اہم خبریں
27 May, 2026
--:--:--

قربانی: دو انبیا کی سنت، استطاعت والوں کے لیے عظیم عبادت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
قربانی کی اہمیت

قربانی اسلام کے اہم شعائر میں سے ایک عظیم عبادت ہے، جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت و قربانی پر قائم ہے۔
یہ عمل صرف گوشت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، ایثار، اطاعت اور بندگی کا عملی اظہار ہے۔
جمہور علماء کے نزدیک قربانی سنت مؤکدہ ہے، جبکہ امام ابوحنیفہؒ صاحبِ استطاعت افراد پر اسے واجب قرار دیتے ہیں۔

قربانی اسلام کی عظیم عبادات اور شعائرِ اسلام میں سے ایک نمایاں عبادت ہے۔ 

یہ صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت، وفاداری اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کامل سرِ تسلیم خم کرنے کی یادگار ہے۔

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے بغیر کسی تردد کے حکمِ الٰہی کی تعمیل کا عزم کیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے ان کے جذبۂ اخلاص کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیلؑ کے بدلے ایک عظیم قربانی عطا فرمائی۔ 

قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک عظیم قربانی کے ذریعے فدیہ دے کر بچا لیا۔

مزید پڑھیں

اسی عظیم واقعے کی یاد تازہ کرنے کے لیے امتِ مسلمہ ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرتی ہے۔ 

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہونے کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کی بھی دائمی سنت ہے۔ 

آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ہر سال قربانی فرمائی اور سفر میں بھی قربانی کا اہتمام کیا۔

فقہائے امت کے درمیان قربانی کے حکم کے حوالے سے اختلاف موجود ہے۔ 

جمہور اہلِ علم، صحابہ کرامؓ، تابعین، محدثین اور فقہاء کی اکثریت قربانی کو سنت مؤکدہ قرار دیتی ہے، جبکہ امام ابوحنیفہؒ صاحبِ استطاعت مسلمان پر قربانی کو واجب قرار دیتے ہیں۔

ChatGPT Image 26 مايو 2026، 03 39 53 م

قربانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔

احادیث مبارکہ میں بھی قربانی کی بے شمار فضیلتیں بیان ہوئی ہیں۔ 

نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل قربانی کا خون بہانا ہے۔ 

قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت پیش ہوگا اور قربانی قبولیتِ الٰہی کا مقام حاصل کرتی ہے۔

ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

یہ قربانی تمہارے باپ حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے۔

اسی طرح قربانی نہ کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود اسے ترک کرنے والوں کے لیے سخت وعید بھی بیان ہوئی ہے۔ 

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

جو شخص قربانی کی استطاعت رکھتا ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔

ChatGPT Image 26 مايو 2026، 03 53 54 م

اسلام نے قربانی کے معاملے میں آسانی بھی رکھی ہے۔ 

ایک گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی ہوسکتی ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں ایک شخص اپنی اور اپنے پورے گھرانے کی طرف سے ایک بکری قربان کیا کرتا تھا۔

اگر کوئی فرد مستقل جانور خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو گائے یا اونٹ میں حصہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔ 

اسی طرح قربانی کے دنوں میں بھی وسعت رکھی گئی ہے، اور ایامِ تشریق کے دوران قربانی کی جاسکتی ہے۔

قربانی دراصل مال، خواہشات اور نفس کی قربانی کا درس دیتی ہے۔ 

یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل اطاعت، ایثار اور بندگی کا عملی مظہر ہے۔ 

مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس عظیم عبادت کو محض رسم نہ سمجھے بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جذبۂ قربانی اور نبی کریم ﷺ کی سنت کو زندہ کرنے کے جذبے کے ساتھ ادا کرے۔