اہم خبریں
27 May, 2026
--:--:--

مکہ مکرمہ میں حجامت اور حجام: دلچسپ روایات کی منفرد داستان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

مکہ مکرمہ میں حجامت کا پیشہ صدیوں پر محیط ایک تاریخی روایت رکھتا ہے، جو حج اور عمرے کے شعائر سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
حلق ’سر منڈوانا‘ اور تقصیر ’بال ترشوانا‘ حج و عمرے کی اہم عبادات میں شامل ہیں۔
تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مروہ اور منیٰ کے اطراف حجام صدیوں سے حجاج کی خدمت انجام دیتے آرہے ہیں۔ وقت کے ساتھ اس پیشے میں جدید تبدیلیاں بھی آئیں، مگر اس کی مذہبی اور تاریخی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔

حج اور عمرہ محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ان میں ایسے شعائر شامل ہیں جو روحانی، فقہی اور تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ 

انہی اہم شعائر میں سر کے بال منڈوانا ’حلق‘ یا ترشوانا ’تقصیر‘ بھی شامل ہے، جس کے بغیر حج اور عمرہ مکمل نہیں ہوتے۔ 

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورۂ فتح کی آیت 27 میں اس عمل کا ذکر فرمایا، جبکہ نبی کریم ﷺ نے خود حج اور عمرے کے موقع پر سر مبارک منڈوایا اور بال منڈوانے والوں کے لیے 3 مرتبہ مغفرت کی دعا فرمائی۔ 

اسلامی تعلیمات کے مطابق مرد حضرات کے لیے حلق یعنی پورا سر منڈوانا زیادہ فضیلت رکھتا ہے، جبکہ خواتین کے لیے صرف تھوڑے بال کٹوانے کا حکم ہے۔ 

فقہاء نے اس حوالے سے مختلف احکام بیان کیے ہیں۔ 

بعض علماء استرے سے حلق کو افضل قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک مشین یا قینچی سے بال کٹوانا بھی جائز ہے البتہ مکمل حلق زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔

ChatGPT Image 26 مايو 2026، 02 55 22 م

مزید پڑھیں

علمائے کرام کے مطابق سر منڈوانے کی ترتیب بھی بیان کی گئی ہے۔ 

پہلے سر کے اگلے حصے سے آغاز کیا جائے، پھر دائیں جانب، اس کے بعد بائیں جانب اور آخر میں گدی کے بال صاف کیے جائیں۔ 

بال منڈواتے وقت دعا اور ذکر کی تلقین کی گئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔

مکہ مکرمہ دنیا کا شاید واحد شہر ہے جہاں ہر سال لاکھوں افراد حج اور 

عمرے کی ادائیگی کے دوران حلق یا تقصیر کراتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ اس مقدس شہر میں حجامت کا پیشہ صرف روزگار نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک تاریخی روایت بھی ہے۔ 

تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی مکہ مکرمہ میں مروہ کے قریب حجامت کی جگہیں قائم تھیں، جہاں حجاج اور معتمرین سعی مکمل کرنے کے بعد اپنے بال منڈواتے یا ترشواتے تھے۔ 

ChatGPT Image 26 مايو 2026، 02 58 05 م

تاریخی روایات کے مطابق خلافتِ راشدہ کے دور میں مکہ مکرمہ میں ایک مقام ’دارالحجامین‘ کے نام سے معروف تھا۔ 

بعد ازاں اموی دور میں بھی حجاموں کا کردار نمایاں رہا۔ 

بعض حجام صرف بال کاٹنے تک محدود نہیں تھے بلکہ ’حجامہ‘ یعنی جسم سے فاسد خون نکالنے اور بعض اوقات ختنہ جیسے کام بھی انجام دیتے تھے۔ 

اس طرح حجامت کا پیشہ مکہ کی سماجی زندگی کا اہم حصہ بن گیا۔ 

قدیم مکہ میں حجاموں کی دکانیں زیادہ تر مروہ کے قریب قائم ہوتی تھیں تاکہ سعی مکمل کرنے والے حاجی اور معتمرین آسانی سے حلق یا تقصیر کروا سکیں۔ 

وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ 

غیر ملکی آبادی کے اضافے، جدید آلات کی آمد اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے باعث جدید حجامت کے صالون وجود میں آئے، جہاں برقی مشینوں اور جدید طریقوں نے روایتی انداز کی جگہ لینا شروع کردی۔ 

ChatGPT Image 26 مايو 2026، 03 01 43 م

آج بھی حج کے موسم میں لاکھوں حجاج کی خدمت کے لیے منیٰ اور جمرات کے قریب خصوصی حجامت مراکز قائم کیے جاتے ہیں۔ 

مکہ مکرمہ کی میونسپلٹی حجاج کی سہولت کے لیے مخصوص مقامات پر حجاموں کی دکانیں مہیا کرتی ہے تاکہ حجاج اپنے مناسک آسانی سے مکمل کرسکیں۔ 

تاریخ میں ایسے دلچسپ واقعات بھی ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے بعض حجام صرف پیشہ ور کاریگر نہیں بلکہ دینی اور سماجی شعور رکھنے والے افراد بھی ہوتے تھے۔ 

بعض کو فقہی مسائل کا علم تھا، بعض معاشرتی معاملات سلجھانے میں مہارت رکھتے تھے، جبکہ بعض اپنی ذہانت، ظرافت اور وسیع مشاہدے کی وجہ سے عوام میں خاص مقام رکھتے تھے۔ 

حج کے عظیم سفر میں حلق اور تقصیر محض ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ بندگی، عاجزی، اطاعت اور روحانی پاکیزگی کی علامت ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں حجامت کی تاریخ صرف ایک پیشے کی تاریخ نہیں بلکہ عبادت، تہذیب اور اسلامی روایت کا ایک اہم باب بھی ہے۔