اہم خبریں
27 May, 2026
--:--:--

ایران، امریکا جنگ بندی فریم ورک: تہران کا اقرار، واشنگٹن کا انکار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا مذاکرات

ایرانی سرکاری ٹی وی نے پاکستان کی ثالثی میں جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی ’اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک‘ کا دعویٰ کیا ہے، جس میں بحری پابندیاں ختم کرنے، امریکی فوجی انخلا اور آبنائے ہرمز سے متعلق نکات شامل تھے۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے دستاویز کو ’جعلی‘ قرار دیا جبکہ ساتھ ہی اس بات کی تصدیق بھی کی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکراتی عمل بدستور جاری ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کی جانب سے پاکستان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی مسودے کی تفصیلات سامنے لانے کے بعد ایک نیا سفارتی تنازع کھڑا ہوگیا، جبکہ امریکا نے فوری طور پر ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے متعلقہ دستاویز کو ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دے دیا۔ 

تاہم ساتھ ہی واشنگٹن نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ ’اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک‘ نامی ابتدائی خاکہ اب بھی نظرثانی اور حتمی تدوین کے مرحلے میں ہے، اور یہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کی جانب ایک ممکنہ پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے، تاہم اسے ابھی حتمی معاہدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

امریکا ایران مذاکرات
ایرانی سرکاری ٹی وی نے 14 نکاتی ابتدائی مفاہمتی فریم ورک کا دعویٰ کیا

مزید پڑھیں

ایرانی میڈیا کے مطابق مجوزہ مسودے میں 14 نکات شامل ہیں، جن میں امریکا کی جانب سے ایران پر عائد بحری پابندیاں ختم کرنا اور ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے یا وہاں سے روانہ ہونے والے جہازوں کو ہراساں نہ کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے مجوزہ فریم ورک کے تحت ایک ماہ کے اندر جنگ سے پہلے جیسی تجارتی بحری نقل و حرکت بحال کرنے کی 

یقین دہانی کرائی ہے، تاہم بحری راستوں کی نگرانی، جہازوں کی تلاشی اور سروس فیس وصول کرنے کا اختیار ایران کے پاس رہے گا، جس میں سلطنت عمان کے ساتھ رابطہ کاری شامل ہوگی۔

ایرانی ٹی وی نے مزید دعویٰ کیا کہ فوجی جہاز اس انتظام کا حصہ نہیں ہوں گے، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھولنے کا کوئی وعدہ بھی نہیں کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا اصولی طور پر ایران کے اطراف موجود اپنی فوجی موجودگی محدود یا ختم کرنے پر آمادہ ہوا ہے، تاہم اس حوالے سے تفصیلات اب بھی مذاکرات کا حصہ ہیں، جن میں حالیہ تعینات فوجی دستے اور خطے میں موجود امریکی اڈوں سے وابستہ معاملات شامل ہیں۔

ChatGPT Image 23 مايو 2026، 09 28 44 م 1
مبینہ مسودے میں ایران پر بحری پابندیاں ختم کرنے اور امریکی فوجی انخلا جیسے نکات شامل تھے

ایرانی میڈیا کے مطابق اگر ابتدائی مفاہمت کے بعد 60 روز کے اندر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک لازمی فیصلے کے ذریعے کی جاسکتی ہے، جس سے اسے بین الاقوامی سطح پر مضبوط قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔

وائٹ ہاؤس نے
ایرانی میڈیا کی
رپورٹ کو مکمل
طور پر جعلی
قرار دے دیا

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اپنے ایک سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے واضح کیا کہ ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ غلط ہے اور جس مفاہمتی دستاویز کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ مکمل طور پر جعلی ہے۔
امریکی انتظامیہ نے مزید کہا کہ حقائق کو بنیاد بنا کر معاملات کو دیکھنا ضروری ہے، جبکہ بعض امریکی میڈیا اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے ایرانی دعوؤں کو مناسب تصدیق کے بغیر نشر کیا۔
اگرچہ واشنگٹن نے رپورٹ کو مسترد کر دیا، تاہم وائٹ ہاؤس نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے اور مذاکراتی عمل جاری ہے، اور ان میں پیش رفت ہورہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے واضح شرائط بھی طے کی جاچکی ہیں۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران اور امریکا جنگ بندی کے لیے مختلف تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ کرتے رہے ہیں۔ 

ChatGPT Image 24 مايو 2026، 01 44 35 م
امریکی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں

فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے اثرات خلیجی خطے اور لبنان تک پھیل گئے تھے، جبکہ 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

 

آبنائے ہرمز اس تنازع کا اہم ترین مرکز بن چکی ہے، جہاں ایران نے بحری نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کیں، جبکہ امریکا نے جواباً ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اقدامات کیے، جس سے علاقائی کشیدگی مزید بڑھ گئی، تاہم سفارتی کوششیں اب بھی کسی ممکنہ سیاسی حل کی جانب جاری ہیں۔