مشعر الحرام، جسے مزدلفہ بھی کہا جاتا ہے، حج کے عظیم شعائر میں سے ایک ہے، جہاں حجاج کرام میدانِ عرفات سے واپسی کے بعد 9 اور 10 ذوالحجہ کی درمیانی شب عبادت، دعا، ذکرِ الٰہی اور آرام میں گزارتے ہیں۔
یہ مقام تاریخی، دینی اور روحانی اہمیت کا حامل ہے، جہاں حجاج رمی کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں اور سنتِ نبویؐ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہتے ہیں۔
مسجد مشعر الحرام، جبلِ قزح اور مزدلفہ کی تاریخی حیثیت اسے حج کے اہم ترین مقامات میں شامل کرتی ہے۔
مسجد جدید اسلامی فنِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے، جس میں بلند مینار، کشادہ ہال، خوبصورت ستون، جدید روشنی کا نظام اور ہزاروں نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔
وقت کے ساتھ مسجد کی تعمیر میں کئی اسلامی حکمرانوں نے کردار ادا کیا، جن میں مملوک، عثمانی اور بعد ازاں سعودی دور کی تعمیرات نمایاں ہیں۔ آج یہ مسجد جدید سہولیات سے آراستہ ایک روحانی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔
مزدلفہ مشاعر مقدسہ کے وسط میں واقع ہے، جہاں ایک طرف عرفات اور دوسری جانب منیٰ موجود ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع وسیع میدان ہے۔ مزدلفہ کے مغرب میں وادیٔ محسر بھی واقع ہے، جسے تاریخی اعتبار سے اصحابِ فیل کے واقعے سے جوڑا جاتا ہے۔ احادیث میں اس مقام سے جلد گزرنے کی تلقین بھی ملتی ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق جبلِ قزح پر ماضی میں حاجیوں کی رہنمائی کے لیے چراغ روشن کیے جاتے تھے۔