اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

مشعر الحرام: وہ مقدس سرزمین جہاں درویشی میں رات گزاری جاتی ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مشعر الحرام

مشعر الحرام، جسے مزدلفہ بھی کہا جاتا ہے، حج کے عظیم شعائر میں سے ایک ہے، جہاں حجاج کرام میدانِ عرفات سے واپسی کے بعد 9 اور 10 ذوالحجہ کی درمیانی شب عبادت، دعا، ذکرِ الٰہی اور آرام میں گزارتے ہیں۔
یہ مقام تاریخی، دینی اور روحانی اہمیت کا حامل ہے، جہاں حجاج رمی کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں اور سنتِ نبویؐ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہتے ہیں۔
مسجد مشعر الحرام، جبلِ قزح اور مزدلفہ کی تاریخی حیثیت اسے حج کے اہم ترین مقامات میں شامل کرتی ہے۔

میدانِ عرفات میں وقوف کے بعد جب سورج غروب ہوجاتا ہے تو لاکھوں حجاج کرام بغیر مغرب کی نماز ادا کیے مزدلفہ کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ 

یہ مقدس مقام حج کے عظیم شعائر میں شامل ہے، جہاں حجاج مغرب اور عشا کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور رات بھر عبادت، دعا، ذکرِ الٰہی اور روحانی سکون میں گزارتے ہیں۔ 

مزدلفہ کو ’مشعر الحرام‘ بھی کہا جاتا ہے۔ 

مشعر الحرام کے معنیٰ ’مقدس نشان‘ کے ہیں۔ 

بعض علما کے مطابق یہ مزدلفہ میں واقع جبلِ قزح کا نام ہے، جبکہ بعض کے نزدیک پورا مزدلفہ ہی مشعر الحرام کہلاتا ہے۔ 

مزید پڑھیں

قرآنِ کریم میں بھی اس مقام کا خصوصی ذکر آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے عرفات سے واپسی کے بعد یہاں اپنے ذکر کا حکم دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ سور البقرہ میں ارشاد فرماتا ہے کہ جب تم عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر الحرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو اور اسی طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق مزدلفہ صرف قیام کی جگہ نہیں بلکہ اللہ 

تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے، دعاؤں، تسبیح و تہلیل اور روحانی تربیت کا عظیم مرکز ہے۔ 

زمانۂ جاہلیت میں لوگ یہاں دنیاوی فخر، قصیدہ خوانی اور اجتماعات منعقد کرتے تھے مگر اسلام نے اس مقام کو خالص ذکرِ الٰہی کے لیے مخصوص کردیا۔ 

ChatGPT Image 26 مايو 2026، 12 46 02 م

مزدلفہ میں قیام کے دوران حجاج جمرات کی رمی کے لیے کنکریاں بھی جمع کرتے ہیں۔ 

عام طور پر 49 کنکریاں حاصل کی جاتی ہیں، جن میں 10 ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کے لیے 7 کنکریاں جبکہ بعد کے ایام میں تینوں جمرات کے لیے مزید کنکریاں استعمال کی جاتی ہیں۔ 

مسجد مشعر الحرام اسلامی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ 

یہ مسجد مختلف ادوار میں تعمیر و توسیع کے مراحل سے گزری۔ 

سعودی دورِ حکومت میں خصوصاً شاہ فیصل کے دور میں 1395 ہجری میں اس کی نمایاں توسیع کی گئی۔

مزدلفہ میں
حجاج رمی جمرات
کے لیے کنکریاں
جمع کرتے اور
رات عبادت، دعا
اور ذکرِ الہی میں
گزارتے ہیں

 مسجد جدید اسلامی فنِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے، جس میں بلند مینار، کشادہ ہال، خوبصورت ستون، جدید روشنی کا نظام اور ہزاروں نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔ 
وقت کے ساتھ مسجد کی تعمیر میں کئی اسلامی حکمرانوں نے کردار ادا کیا، جن میں مملوک، عثمانی اور بعد ازاں سعودی دور کی تعمیرات نمایاں ہیں۔ آج یہ مسجد جدید سہولیات سے آراستہ ایک روحانی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔
مزدلفہ مشاعر مقدسہ کے وسط میں واقع ہے، جہاں ایک طرف عرفات اور دوسری جانب منیٰ موجود ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع وسیع میدان ہے۔ مزدلفہ کے مغرب میں وادیٔ محسر بھی واقع ہے، جسے تاریخی اعتبار سے اصحابِ فیل کے واقعے سے جوڑا جاتا ہے۔ احادیث میں اس مقام سے جلد گزرنے کی تلقین بھی ملتی ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق جبلِ قزح پر ماضی میں حاجیوں کی رہنمائی کے لیے چراغ روشن کیے جاتے تھے۔

خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں یہاں روشنیاں لگائی گئیں جبکہ آج سعودی حکومت نے جدید برقی نظام، سڑکیں، روشنی، پانی، وضوخانے، بیت الخلا اور پیدل چلنے والوں کے الگ راستے قائم کیے ہیں۔

ChatGPT Image 26 مايو 2026، 12 47 39 م

حضرت جابرؓ کی روایت کے مطابق نبی کریمﷺ نے مزدلفہ میں فجر کی نماز ادا کی، پھر مشعر الحرام تشریف لے گئے، وہاں دعا، ذکر اور تکبیر و تہلیل فرمائی اور طلوعِ فجر تک قیام کیا۔ 

حضرت علیؓ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یہ قزح ہے، یہاں عبادت کی جاتی ہے اور پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔

مزدلفہ دراصل عرفات اور منیٰ کے درمیان ایک مختصر مگر انتہائی بابرکت پڑاؤ ہے، جہاں حجاج دنیا کی مصروفیات سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں، رات عبادت میں گزارتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں اور اگلے دن کے مناسک کے لیے روحانی اور جسمانی طور پر خود کو تیار کرتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ مشعر الحرام حج کے ان عظیم مقامات میں شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔