اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

وقوف عرفہ: حاضری سے پہلے توبہ اور بارگاہِ الہی میں اجازت طلبی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
وقوفِ عرفہ

وقوفِ عرفہ صرف حج کا ایک رکن نہیں بلکہ بندے کی روحانی تربیت، توبہ، گریہ و زاری اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کا عظیم مرحلہ ہے۔
حضرت جعفر صادقؒ اور حضرت سفیان ثوریؒ کے درمیان ہونے والی حکمت بھری گفتگو حج کے مختلف مراحل کی روحانی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے، جہاں عرفات کو درِ رحمت، مزدلفہ کو تیاری اور بیت اللہ کی زیارت کو قبولیت کی علامت قرار دیا گیا۔

میدانِ عرفات میں وقوف حج کا سب سے عظیم رکن ہے مگر یہ محض ایک عبادتی اجتماع نہیں بلکہ بندے کی اپنے رب کے حضور عاجزی، ندامت، توبہ اور روحانی پاکیزگی کی ایک گہری علامت بھی ہے۔ 

اہلِ علم نے عرفات، مزدلفہ اور بیت اللہ کی حاضری کے درمیان ایک ایسا روحانی ربط بیان کیا ہے جو حج کی حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے۔

مشہور تابعی حضرت سفیان ثوریؒ نے ایک مرتبہ خانوادۂ نبوت کے چشم و چراغ حضرت جعفر بن محمد الصادقؒ سے میدانِ عرفات میں وقوفِ عرفہ اور حج کے بعض اعمال کی حکمت دریافت کی۔ 

انہوں نے سوال کیا کہ وقوفِ عرفہ کو حدودِ حرم کے باہر کیوں رکھا گیا؟ حجاج کو پہلے عرفات میں کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟

مزید پڑھیں

حضرت جعفر صادقؒ نے نہایت حکمت اور معرفت سے بھرپور جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ خانۂ کعبہ دراصل اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، حرم اس کا پردہ اور عرفات گویا اس کے دروازے کی مانند ہے۔ 

جب بندے اللہ کے گھر کی زیارت اور حاضری کا ارادہ کرتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے دروازے پر روکا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کریں، گریہ و زاری کریں، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور عاجزی

 کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں حاضری کی اجازت طلب کریں۔

جب بندے توبہ، استغفار اور رجوع الی اللہ کے ساتھ اس مرحلے سے گزرتے ہیں تو انہیں حرم کی حدود کے قریب آنے کی اجازت دی جاتی ہے، جو مزدلفہ یعنی مشعر الحرام کا مرحلہ ہے۔ وہاں بھی وہ ذکرِ الٰہی، دعا، گریہ و زاری اور عاجزی میں مشغول رہتے ہیں۔

عرفات کو اللہ کے
گھر کی حاضری سے
پہلے توبہ اور
اجازت طلب کرنے کا
مقام قرار دیا

پھر انہیں قربانی کا حکم دیا جاتا ہے۔ جب وہ اللہ کی رضا کے لیے قربانی پیش کرتے، اپنے سر کے بال منڈواتے اور ظاہری و باطنی پاکیزگی حاصل کرلیتے ہیں، تب وہ اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں انہیں اللہ کے مقدس گھر، خانۂ کعبہ، کی حاضری اور زیارت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔
حضرت سفیان ثوریؒ نے ایک اور سوال کیا کہ ایامِ تشریق میں روزہ رکھنے سے کیوں منع کیا گیا؟
حضرت جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ یہ ایام دراصل اللہ تعالیٰ کی مہمانی اور ضیافت کے دن ہیں۔
جو بندے اللہ کے مہمان بن جائیں، ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ میزبان کی اجازت کے بغیر روزہ رکھیں۔
پھر سوال کیا گیا کہ لوگ غلافِ کعبہ سے کیوں لپٹتے ہیں، جبکہ وہ محض کپڑا ہے جو بذاتِ خود نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا؟

حضرت جعفر صادقؒ نے ایک نہایت مؤثر مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی مثال ایسے غلام کی سی ہے جس سے کوئی خطا سرزد ہوگئی ہو، پھر وہ اپنے آقا کے دامن سے لپٹ جائے، اس امید کے ساتھ کہ اس کی ندامت، آنسو اور عاجزی اسے معافی دلا دیں گے۔

ChatGPT Image 26 مايو 2026، 01 40 20 م

مشہور عالم حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ 10 ذوالحجہ، یعنی یوم النحر، دراصل ’یوم الزیارہ‘ یعنی بارگاہِ الٰہی میں حاضری کا دن ہے۔ 

اسی روز حاجی جمرات کو کنکریاں مار کر شیطان سے براءت اور نفرت کا اعلان کرتا ہے، قربانی پیش کرتا ہے، اپنے سر کے بال منڈواتا ہے، پاکیزگی اختیار کرتا ہے اور پھر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے۔

اسی مناسبت سے اس طواف کو ’طوافِ زیارت‘ بھی کہا جاتا ہے۔

حافظ ابن قیمؒ کے مطابق یومِ عرفہ کی دعائیں، گریہ و زاری، توبہ و استغفار اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا دراصل اس روحانی پاکیزگی کا عمل ہیں، جو بندے کو اللہ کے گھر کی زیارت کے قابل بناتے ہیں۔

گویا عرفات بندے کی توبہ کا مقام ہے، مزدلفہ روحانی تیاری کا مرحلہ ہے، جبکہ بیت اللہ کی حاضری اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت اور قربِ الٰہی کی علامت ہے۔

حج کا یہی روحانی سفر بندے کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دربار تک رسائی عاجزی، توبہ، انکساری اور کامل بندگی کے راستے سے ہوکر گزرتی ہے۔