امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ابتدائی مفاہمت کو ’اعلانِ اسلام آباد‘ کا نام دیئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ثالثی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ مجوزہ فریم ورک میں آبنائے ہرمز کھولنے، ایران پر پابندیوں میں نرمی اور آئندہ جوہری مذاکرات جیسے نکات شامل ہیں۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کے قریب ہیں جس میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع شامل ہوگی، جس دوران آبنائے ہرمز مکمل طور پر دوبارہ کھولی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سمجھوتے میں ایران کو تیل کی آزادانہ فروخت کی اجازت، جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات اور عالمی بحری گزرگاہوں میں رکاوٹوں کے خاتمے جیسے نکات شامل ہیں۔
مزید یہ کہ مجوزہ فریم ورک میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی، یورینیم افزودگی کے معاملے پر مذاکرات، اور اعلیٰ سطح کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں بات چیت بھی شامل ہے۔