اہم خبریں
27 May, 2026
--:--:--

حج کی برکتیں اور اسلامی تاریخ کی روشن یادیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
حج کا روحانی سفر اور خانہ کعبہ میں طواف کا روح پرور منظر
حج ایک ایسی عبادت ہے جو مخصوص وقت اور مقام کے ساتھ مشروط ہے (فوٹو؛ الجزیرہ)

ربِ کعبہ نے مسلمانوں پر حج فرض کیا ہے اور اسے اسلام کا ایک رکن قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ نے اس رکن میں بہت سارے اسباق، اسرار، حکمتیں، عبرتیں، تزکیہ و تربیت کے طریقے ، پرلطف فائدے، نفع بخش آداب، جامع نصیحتیں اور شاندار فیصلے و دیعت کیے ہیں۔ 

حج ، سفر کی دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد ترین سفر ہے۔ عازم حج ، دل و دماغ ، جسم اور دولت اس سفر کے لیے وقف کرتا ہے ۔

اس سفر کا خواہشمند اپنے وطن سے مقدس شہر کا رخ کرتا ہے تاکہ رب 

العالمین سے مناجات کرے، کمال خداترسی کا مظاہرہ کرے،قادرمطلق ذات کے حضور کمال بندگی کا اظہار کرنے والے کلمات وارفتگی کے ساتھ ادا کرے۔

لبیک اللٰھم لبیک ، لبیک لاشریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لاشریک لک، ترانہ بندگی کا ورد پورے احساس و ادراک کے ساتھ کرے اور کرتا رہے۔

27 ramazan umra hajj masjid al haram khana kaba mataf tawaf 1
(فوٹو: واس)

خاندانوں کی تربیت کرنے والے، گھروں کی سرپرستی کرنے والے مسلم بھائیو! حج میں اللہ کے لیے خشوع و خضوع اختیار کیجیے۔

اپنے نبی کی اتباع کیجیے۔ پیغمبر اسلامﷺ کا یہ ارشاد مدنظر رکھیے کہ ’’تم لوگ اپنے مناسک مجھ سے حاصل کرو‘‘ (مسلم)

یہ اللہ تعالیٰ کا
وعدہ ہے کہ
حسن عمل پر
جنت، دیدار اور
رسول اللہﷺ
کی رفاقت بھی
نصیب ہوگی۔

حاجی بھائیو!اپنے ذہنوں میں یہ آرزو پیدا کیجیے کہ اگر ہم نے ٹھیک ٹھیک طریقے سے حج کیا، حج کے دوران کوئی بری بات زبان سے نہ نکالی ، کسی سے نوک جھونک نہ کی، کسی کی غیبت اور برائی نہ کی، کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کیا اور حج کے سارے کام مطلوبہ طریقے سے مقررہ وقت پر ادا کیے تو ممکن ہے قیامت کے دن ہمیں اللہ تعالیٰ کے دیدار کا اعزاز حاصل ہوجائے۔
یہ آرزو بے جا نہیں، یہ آرزوحد سے زیادہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حسن عمل کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیتا ہے، بلکہ کچھ زیادہ ہی اجردیتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ، حسن عمل پر جنت کا وعدہ ہے اور دیدار کا بھی۔ رسول اللہﷺکی رفاقت بھی نصیب ہوگی۔

صحابی رسول عبداللہ ابن مسعود ؓ دعا کیا کرتے تھے:’’اے اللہ !میں تجھ سے نہ بدلنے والا ایمان چاہتا ہوں اور نہ ختم ہونے والی نعمت کا خواستگار ہوں اور جنت الفردوس میں نبی محمدﷺ کی رفاقت کی دعا کرتا ہوں۔ ہمیشہ باقی رہنے والی جنت میں۔

27 ramazan umra hajj masjid al haram khana kaba mataf tawaf safa marwa 2
(فوٹو: واس)

حاجی بھائیو!حج کے موقع پر اس دن کی یاد تازہ کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنی نعمت تمام کی تھی۔

اہل ایمان کے لیے دین اسلام مکمل کیا تھا اور سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 3نازل کرکے اعلان کیا تھا۔ ترجمہ دیکھیے:
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیااور تمہارے اوپر اپنی نعمت تمام کردی اور میں نے تمہارے لیے دین اسلام پسند کرلیا‘‘۔

عمرفاروق ؓ فرماتے ہیں :مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس جگہ نازل ہوئی، یہ آیت جمعہ کے روز وقوف عرفہ کے دن ، رسول اللہﷺپر نازل ہوئی تھی۔ (بخاری) 

حاجی بھائیو!اگر آپ کی بیوی حج میں آپ کے ساتھ ہوتو اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ رحمدلی کا اظہار کیجیے، اس کی دلداری کیجیے، اسے سفر حج میں نوازیے، اچھے رفیق سفر بنیے۔

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے سید الانبیاء محمدﷺ کی رفاقت میں حج کیا تھا۔ اچانک وہ زاروقطار رونے لگی تھیں ، آنسو ان کے چہرے پر ٹپکنے لگے تھے، کیوں؟ اس لیے کہ انہیں سفر حج کے موقع پرماہانہ تکلیف ہوگئی تھی جس کی وجہ سے وہ عمرہ سے محروم ہوگئی تھیں، اس کا انہیں بہت زیادہ دکھ تھا۔ 

masjid e ayesha
آپﷺ نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا کہ تم اپنی بہن (عائشہؓ) کو تنیعم لے جاؤ اور وہاں سے یہ عمرہ کی نیت کرکے حرم آئیں

رسول اللہﷺ نے ان کا دکھ محسوس کیا۔ آپﷺ نے ان کی دلداری کی اور انہیں تسلی دی، آپ نے طے کیا کہ ان کی اہلیہ حضرت عائشہؓ حج سے ہنسی خوشی واپس ہوں اور ان کے دل پر ذرہ برابر بھی کوئی بوجھ نہ ہو۔

حج تمام ہوا تو آپﷺ نے عبدالرحمن بن ابی بکر،جو حضرت عائشہؓ کے بھائی تھے، کو  حکم دیا کہ تم اپنی بہن کو تنیعم لے جاؤ اور وہاں سے یہ عمرہ کی نیت کرکے حرم آئیں اور عمرہ کرلیں۔

دراصل حضرت عائشہؓ بڑی اللہ والی خاتون تھیں۔ انہیں یہ غم تھا کہ سب لوگ تو اس سفر میں حج اور عمرے کا ثواب لے کر لوٹیں گے اور وہ صرف حج کا اجر لے کر واپس جائیں گی۔ عمرہ کا ثواب حاصل نہ کرسکیں گی۔

حاجی بھائیو!بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو حج فرض ہوجانے کے باوجود اسے ٹالتے رہتے ہیں ،بوڑھے ہوجاتے ہیں تو حج کے لیے نکلتے ہیں ۔ سوچ یہ ہوتی ہے کہ کم عمری میں حج کرنا ٹھیک نہیں ، جبکہ صحابہ کرام ؓ کا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ 

نوجوان صحابہ پہلی فرصت میں حج کرلیا کرتے تھے۔ توانااور چست ہوتے تھے تب ہی فریضہ حج کی سعادت حاصل کرلیا کرتے تھے۔

روایت میں آتا ہے کہ ایک لڑکا رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضرہوکر کہنے لگا میں حج کرنا چاہتا ہوں۔ آپﷺاس کے ہمراہ چلے اور فرمایا: ’’اے لڑکے اللہ تمہیں خدا ترسی سے نوازے اور تمہیں خیرپسند بنائے اورتمہیں دکھ سے بے نیاز کردے۔

جب وہ لڑکا حج سے واپس آیا تو رسول اللہﷺکی خدمت میں سلام کے لیے حاضر ہوا۔

آپﷺنے سراٹھاکر اس کی طرف دیکھا تو فرمایا: ’’اے لڑکے تمہارا حج قبول ہوگیا۔ تمہارے گناہ معاف ہوگئے اور تمہارے خرچ میں برکت پیدا ہوگی۔‘‘

اسمارٹ حج، مسجد الحرام میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ہجوم مینجمنٹ سسٹم کا خاکہ
حج انتظامیہ اب اس بڑے اجتماع کو ازدحام بننے کے بعد نہیں، بلکہ اس سے پہلے ہی کنٹرول کرتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

خواتین بھی حج کرتی ہیں ، حج کے کئی کام خواتین کی یادگار ہیں۔صفا او رمروہ کی سعی ، اماں ہاجرہ علیہا السلام کی یاد دلاتی ہے۔

آب زمزم کا چشمہ ، اماں ہاجرہ علیہاالسلام کے ایمان،دعااور اللہ سے مناجات کی یاددلاتا ہے کہ وہ اپنے شیرخوار بچے اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے لیے تڑپ تڑپ کر رب العالمین سے پانی عطا کرنے کی دعائیں کررہی تھیں ۔ انہی دعاؤں کا ثمر آب زمزم کا کنواں بھی ہے۔ 

خانہ کعبہ کا طواف کرنے  اور اسلام کا اہم رکن حج ادا کرنے والوں کے ذہن و دماغ میں مکہ مکرمہ کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی پر اعتماد مسلم خاتون کی روشن تصویر اجاگر ہونی چاہیے۔

اماں ہاجرہ علیہاالسلام کے اپنے رب پر توکل کی شان ذہنوں کی اسکرین پر ابھرنی چاہیے۔ اس یادگار وقت کو ذہنوں میں تازہ کیجیے جب ابراہیم علیہ السلام ،ہاجرہ علیہاالسلام اور ان کے ہمراہ ان کے شیر خوار بچے اسماعیل علیہ السلام کو اس جگہ لے کر آئے تھے، جہاں اب مکہ مکرمہ آباد ہے۔ 

انہوں نے ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو بے آب و گیاہ وادی میں بیت اللہ کے قریب ٹھہرادیاتھا۔

اس وقت مکہ آباد نہیں تھا۔ وہاں نہ کوئی انسان تھا اور نہ پانی ۔ ابراہیم علیہ السلام ایک تھیلا جس میں کھجوریں تھیں اور پانی کا ایک مشکیزہ چھوڑکر واپس ہوگئے تھے۔ 

ہاجرہ ان کے پیچھے دوڑی تھیں، وہ پوچھتی جاتی تھیں کہ اے ابراہیم! آپ ہمیں یہاں چھوڑ کر جہاں آدم ہے اور نہ آدم زاد ، کہاں جارہے ہو؟ 

ہاجرہ نے یہ جملہ بار بار دہرایا اور جواب نہ ملا تو انہوں نے دریافت کیا: اے ابراہیم! کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ جس پر انہوں نے اس کا جواب اثبات میں دیا۔ 

اس پر ہاجرہ علیہا السلام نے لازوال روشن جملہ کہا تھا جسے تاریخ نے اپنے صفحات میں محفوظ کرلیا۔ 

انہوں نے کہا تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ 

یہ موقع ایسے پختہ ایمان، اللہ پر ایسے مضبوط اعتماد ، اللہ پر ایسے توکل ، اللہ کی ایسی تابعداری اور اللہ سے ایسی مضبوط وابستگی کے لمحوں کی یادتازہ کرنے کا ہے۔

حج بیت اللہ

حج کا موسم ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کی تابناک سیرت کو یاد کرنے کا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں اسلام کے پیغام کی ترویج و اشاعت کے لیے تن من دھن سے کس طرح لگی ہوئی تھیں۔

حج کا موسم اسماء بنت ابی بکر ؓکی اس قربانی اور جانفشانی کو سلام کرنے کا ہے جو وہ جھلسادینے والی دھوپ جھیل کر مکہ سے غارثور تک رسول اللہﷺکوکھانا پہنچانے کے لیے دیا کرتی تھیں کہ رسول اللہﷺغارثورمیں پناہ لیے ہوئے تھے اور مکہ سے مدینہ ہجرت کررہے تھے۔ 

یہ مقام ام المومنین حضرت عائشہؓ کے سفر حج میں پیش آنے والے واقعات اور ان سے ملنے والے اسباق کو یاد کرنے کا ہے کہ وہ اپنے سفر حج میں بھی اپنے پردہ کا کس قدر اہتمام کررہی تھیں؟ 

حج پر خواتین اپنے بچوں کو بھی ضرورت ہوتو لے جاسکتی ہیں۔ایک خاتون حج پر اپنے ہمراہ اپنے بچے کو بھی لے گئی تھیں ۔ انہوں نے رسول اللہﷺکودیکھا تو دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ جی ہاں اور اس کاثواب تمہیں ملے گا۔

اللہ تعالیٰ تمام عازمین کا حج قبول فرمائے اور لغزشوں  و غلطیوں سے درگزر فرمائے۔ (آمین)