کہ آج بھی ان کی تحریریں قاری کو 7 صدیوں پرانے مکہ، منیٰ اور عرفات کے مناظر میں لے جاتی ہیں۔
ابن بطوطہ کا سفر ایک ایسے دور میں شروع ہوا جب مغربِ اسلامی میں حج اور علمی اسفار اپنی اہمیت کے عروج پر تھے۔
پانچویں سے آٹھویں صدی ہجری کے درمیان مراکش اور اندلس کے علما، صوفیا اور سیاح بڑی تعداد میں حجاز کا رخ کرتے تھے۔
مزید پڑھیں
یہ سفر صرف عبادت کے لیے نہیں ہوتے تھے بلکہ علم حاصل کرنے، محدثین اور فقہا سے ملاقات کرنے اور علمی اجازت نامے حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بنتے تھے۔
اسی روایت نے ابن جبیر، ابن رشید الفہری، عبدری اور دیگر مشہور سفرنامہ نگاروں کو جنم دیا، جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ابن بطوطہ نے بھی حرمین شریفین کا رخ کیا۔
اگرچہ بعض ادوار میں اندلس کے محاذوں پر دفاعی ضروریات اور سیاسی حالات کے باعث حج کے سفر کم ہوئے، تاہم حرمین شریفین کی محبت مغربی مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہی۔
یہی وجہ تھی کہ حج کے سفرناموں نے اسلامی ادب میں ایک مستقل صنف کی حیثیت اختیار کر لی اور آج بھی یہ تحریریں تاریخ کا اہم سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔
ابن بطوطہ نے 725 ہجری میں حج کی نیت سے اپنا سفر شروع کیا، مگر بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں بجا قبائل اور مملوکوں کے درمیان کشیدگی کے باعث وہ اسی سال حج ادا نہ کر سکے۔
چنانچہ انہیں ایک سال انتظار کرنا پڑا۔
بالآخر 726 ہجری، مطابق 1326ء، میں انہوں نے دمشق سے روانہ ہونے والے شامی قافلے کے ساتھ مدینہ منورہ اور پھر مکہ مکرمہ کا سفر اختیار کیا۔
20 ذی القعدہ کو جب ان کی نگاہ پہلی مرتبہ کعبۃ اللہ پر پڑی تو ان کے جذبات الفاظ میں ڈھل گئے۔
انہوں نے کعبہ کو ایسی دلہن سے تشبیہ دی جو جلال و عظمت کے تخت پر جلوہ افروز ہو اور حسن و جمال کے لباس میں ملبوس ہو۔
ان کی تحریر سے محسوس ہوتا ہے کہ بیت اللہ کا پہلا دیدار ان کے لیے زندگی کا سب سے یادگار لمحہ تھا۔
طوافِ قدوم اور صفا و مروہ کی سعی مکمل کرنے کے بعد ابن بطوطہ نے حرم مکی کی روحانی کشش کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دلوں میں ان مقدس مقامات کی ایسی محبت رکھ دی ہے کہ جو شخص ایک بار یہاں آتا ہے، اس کا دل ہمیشہ کے لیے ان سے وابستہ ہو جاتا ہے۔
وہ جدائی میں غمگین رہتا ہے اور دوبارہ حاضری کی آرزو اس کے دل میں مسلسل زندہ رہتی ہے۔
ابن بطوطہ نے موسمِ حج کی سرگرمیوں کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق یکم ذی الحجہ سے مکہ میں حج کی رونقیں عروج پر پہنچ جاتیں۔
نمازوں کے اوقات میں ڈھول اور نقارے بجائے جاتے تاکہ لوگوں کو موسمِ حج کی آمد کا احساس دلایا جا سکے۔
7 ذی الحجہ کو خطیب نمازِ ظہر کے بعد خطبہ دیتا اور حجاج کو مناسکِ حج کی تعلیم دیتا تھا۔
8 ذی الحجہ کو حجاج منیٰ روانہ ہوتے جہاں مصر، شام اور عراق کے قافلے رات گزارتے تھے۔ مختلف قافلوں کے درمیان چراغاں اور شمعیں روشن کرنے میں دوستانہ مقابلہ بھی ہوتا تھا، جس میں اکثر شامی قافلہ نمایاں رہتا تھا۔
9 ذی الحجہ کو نمازِ فجر کے بعد تمام قافلے میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوتے اور راستے میں وادیٔ محسر سے گزرتے ہوئے سنت کے مطابق تیزی سے چلتے تھے۔
ابن بطوطہ مکہ مکرمہ کی معاشی خوشحالی اور غذائی فراوانی سے بھی متاثر ہوئے۔
انہوں نے لکھا کہ ایک خشک اور بنجر علاقے کے باوجود مکہ میں بہترین پھل، سبزیاں اور دیگر غذائی اشیا دستیاب تھیں۔
انگور، انجیر، آڑو، تازہ کھجوریں اور دیگر پھل طائف اور آس پاس کے علاقوں سے مکہ لائے جاتے تھے۔
ان کے مطابق یہ سب اللہ تعالیٰ کی خصوصی نعمت تھی جو حرم کے باشندوں اور زائرین کو میسر تھی۔
عرفات کے بارے میں ابن بطوطہ نے تفصیل سے لکھا کہ جبلِ رحمت ایک وسیع میدان کے وسط میں واقع تھا۔
اس کے اوپر ایک گنبد موجود تھا جسے حضرت ام سلمہؓ سے منسوب کیا جاتا تھا۔
اس کے قریب وہ چٹانیں بھی تھیں جہاں رسول اللہ ﷺ نے وقوف فرمایا تھا۔
غروبِ آفتاب کے بعد جب لاکھوں حجاج ایک ساتھ عرفات سے روانہ ہوتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے زمین حرکت کر رہی ہو۔
ابن بطوطہ نے اس منظر کو روحانیت، عظمت اور انسانی اجتماع کا بے مثال نمونہ قرار دیا۔
عیدالاضحیٰ کے دن انہوں نے کسوۂ کعبہ کا بھی مشاہدہ کیا۔
ان کے مطابق مصری قافلہ ہر سال نئی کسوہ لے کر آتا تھا جو کعبۃ اللہ پر چڑھائی جاتی تھی۔ انہوں نے کسوہ پر لکھی قرآنی آیات اور اس کے روحانی حسن کا دلکش انداز میں ذکر کیا۔
ابن بطوطہ نے یہ بھی لکھا کہ اس زمانے میں مصر کے مملوک سلطان الناصر محمد بن قلاوون حرم شریف کے اخراجات، ائمہ، خطباء، مؤذنین اور دیگر خدمات کے انتظامات کی نگرانی کرتے تھے۔
انہوں نے حج کے مختلف قافلوں کا بھی ذکر کیا۔
مصری قافلہ مصر، شمالی افریقہ اور مغرب سے آنے والے حجاج پر مشتمل ہوتا تھا، جبکہ شامی اور عراقی قافلے اپنے اپنے علاقوں کے زائرین کو ساتھ لاتے تھے۔
ان قافلوں کی آمد و رفت اور واپسی کے لیے باقاعدہ نظام موجود تھا۔
حج کی ادائیگی کے بعد ابن بطوطہ عراقی قافلے کے ساتھ روانہ ہوئے، مگر ان کا سفر یہیں ختم نہیں ہوا۔
وہ اگلے 25 برس سے زائد عرصے تک ایشیا، افریقہ اور یورپ کے مختلف علاقوں میں سفر کرتے رہے۔
انہی مشاہدات کو انہوں نے اپنی مشہور کتاب ’تحفۃ النظار فی غرائب الامصار وعجائب الاسفار‘ میں جمع کیا، جو بعد میں دنیا کے اہم ترین سفرناموں میں شمار ہوئی۔
ابن بطوطہ کی تحریریں صرف ایک سیاح کے مشاہدات نہیں بلکہ 7 صدیوں قبل کے حج کی زندہ تاریخ ہیں۔
ان کے سفرنامے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ زمانے بدل گئے، ذرائع سفر جدید ہو گئے اور انتظامات میں غیرمعمولی ترقی آ گئی، لیکن بیت اللہ کی محبت، عرفات کی دعائیں، منیٰ کی یادیں اور حج کی روحانی کیفیت آج بھی ویسی ہی ہے جیسی ابن بطوطہ نے 7 سو برس قبل محسوس کی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ ان کا سفرنامہ آج بھی حج، اسلامی تاریخ اور تہذیبی ورثے کے مطالعے کے لیے ایک قیمتی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔