ایرانی سرکاری ٹی وی نے پاکستان کی ثالثی میں جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی ’اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک‘ کا دعویٰ کیا ہے، جس میں بحری پابندیاں ختم کرنے، امریکی فوجی انخلا اور آبنائے ہرمز سے متعلق نکات شامل تھے۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے دستاویز کو ’جعلی‘ قرار دیا جبکہ ساتھ ہی اس بات کی تصدیق بھی کی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکراتی عمل بدستور جاری ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اپنے ایک سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے واضح کیا کہ ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ غلط ہے اور جس مفاہمتی دستاویز کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ مکمل طور پر جعلی ہے۔
امریکی انتظامیہ نے مزید کہا کہ حقائق کو بنیاد بنا کر معاملات کو دیکھنا ضروری ہے، جبکہ بعض امریکی میڈیا اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے ایرانی دعوؤں کو مناسب تصدیق کے بغیر نشر کیا۔
اگرچہ واشنگٹن نے رپورٹ کو مسترد کر دیا، تاہم وائٹ ہاؤس نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے اور مذاکراتی عمل جاری ہے، اور ان میں پیش رفت ہورہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے واضح شرائط بھی طے کی جاچکی ہیں۔