میدانِ عرفات میں مسجد نمرہ کے اطراف لاکھوں حجاج نے خطبۂ عرفہ سننے اور ظہر و عصر کی نمازیں جمع اور قصر کے ساتھ ادا پہنچ گئے ہیں۔
حجاج کی سہولت، ٹھنڈک، طبی امداد اور ہجوم کے نظم و نسق کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے جبکہ شدید گرمی کے پیش نظر متعلقہ اداروں نے حفاظتی ہدایات پر عمل کی اپیل کی۔
آج صبح سویرے ہی حجاج کرام کی بڑی تعداد میدانِ عرفات میں واقع مسجد نمرہ پہنچنا شروع ہوگئی، جہاں انہیں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کے ساتھ ادا کرنی ہیں اور خطبۂ عرفہ سننا ہے۔
روح پرور ماحول، خشوع و خضوع اور عبادت کی کیفیت نے پورے منظر کو ایک منفرد ایمانی فضا میں ڈھال دیا ہے جہاں لاکھوں مسلمان یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کے طلبگار نظر آرہے ہیں۔
مزید پڑھیں
مسجد نمرہ اور اس کے اطراف میں حجاج کی آمد و رفت انتہائی منظم اور رواں رہی، جس کا سہرا متعلقہ اداروں کی مؤثر منصوبہ بندی اور فیلڈ انتظامات کے سر جاتا ہے۔ حجاج کی سہولت اور اطمینان کو یقینی بنانے کے لیے ہجوم کے نظم و نسق، رہنمائی، ٹھنڈک کے انتظامات، پینے کے پانی، طبی خدمات اور ہنگامی امداد سمیت تمام سہولیات کو بھرپور انداز میں فعال رکھا گیا۔
مسجد نمرہ مشاعرِ مقدسہ کی اہم ترین اسلامی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق نبی کریمﷺ کے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبے سے ہے۔
یہ مسجد جبلِ نمرہ کی نسبت سے اسی نام سے معروف ہے اور میدانِ عرفات کے شمالی حصے میں مسجد الحرام سے تقریباً 22 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اسے مشاعر مقدسہ کے دوسرے سب سے بڑے مسجدی مرکز کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
دوسری جانب قومی مرکز برائے موسمیات کے ترجمان حسین القحطانی نے بتایا کہ میدانِ عرفات میں درجہ حرارت بتدریج بڑھ رہا ہے جبکہ نمی کی شرح میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث گرمی اور خشکی کی شدت زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔
انہوں نے حجاج کرام کو براہِ راست دھوپ سے بچنے، کھلی جگہوں میں زیادہ وقت نہ گزارنے اور حتی الامکان سایہ دار یا ٹھنڈی جگہوں پر رہنے کی ہدایت کی، ساتھ ہی متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری حفاظتی رہنما اصولوں پر مکمل عمل درآمد کی بھی تاکید کی۔
ادھر سول ڈیفنس نے حجاج کرام کو پہاڑوں، بلند اور دشوار گزار مقامات پر جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شدید رش کے دوران ایسے مقامات پر چڑھنے سے پھسلنے، گرنے یا شدید جسمانی تھکن جیسے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
سیکیورٹی اداروں نے بھی حجاج پر زور دیا کہ وہ مخصوص پیدل راستوں اور فیلڈ ہدایات کی پابندی کریں، تاکہ ان کے لیے ایک محفوظ، منظم اور پرسکون ماحول یقینی بنایا جا سکے۔
حجاج کرام کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے مملکت کی جانب سے قائم کی گئی موسمیاتی ٹھنڈک اور واٹر مسٹ اسپرے سسٹم بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ جدید انجینئرنگ منصوبہ عرفات، منیٰ اور مزدلفہ میں لاکھوں زائرین کے لیے نسبتاً بہتر اور صحت مند ماحول فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
1438 ہجری میں شروع ہونے والے اس منصوبے کے تحت اب 61 ہزار سے زائد واٹر مسٹ نوزلز 12 ہزار سے زیادہ کولنگ ستونوں پر نصب کیے جا چکے ہیں، جن میں صرف میدانِ عرفات میں تقریباً 4 ہزار کولنگ ستون موجود ہیں۔
ان تمام نظاموں کو تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار میٹر طویل پانی کے نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا ہے۔
یہ جدید ٹیکنالوجی صرف موسم کو خوشگوار بنانے تک محدود نہیں، بلکہ درجہ حرارت میں 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی، گردوغبار میں کمی اور ہیٹ اسٹروک و جسمانی تھکن کے خطرات کم کرنے میں بھی مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔
یہ منصوبے حجاج کرام کی خدمت اور ان کے لیے زیادہ محفوظ اور آرام دہ ماحول فراہم کرنے کے لیے مملکت کی غیرمعمولی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔