وزارتِ صحت اور وزارتِ حج و عمرہ نے حجاج کو ہدایت کی ہے کہ وہ شام 4 بجے تک میدانِ عرفات میں اپنے خیموں میں ہی قیام کریں تاکہ انہیں سورج کی تیز شعاعوں سے براہِ راست بچایا جا سکے اور حج کے سب سے عظیم رکن کی ادائیگی کے دوران گرمی کی شدت، ہیٹ اسٹروک اور جسمانی تھکن کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
وزارتِ حج و عمرہ نے واضح کیا کہ خطبۂ عرفہ تمام خیموں تک بصری اور صوتی ذرائع کے ذریعے براہِ راست نشر کیا جائے گا، جس سے حجاج کرام اپنی جگہ پر رہتے ہوئے باآسانی خطبہ سن سکیں گے اور انہیں غیر ضروری نقل و حرکت کی ضرورت نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں
وزارت نے جبلِ رحمت پر چڑھنے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ یہ عمل بعض اوقات خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ وزارت کے مطابق حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد نہ صرف مناسک کی ادائیگی کو زیادہ پُرسکون بناتا ہے بلکہ میدانِ عرفات میں حجاج کی نقل و حرکت کو محفوظ اور منظم رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
دوسری جانب وزارتِ صحت نے حجاج کرام کو مقررہ تفویج اوقات کی
پابندی، مسلسل چھتری استعمال کرنے، جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ پانی اور مشروبات پینے، بلند مقامات پر چڑھنے سے گریز کرنے اور مناسک کے دوران مناسب آرام کرنے کی ہدایت کی، تاکہ گرمی سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کیا جا سکے اور حجاج مکمل صحت اور اطمینان کے ساتھ اپنے مناسک ادا کر سکیں۔
قومی مرکز برائے موسمیات میں حج و عمرہ امور کے نگرانِ اعلیٰ ڈاکٹر ترکی حبیب اللہ نے پیش گوئی کی ہے کہ میدانِ عرفات میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ نمی کی شرح 50 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ شمالی اور شمال مشرقی سمت سے 36 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور موسم جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
ڈاکٹر ترکی حبیب اللہ نے بتایا کہ قومی مرکز برائے موسمیات جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے میدانِ عرفات کے موسمی حالات کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، جس میں موسمی ریڈارز، سیٹلائٹ تصاویر، خودکار اور انسانی نگرانی والے موسمی اسٹیشنز، اور فضائی ماحول کی مختلف سطحوں کی پیمائش کے لیے متحرک اسٹیشنز شامل ہیں، تاکہ درست موسمی پیش گوئیاں فراہم کی جا سکیں اور میدان میں کام کرنے والے اداروں کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔