جمرات کی رمی حج کے اہم ترین ارکان میں شامل ہے اور ہر سال لاکھوں حجاج اس فریضے کی ادائیگی کے لیے منیٰ میں جمرات پل کا رخ کرتے ہیں۔
سعودی عرب نے حجاج کی حفاظت، سہولت اور ہجوم کو منظم کرنے کے لیے جدید جمرات پل تعمیر کیا، جس میں کئی منزلیں، ہنگامی راستے، نگرانی کے جدید نظام اور وسیع سہولیات شامل ہیں۔
جمرات کی رمی، جسے عام زبان میں ’شیطان کو کنکریاں مارنا‘ کہا جاتا ہے، حج کے اہم مناسک میں شامل ہے۔
آج 10 ذوالحجہ کو حجاج صرف جمرۂ عقبہ کو 7 کنکریاں مارتے ہیں، جبکہ 11، 12 اور 13 ذوالحجہ کو تینوں جمرات پر 7، 7 کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
شرعی اصطلاح میں اسے ’رمیِ جمرات‘ کہا جاتا ہے۔
حجاج کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب نے جمرات پل کا عظیم الشان منصوبہ تیار کیا، جس نے حج کے اس اہم مرحلے کو زیادہ محفوظ اور منظم بنا دیا ہے۔
تقریباً 950 میٹر طویل اور 80 میٹر چوڑے اس پل کو جدید انجینئرنگ اصولوں کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے، جبکہ اس کی بنیادیں مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر مزید توسیع کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔
مزید پڑھیں
جمرات پل کے نیچے زیرِ زمین راستے، متعدد داخلی و خارجی راستے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ہیلی پیڈ، نگرانی کے جدید کیمرے اور آپریشن روم قائم کیے گئے ہیں، جہاں سے پورے علاقے کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔
شدید گرمی کے اثرات کم کرنے کے لیے پانی کی پھوار اور ماحول کو معتدل رکھنے کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
سعودی حکام نے جمرات کے اطراف کھانے پینے کی سہولیات، صحت مراکز، ابتدائی طبی امداد، ہزاروں حجامت مراکز اور صفائی کے انتظامات بھی مہیا کیے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز اور شہری دفاع کے اہلکار ہر وقت موجود رہتے ہیں تاکہ حجاج کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
حجاج کے قافلوں کے لیے باقاعدہ شیڈول مرتب کیا جاتا ہے، مختلف ممالک اور علاقوں سے آنے والے افراد کو الگ اوقات میں رمی کے لیے بھیجا جاتا ہے، جبکہ پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی آمد و رفت کو بھی الگ رکھا گیا ہے تاکہ حادثات اور بھگدڑ جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔
بوڑھے، بیمار، خواتین اور معذور حجاج کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
ایسے افراد کے لیے الیکٹرانک گاڑیوں اور معاون خدمات کا انتظام موجود ہے، تاکہ وہ آسانی کے ساتھ رمیِ جمرات ادا کر سکیں۔
جمرات پل کو مشاعر مقدسہ ٹرین نیٹ ورک سے بھی جوڑا گیا ہے، جس سے حجاج کو رمی کے بعد اپنی منزلوں تک آسان اور محفوظ رسائی حاصل ہوتی ہے۔
جدید منصوبہ بندی، مؤثر نظم و نسق اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے جمرات پل کو حج انتظامات کی ایک نمایاں مثال بنا دیا ہے۔