فقہائے امت کے درمیان قربانی کے حکم کے حوالے سے اختلاف موجود ہے۔
جمہور اہلِ علم، صحابہ کرامؓ، تابعین، محدثین اور فقہاء کی اکثریت قربانی کو سنت مؤکدہ قرار دیتی ہے، جبکہ امام ابوحنیفہؒ صاحبِ استطاعت مسلمان پر قربانی کو واجب قرار دیتے ہیں۔
قربانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
احادیث مبارکہ میں بھی قربانی کی بے شمار فضیلتیں بیان ہوئی ہیں۔
نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل قربانی کا خون بہانا ہے۔
قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت پیش ہوگا اور قربانی قبولیتِ الٰہی کا مقام حاصل کرتی ہے۔
ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
یہ قربانی تمہارے باپ حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے۔
اسی طرح قربانی نہ کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود اسے ترک کرنے والوں کے لیے سخت وعید بھی بیان ہوئی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جو شخص قربانی کی استطاعت رکھتا ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔
اسلام نے قربانی کے معاملے میں آسانی بھی رکھی ہے۔
ایک گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی ہوسکتی ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں ایک شخص اپنی اور اپنے پورے گھرانے کی طرف سے ایک بکری قربان کیا کرتا تھا۔
اگر کوئی فرد مستقل جانور خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو گائے یا اونٹ میں حصہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔
اسی طرح قربانی کے دنوں میں بھی وسعت رکھی گئی ہے، اور ایامِ تشریق کے دوران قربانی کی جاسکتی ہے۔
قربانی دراصل مال، خواہشات اور نفس کی قربانی کا درس دیتی ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل اطاعت، ایثار اور بندگی کا عملی مظہر ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس عظیم عبادت کو محض رسم نہ سمجھے بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جذبۂ قربانی اور نبی کریم ﷺ کی سنت کو زندہ کرنے کے جذبے کے ساتھ ادا کرے۔