امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں جبکہ پاکستان کی ثالثی میں ممکنہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے یا دوبارہ جنگ کے امکانات کو برابر قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں اہم فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
دوسری جانب تہران نے بھی مفاہمتی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی تصدیق کی ہے تاہم جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور پابندیوں سمیت کئی حساس معاملات اب بھی زیر بحث ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے، جبکہ حالیہ گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے اشارے ممکنہ نئے معاہدے کی جانب پیش رفت ظاہر کر رہے ہیں۔
پاکستان کی متحرک ثالثی، علاقائی رابطوں اور بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کے باوجود جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات اب بھی دونوں فریقوں کے درمیان اہم اختلافی نکات بنے ہوئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کو اسلام آباد نے ’انتہائی نتیجہ خیز‘ قرار دیا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے یا دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات ’ففٹی، ففٹی‘ ہیں۔
مزید پڑھیں
ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اپنے مذاکراتی وفد کے ساتھ ایرانی تجاویز کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد آئندہ مرحلے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا، آیا سفارتی راستہ جاری رکھا جائے یا دوبارہ سخت اقدامات کی طرف جایا جائے۔
امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جس میں یورینیم افزودگی اور ایران کے موجودہ جوہری
ذخیرے جیسے بنیادی معاملات شامل نہ ہوں۔
ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں امریکی مفادات کے ساتھ اسرائیل کے تحفظات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب کو ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب پہلے سے زیادہ ممکن دکھائی دے رہا ہے تاہم اسرائیلی حلقوں میں مجوزہ سمجھوتے کی نوعیت پر خدشات بھی موجود ہیں۔
اسی دوران ایک نئی مفاہمتی دستاویز پر کام جاری ہے، جس میں جنگ کے خاتمے اور آئندہ ہفتوں کے دوران مزید وسیع مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی تجاویز شامل ہیں تاکہ اہم اختلافی معاملات کو حل کیا جا سکے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اس وقت امریکہ کے ساتھ مفاہمتی فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق حالیہ ہفتوں میں دونوں فریقوں کے درمیان کچھ معاملات پر قربت پیدا ہوئی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام اختلافی امور حل ہو چکے ہیں۔
بقائی نے واضح کیا کہ اس وقت ایران کی اولین ترجیح جنگ کا خاتمہ اور بحری نقل و حرکت پر عائد دباؤ کا خاتمہ ہے، جبکہ جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات کو بعد میں 30 سے 60 روز کے الگ مذاکراتی مرحلے میں زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز اور بحری راستوں سے متعلق معاملات اب بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہیں، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات اور تجاویز کا تبادلہ جاری ہے۔
دوسری جانب پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کر رہا ہے۔
پاکستانی فوج نے اعلان کیا کہ جنرل عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ہونے والی ملاقاتوں میں حتمی سمجھوتے کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق حالیہ بات چیت کا محور جنگ کے خاتمے، خطے میں استحکام کے فروغ اور مذاکراتی عمل کو تیز کرنے پر رہا۔
ذرائع کے مطابق موجودہ مذاکرات ایک ایسی مفاہمتی دستاویز کے گرد گھوم رہے ہیں، جس میں جنگ کے خاتمے، آئندہ مذاکراتی طریقہ کار اور اہم تنازعات کے حل کے لیے مستقبل کے فریم ورک پر غور کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ مجموعی ماحول پہلے سے زیادہ مثبت دکھائی دے رہا ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم، امریکی پابندیوں، توانائی اور بحری سلامتی جیسے معاملات اب بھی دونوں فریقوں کے درمیان اہم رکاوٹیں سمجھے جا رہے ہیں، جو ممکنہ ابتدائی مفاہمت کے بعد بھی مزید مذاکرات کا حصہ بن سکتے ہیں۔