وقوفِ عرفہ صرف حج کا ایک رکن نہیں بلکہ بندے کی روحانی تربیت، توبہ، گریہ و زاری اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کا عظیم مرحلہ ہے۔
حضرت جعفر صادقؒ اور حضرت سفیان ثوریؒ کے درمیان ہونے والی حکمت بھری گفتگو حج کے مختلف مراحل کی روحانی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے، جہاں عرفات کو درِ رحمت، مزدلفہ کو تیاری اور بیت اللہ کی زیارت کو قبولیت کی علامت قرار دیا گیا۔
عرفات کو اللہ کے
گھر کی حاضری سے
پہلے توبہ اور
اجازت طلب کرنے کا
مقام قرار دیا
پھر انہیں قربانی کا حکم دیا جاتا ہے۔ جب وہ اللہ کی رضا کے لیے قربانی پیش کرتے، اپنے سر کے بال منڈواتے اور ظاہری و باطنی پاکیزگی حاصل کرلیتے ہیں، تب وہ اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں انہیں اللہ کے مقدس گھر، خانۂ کعبہ، کی حاضری اور زیارت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔
حضرت سفیان ثوریؒ نے ایک اور سوال کیا کہ ایامِ تشریق میں روزہ رکھنے سے کیوں منع کیا گیا؟
حضرت جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ یہ ایام دراصل اللہ تعالیٰ کی مہمانی اور ضیافت کے دن ہیں۔
جو بندے اللہ کے مہمان بن جائیں، ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ میزبان کی اجازت کے بغیر روزہ رکھیں۔
پھر سوال کیا گیا کہ لوگ غلافِ کعبہ سے کیوں لپٹتے ہیں، جبکہ وہ محض کپڑا ہے جو بذاتِ خود نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا؟
حضرت جعفر صادقؒ نے ایک نہایت مؤثر مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی مثال ایسے غلام کی سی ہے جس سے کوئی خطا سرزد ہوگئی ہو، پھر وہ اپنے آقا کے دامن سے لپٹ جائے، اس امید کے ساتھ کہ اس کی ندامت، آنسو اور عاجزی اسے معافی دلا دیں گے۔
مشہور عالم حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ 10 ذوالحجہ، یعنی یوم النحر، دراصل ’یوم الزیارہ‘ یعنی بارگاہِ الٰہی میں حاضری کا دن ہے۔
اسی روز حاجی جمرات کو کنکریاں مار کر شیطان سے براءت اور نفرت کا اعلان کرتا ہے، قربانی پیش کرتا ہے، اپنے سر کے بال منڈواتا ہے، پاکیزگی اختیار کرتا ہے اور پھر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے۔
اسی مناسبت سے اس طواف کو ’طوافِ زیارت‘ بھی کہا جاتا ہے۔
حافظ ابن قیمؒ کے مطابق یومِ عرفہ کی دعائیں، گریہ و زاری، توبہ و استغفار اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا دراصل اس روحانی پاکیزگی کا عمل ہیں، جو بندے کو اللہ کے گھر کی زیارت کے قابل بناتے ہیں۔
گویا عرفات بندے کی توبہ کا مقام ہے، مزدلفہ روحانی تیاری کا مرحلہ ہے، جبکہ بیت اللہ کی حاضری اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت اور قربِ الٰہی کی علامت ہے۔
حج کا یہی روحانی سفر بندے کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دربار تک رسائی عاجزی، توبہ، انکساری اور کامل بندگی کے راستے سے ہوکر گزرتی ہے۔