اہم خبریں
27 May, 2026
--:--:--

فرانس متحرک، آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عالمی مشن کی تیاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز

فرانس نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز کر دی ہیں۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق پیرس اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک دفاعی مشن بھیجنے پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد تجارتی جہازوں کی حفاظت اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا ہے۔
فرانس نے ایران پر جہاز رانی کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا، جبکہ صدر ایمانویل میکرون اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایرانی معاملے پر مسلسل رابطوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پیرس اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو جلد از جلد بحال کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، اور اس نے جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق جسے ’ایرانی دباؤ‘ قرار دیا، اسے مسترد کر دیا۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے العربیہ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ فرانس آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تجارتی بحری نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی مشن بھیجنے پر کام کر رہا ہے۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ مشن ’صرف دفاعی نوعیت‘ کا ہوگا، جس کا مقصد جہازوں کی حفاظت، جہاز رانی کے عملے اور انشورنس کمپنیوں کو اعتماد فراہم کرنا ہے۔

strait of hormuz
فرانس نے جہاز رانی سے متعلق "ایرانی دباؤ" کو مسترد کر دیا

مزید پڑھیں

انہوں نے مزید کہا کہ پیرس اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں مزید رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔

فرانسیسی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک خطے میں جاری جنگ کا حصہ نہیں، اور ان کے مطابق موجودہ جنگ بین الاقوامی قانون 

کے دائرے سے باہر شروع ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی معاملے پر مسلسل رابطے میں ہیں، جبکہ فرانس کے ایرانی حکام کے ساتھ بھی رابطے برقرار ہیں۔

آبنائے ہرمز کشیدگی
فرانس آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عالمی اقدامات تیز کر رہا ہے

ترجمان نے کہا کہ پیرس نے تہران کو ان شرائط سے آگاہ کر دیا ہے جن کے بدلے یورپی پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں، اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ سال کے آغاز میں ایرانی حکومت نے اپنے عوام کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ قابل قبول نہیں۔