عید الاضحیٰ کے پہلے روز صبح سے حجاج کرام کے قافلے مشعرِ منیٰ میں واقع جمرات کمپلیکس پہنچنا شروع ہوگئے، جہاں انہوں نے رمیِ جمرہ عقبہ کبریٰ کی ادائیگی کی۔
حلق یا تقصیر کے بعد مسجد الحرام میں طواف افاضہ اور قربانی کے بعد احرام کھول لئے جبکہ رمی اور طواف افاضہ کا سلسلہ جاری ہے۔
اس دوران حجاج کی نقل و حرکت نہایت منظم اور روانی کے ساتھ جاری رہی، جبکہ متعلقہ اداروں نے سیکیورٹی، طبی اور خدماتی سہولیات کے مکمل انتظامات کیے۔
متعلقہ حکام نے جمرات کمپلیکس کی مختلف منزلوں تک حجاج کی منظم تقسیم کے لیے متعدد راستے مختص کیے، تاکہ رش میں کمی اور آمدورفت میں روانی برقرار رکھی جا سکے۔
جدید انجینیئرنگ نظام کے تحت ہجوم کی تقسیم، پیدل پلوں، مشاعر ٹرین اور منیٰ کے خیموں سے مربوط راستوں کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔
مزید پڑھیں
جمرات پل اور اس کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی اہلکار، طبی عملہ، ایمبولینس ٹیمیں، سول ڈیفنس یونٹس اور حجاج کی رہنمائی پر مامور اہلکار بڑی تعداد میں تعینات رہے، تاکہ حجاج کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے۔
اس کے علاوہ ہنگامی طبی خدمات، فیلڈ میڈیکل پوائنٹس اور فوری امدادی مراکز بھی قائم کیے گئے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے
فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ یہ تمام سہولیات 24 گھنٹے ضیوفِ رحمان کی خدمت کے لیے فعال رہیں۔
جمرات کی جانب حجاج کی نقل و حرکت مرحلہ وار اور محفوظ انداز میں جاری رہی، جو پہلے سے طے شدہ تفویج پلان کے مطابق تھی۔
منیٰ کے اندرونی راستوں اور سڑکوں پر بھی ٹریفک کی روانی برقرار رہی، جس سے حجاج کو رمی کے مقامات اور اپنے خیموں کے درمیان آسانی سے آمدورفت کا موقع ملا۔
رمیِ جمرہ عقبہ کے بعد حجاج قربانی، حلق یا قصر اور طوافِ افاضہ سمیت یوم النحر کے دیگر مناسک مکمل کر رہے ہیں، جبکہ روحانی فضا اور منظم انتظامات نے حج کے اس اہم مرحلے کو مزید سہل بنا دیا۔
بعد ازاں حجاج مکہ مکرمہ جا کر طوافِ افاضہ ادا کریں گے، جو حج کا ایک بنیادی رکن ہے، پھر واپس منیٰ لوٹیں گے، جہاں ایامِ تشریق میں قیام اور تینوں جمرات کو کنکریاں مارنے کا عمل انجام دیں گے۔
مناسک کی تکمیل کے آخری مرحلے میں حجاج مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا طوافِ وداع ادا کریں گے۔
سعودی حکام کے مطابق رواں سال حج میں 17 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے، جن میں تقریباً 15 لاکھ 40 ہزار حجاج 165 مختلف ممالک سے سعودی عرب پہنچے۔