اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

اعلانِ اسلام آباد کا انتظار: امریکا، ایران معاہدے میں کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران معاہدہ

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ابتدائی مفاہمت کو ’اعلانِ اسلام آباد‘ کا نام دیئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ثالثی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ مجوزہ فریم ورک میں آبنائے ہرمز کھولنے، ایران پر پابندیوں میں نرمی اور آئندہ جوہری مذاکرات جیسے نکات شامل ہیں۔

اعلیٰ سطح کے باخبر ذرائع نے  آج اتوار کے روز بتایا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ ابتدائی مفاہمت کو ’اعلانِ اسلام آباد‘ کا نام دیا جا سکتا ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے، جیسا کہ العربیہ نے رپورٹ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ممکنہ مفاہمتی یادداشت ’میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘ کا اعلان کرے گا، جبکہ مذاکراتی وفود کی موجودگی ضروری نہیں ہوگی۔ 

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکراتی دور 5 جون کو متوقع ہے۔

مزید پڑھیں

ذرائع کے مطابق موجودہ مرحلے پر زیر غور معاہدہ حتمی سمجھوتہ نہیں بلکہ ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت ہوگی، جس کے بعد اہم اور پیچیدہ معاملات پر جامع مذاکرات ہوں گے، جبکہ حتمی معاہدے پر بات چیت کے آغاز پر امریکی اور ایرانی وفود کے سربراہان براہ راست شریک ہوں گے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو کہا کہ 

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس سے مستقل اور مثبت نتیجے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

ChatGPT Image 23 مايو 2026، 09 28 44 م 1
امریکا اور ایران کے درمیان فوری معاہدے پر دستخط متوقع نہیں

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان مذاکراتی عمل جاری رکھنے اور آئندہ دور کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکراتی پیش رفت کے بعد ایک جامع معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق پیش رفت کافی آگے بڑھ چکی ہے۔

پاکستان مفاہمتی
یادداشت کے
اعلان اور سفارتی
رابطوں میں
اہم کردار
ادا کر رہا ہے

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کے قریب ہیں جس میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع شامل ہوگی، جس دوران آبنائے ہرمز مکمل طور پر دوبارہ کھولی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سمجھوتے میں ایران کو تیل کی آزادانہ فروخت کی اجازت، جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات اور عالمی بحری گزرگاہوں میں رکاوٹوں کے خاتمے جیسے نکات شامل ہیں۔
مزید یہ کہ مجوزہ فریم ورک میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی، یورینیم افزودگی کے معاملے پر مذاکرات، اور اعلیٰ سطح کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں بات چیت بھی شامل ہے۔

ایکسیوس کے مطابق ایران نے ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کو ابتدائی اشارے دیے ہیں کہ وہ جوہری مواد اور افزودگی سے متعلق کس حد تک رعایت دینے پر آمادہ ہے جبکہ امریکا ممکنہ طور پر پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی پر بھی غور کر رہا ہے۔