پر عمل کیا گیا، جن کے تحت مشاعر ٹرین اور خصوصی بسوں کے ذریعے طے شدہ نظام اور شیڈول کے مطابق حجاج کو منتقل کیا گیا، تاکہ نقل و حرکت کو ہموار بنایا جا سکے اور مشاعرِ مقدسہ کے درمیان سفر کے وقت کو کم کیا جا سکے۔
سیکیورٹی اور ٹریفک انتظامیہ نے بھی مزدلفہ جانے والے راستوں پر اپنی موجودگی مزید بڑھا دی۔
مختلف فیلڈ ٹیمیں راستوں پر تعینات رہیں، جبکہ ہجوم کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے، تاکہ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت کے دوران روانی برقرار رکھی جا سکے۔
مزدلفہ حج کے سفر میں تیسرا مقدس مقام شمار کیا جاتا ہے، جو منیٰ اور عرفات کے درمیان واقع ہے۔
حجاج عرفات سے واپسی کے بعد یہاں رات گزارتے ہیں، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرتے ہیں اور جمرات کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں تاکہ یوم النحر کی صبح منیٰ جا کر رمی جمرات انجام دے سکیں۔
دوسری جانب متعلقہ اداروں نے مزدلفہ میں حجاج کے استقبال کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے۔
قیام گاہوں کی تیاری، روشنی کے نظام کی بہتری، واش رومز اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صفائی اور ماحولیاتی صحت کے اقدامات 24 گھنٹے جاری رکھے گئے۔
طبی شعبے نے بھی مکمل تیاری کر رکھی تھی۔
طبی مراکز، ایمرجنسی پوائنٹس اور ایمبولینس سروسز فعال رہیں، جبکہ طبی عملہ اور فیلڈ ٹیمیں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجود رہیں۔
اس کے علاوہ شدید گرمی، جسمانی تھکن اور دورانِ سفر صحت سے متعلق احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی مہم بھی جاری رکھی گئی۔
ہجوم کے مؤثر انتظام کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام، نگرانی کے کیمرے اور چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول سینٹرز بھی استعمال کیے گئے، تاکہ حجاج کی نقل و حرکت کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جا سکے اور کسی بھی صورتحال پر فوری ردعمل دیا جا سکے۔
حجاجِ کرام آج رات مزدلفہ میں قیام کریں گے، سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے رات گزاریں گے، اور عیدالاضحیٰ کی صبح مشعرِ منیٰ کی جانب روانہ ہو کر حج کے بقیہ مناسک مکمل کریں گے، جہاں رمیِ جمرات اور قربانی کے ساتھ حج کا اہم مرحلہ مکمل ہوگا۔